کیا راج ناتھ سنگھ امت شاہ کے لیے دردِ سر بن جائیں گے...سہیل انجم

مودی حکومت میں یہ پہلی بار دیکھاگیا کہ کسی بہت بڑے فیصلے کو 24گھنٹے کے اندر ہی بدل دیا گیا۔ ممکن ہے کہ آر ایس ایس کی جانب سے اشارہ ملا ہو کہ ابھی حکومت کا آغاز ہے کسی تنازعہ کا پیدا ہونا ٹھیک نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ سوال آہستگی کے ساتھ اٹھنے لگا ہے کہ کیا آگے چل کر راج ناتھ سنگھ اور امت شاہ میں ٹکراؤ ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا، کیا راج ناتھ سنگھ امت شاہ اور نریندر مودی دونوں کے لیے دردِ سر بنیں گے یا ایسے کسی ممکنہ ٹکراؤ میں مات کھا جائیں گے۔ اگر چہ یہ سوال ابھی قبل از وقت سمجھا جا رہا ہے لیکن اسے بعض حلقے خارج از امکان بھی تصور نہیں کرتے۔

جب نریندر مودی کی دوسری مدت کے لیے حلف برداری ہونے والی تھی اور یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ بی جے پی صدر امت شاہ کو بھی مرکزی کابینہ میں لیا جا رہا ہے تو اسی وقت یہ سوال اٹھنے لگا تھا کہ اب مودی حکومت میں دوسرے نمبر کی کرسی پر کون فائز ہوگا۔ کیا راج ناتھ سنگھ اب بھی دوسری پوزیشن کے مالک بنے رہیں گے یا پھر وہ اپنی پوزیشن امت شاہ کے ہاتھوں گنوا دیں گے؟


اس وقت سیاسی و صحافتی حلقے اس پر نظر گڑاے ہوئے تھے کہ دیکھیں مودی کے فوراً بعد کس کی حلف برداری ہوتی ہے۔ کیونکہ پروٹوکول کے مطابق وزیر اعظم کے فوراً بعد حلف لینے والا حکومت میں دو نمبر کا سمجھا جاتا ہے۔ مودی حکومت کے دور اول میں یہ پوزیشن راج ناتھ ہی کو حاصل رہی ہے۔

وہ وزیر داخلہ رہے ہیں اور مودی کی غیر موجودگی میں کابینہ کمیٹیوں کی صدارت وہی کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب جبکہ امت شاہ نے جو کہ بی جے پی کو شاندار جیت دلوانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور کابینہ میں بھی لیے جا رہے ہیں تو مودی سے ان کی قربت کے تناظر میں یہ سوال اٹھنا لازمی تھا۔


لیکن جب مودی کے فوراً بعد راج ناتھ سنگھ کو حلف دلایا گیا تو سوال کا جواب مل گیا اور یہ کہا جانے لگا کہ نہیں امت شاہ نہیں راج ناتھ اب بھی حکومت میں دوسرے نمبر کے مالک ہیں۔ لیکن جب قلمدانوں کی تقسیم کے بعد آٹھ کابینہ کمیٹیاں بنائی گئیں اور ان تمام میں امت شاہ کو رکھا گیا اور راج ناتھ سنگھ کو صرف دو میں رکھا گیا اور یہاں تک کہ سب سے اہم سیاسی امور کی کمیٹی میں بھی ان کو نہیں لیا گیا تو یہ بحث اچانک بہت تیز ہو گئی کہ راج ناتھ نہیں امت شاہ ہی مودی حکومت میں دوسرے نمبر کے مالک ہیں۔ پروٹوکول کے اعتبار سے اگر چہ راج ناتھ سنگھ مودی کے بعد آتے ہیں لیکن عملاً راج ناتھ امت شاہ سے پچھڑ گئے ہیں۔ بازی شاہ کے ہاتھ میں آگئی ہے۔

بیشتر نیوز چینلوں پر بھی اس سلسلے میں بحث ہونے لگی۔ کابینہ کمیٹیوں کی تشکیل کے اعلان سے متعلق پریس ریلیز صبح کے وقت جاری کی گئی تھی۔ دن بھر اس پر گفتگو ہوتی رہی۔ ادھر راج ناتھ سنگھ بھی پورے دن سرگرم رہے۔ ان کو اپنی توہین کا احساس ہو رہا تھا۔ لہٰذا وہ آر ایس ایس کے دگج رہنماؤں کے دروازوں پر دستک دیتے رہے یا پھر بذریعہ فون ان سے محو گفتگو رہے۔ بالآخر ان کی کوششیں رنگ لائیں اور رات میں ان کو مزید چار کمیٹیوں میں شامل کر لیا گیا۔ جن میں سیاسی امور کی کمیٹی بھی شامل ہے۔ اس طرح وہ آٹھ تو نہیں لیکن چھ کمیٹیوں میں پہنچ گئے۔ اگر چہ یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہے لیکن اب بھی امت شاہ ان سے دو قدم آگے ہی ہیں۔


