ہندوستان آئین پر چلے گا یا تہذیب کی پیچیدہ تشریح پر... رام پنیانی

جے این یو کی وائس چانسلر شانتی شری دھلی پوڑی نے حال میں کہا کہ ہندوستان تہذیب پر مبنی ملک ہے اور اسے آئین سے بندھا ملک نہیں بننا چاہیے۔

ہندوستانی آئین
ہندوستانی آئین
user

رام پنیانی

کچھ سال پہلے آئین سے دفعہ 370 ہٹایا گیا تھا۔ ہمارے سپریم کورٹ کو ابھی یہ فیصلہ دینا باقی ہے کہ یہ فیصلہ آئینی تھا یا نہیں۔ حال میں نوپور شرما اور دیگر نے جو نفرت بھری باتیں کہیں ان کا تب تک نوٹس نہیں لیا گیا جب تک کہ خلیجی ممالک نے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بے عزتی پر سخت رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ اس وقت بلڈوزر چل رہا ہے اور چن چن کر مسلمانوں کے گھروں کو زمیں دوز کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب ہمارے آئینی اقدار سے میل کھاتا ہے؟

آئینی اقدار کو پرے رکھ کر جو کچھ کیا یا نہیں کیا جا رہا ہے، اسے سمجھنے کے لیے ہمیں ملک پر حکومت کر رہی سیاسی قوتوں کی روش کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا۔ نریندر مودی نے 2014 میں ہی کہہ دیا تھا کہ وہ ہندو نیشنلسٹ ہیں۔ حکمراں پارٹی کی بنیادی تنظیم آر ایس ایس کے ایجنڈے میں ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘ بنانا شامل ہے۔ ان باتوں کی روشنی میں ہم موجودہ حالات کو کیسے سمجھیں؟ جہاں ہم ہندوستانی نیشنلسٹ کی بات کرتے ہیں وہیں آج کے ہندوستان کی سب سے طاقتور پارٹی ثقافتی نیشنلسٹ کی بات کرتی ہے۔

اس سیاست سے جڑے مفکر اور برسراقتدار پارٹی کے اعلیٰ افسران اپنی تقریروں اور بیانات سے موجودہ واقعات کے پیچھے کی حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں۔ ان دنوں ’سولائزیشن نیشن‘ (تہذیب پر مبنی ملک) کی بات چل رہی ہے۔ یعنی ایسے ملک کی جو اپنی تہذیب سے رہنمائی حاصل کرے گا، نہ کہ قانون سے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی کی وائس چانسلر شانتی شری دھولی پوڑی پنڈت نے 21 مئی 2022 کو کہا کہ ہندوستان ’تہذیب پر مبنی ملک‘ ہے اور اسے آئین سے بندھا ملک نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق ’’ہندوستان کو آئین سے بندھا عوامی ملک بنانا، اس کی تاریخ، قدیم وراثت، تہذیب و ثقافت کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ میں ہندوستان کو تہذیب پر مبنی ملک مانتی ہوں۔‘‘

تہذیب کی کیا تعریف ہے؟ ان سبھی دانشور حضرات کا یہ واضح اعتقاد ہے کہ ہندو مذہب ہندوستانی تہذیب کی حقیقی بنیاد ہے۔ وہ تاریخ کی غلط تشریح کے لیے بایاں محاذ مورخین کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان مورخین نے اسلام اور خصوصاً مسلمانوں، اور ان میں بھی مغلوں کو غیر ضروری اہمیت دی ہے۔ انھیں اس بات کا افسوس ہے کہ ہماری قومی گفتگو میں ہندو راجاؤں، مثلاً چول حکومت کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی اور بیرون ملکی مغلوں کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ اس کے علاوہ ہندو راجاؤں کی روش اور کاروبار-تجارت و ثقافت کے ذریعہ دیگر شعبوں پر ان کی فتح کو بھی مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔


ہندو راجہ بنام مسلم راجہ کا تذکرہ اس بنیادی بات کو نظر انداز کرتا ہے کہ وہ سبھی تاناشاہ حاکم تھے اور دونوں مذاہب کے راجاؤں کی فوجیں لوٹ پاٹ کرتی تھیں۔ چول راجاؤں نے جم کر لوٹ پاٹ کی اور وہ سری لنکا سے ہزاروں لوگوں کو غلام بنا کر ہندوستان لائے۔ کیا یہ پرامن انداز میں ہوا ہوگا؟ کیا ان راجاؤں نے لوگوں سے اپیل کی ہوگی کہ آپ برائے کرم ہمارے غلام بن جائیں؟ بودھ راجہ اشوک نے لوگوں کا بہت بھلا کیا۔ اکبر صلح کل (مختلف مذاہب میں خیر سگالی) میں یقین رکھتا تھا۔ ہندو راجہ پشیہ متر شونگ نے کئی بودھ وِہاروں کو تباہ کیا تھا۔ کیا ہم صرف ہندو راجاؤں کو ہندوستانی تہذیب کا نمائندہ مان سکتے ہیں؟

ہندوستان مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا سنگم رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہے صوفی (مسلم) اور بھکتی(ہندو) سنت۔ دونوں نے محبت کو مذہب کا مرکزی عنصر بتایا اور ان کے مرید سبھی مذاہب سے تھے۔ ’سولائزیشن نیشن‘ کی بات کرنے والوں کے برعکس جنگ آزادی کے لیڈروں نے ہندوستان کی تاریخ کو مشمولہ اور ایک دوسرے کو قبول کرنے والا بتایا۔ گاندھی جی نے لکھا ’’مسلم راجاؤں کی حکومت میں ہندو پھلے پھولے اور ہندو راجاؤں کے راج میں مسلمان خوشحال ہوئے۔ انگریزوں کے آنے کے ساتھ جھگڑے شروع ہوئے۔ کیا ہمیں یہ یاد نہیں رکھنا چاہیے کہ کئی ہندوؤں اور مسلمانوں کے آبا و اجداد ایک ہی ہیں اور ان کی رگوں میں ایک سا خون بہتا ہے۔‘‘

گاندھی جی کے شاگرد نہرو نے اپنی کتاب ’ڈسکوری آف انڈیا‘ میں لکھا ہے کہ یہاں مختلف مذاہب اور ثقافتیں ایک دوسرے سے گھلے ملے اور انھوں نے