مودی حکومت میں یہ پہلی بار دیکھا گیا کہ کسی بہت بڑے فیصلے کو چوبیس گھنٹے کے اندر ہی بدل دیا گیا۔ ممکن ہے کہ مودی اور شاہ کو آر ایس ایس کی جانب سے یہ اشارہ ملا ہو کہ ابھی تو حکومت کا آغاز ہے ابھی سے کسی تنازعہ کا پیدا ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ لہٰذا راج ناتھ سنگھ کو مزید جگہ دی جائے اور سیاسی و صحافتی حلقوں میں اٹھنے والی ایک ایسی بحث کا دروازہ بند کر دیا جائے جو آگے چل کر حکومت کے لیے درد سر بننے والی ہو۔ ورنہ مودی ایک ایسے ایڈمنسٹریٹر سمجھے جاتے ہیں جو اپنے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔

اگر چہ اس وقت مودی اور امت شاہ حکومت اور پارٹی میں سب سے طاقتور اشخاص ہیں لیکن آر ایس ایس میں راج ناتھ سنگھ کے بھی خیرخواہ ہیں اور یہی لوگ ان کو یہاں تک لائے ہیں۔ ورنہ بی جے پی میں ایسے کئی لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ راج ناتھ سنگھ کو اب تک جو کچھ بھی کامیابی ملی ہے وہ ان کی قابلیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ارباب اختیار کے ساتھ بروقت تال میل سے ہی ملی ہے۔


کئی مواقع پر ایسا ہوا کہ راج ناتھ سنگھ صحیح وقت پر صحیح جگہ پہنچ گئے اور کامیابی کا ثمر ان کے ہاتھ لگا۔ خواہ وہ دو بار بی جے پی کی صدارت کا منصب ہو یا اتر پردیش کی وزارت اعلیٰ کا منصب۔ یا پھر مودی کے دور اول میں وزارت داخلہ کی کرسی۔

جب 2014 کے الیکشن میں مودی کو بی جے پی کی جانب سے پہلے پرچار کمیٹی کا سربراہ اور پھر وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنا کر پیش کیا گیا تو ایل کے آڈوانی کے علاوہ جن لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی ان میں سشما سوراج اور راج ناتھ سنگھ بھی شامل تھے۔ آڈوانی نے سب سے بلند آواز اٹھائی تھی کیونکہ ان کو اپنی کرسی چھنتی نظر آگئی تھی اور سشما نے بھی قدرے تیز آواز میں کہا تھا کہ میری طرف سے مخالفانہ نوٹ لکھا جائے۔ لیکن راج ناتھ سنگھ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور پھر خاموش ہو گئے۔


انھوں نے بظاہر مودی کا ساتھ دے دیا۔ حالانکہ انتخابی مہم کے دوران یہ بات اٹھتی رہی ہے کہ کیا واقعی مودی کو وزیر اعظم بنا دیا جائے گا۔ اس بات پر بہت کم لوگوں کو یقین تھا۔ بیشتر یہی کہتے رہے کہ جب ایسا موقع آئے گا تو راج ناتھ سنگھ رِنگ میں اپنا ہیٹ پھینک دیںگے۔ لیکن جب اس بارے میں ان سے سوال کیا جاتا تو وہ یہی کہتے کہ نہیں نہیں مودی ہی پردھان منتری بنیں گے۔

بی جے پی کی کامیابی کے بعد جب مودی حکومت بنی تو راج ناتھ کو مودی سے بظاہر وفاداری کا انعام ملا اور انھیں وزیر داحلہ بنائے جانے کے ساتھ ساتھ حکومت میں دوسری پوزیشن دے دی گئی۔ اس وقت تک امت شاہ کابینہ کے منظر نامے پر نہیں آئے تھے۔


لیکن اب جبکہ وہ یعنی مودی کا سب سے زیادہ اعتماد حاصل کرنے والے، قدم قدم پر مودی کا ساتھ دینے والے اور مودی کو وزارت عظمی تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے امت شاہ وزیر داخلہ بھی بنا دیئے گئے ہیں اور بظاہر اور عملاً بھی دوسرے نمبر کے مالک بھی بن گئے ہیں تو کیا آگے چل کر راج ناتھ سنگھ سے ان کا تصادم ہوگا اور اگر ہوگا تو کیا نتیجہ نکلے گا۔

اگر ایسا ہوا اور مودی اور امت شاہ کی تقدیر نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا تو بازی شاہ کے ہی ہاتھ رہے گی۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ راج ناتھ سنگھ کو مودی کا اعتماد حاصل نہیں ہے اور اب جبکہ شاہ حکومت میں آگئے ہیں تو وہ بداعتمادی اور بھی بڑھتی جائے گی جو کہ ممکن ہے کہ کسی ناخوشگوار موڑ پر جا کر ختم ہو۔ ابھی تو کابینہ کمیٹیوں کے قیام سے پیدا ہونے والا تنازعہ بظاہر ابتدا ہی میں ختم کر دیا گیا ہے لیکن اس قسم کے تنازعات آگے نہیں اٹھیں گے، اس کی گارنٹی کوئی نہیں لے سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 Jun 2019, 7:10 PM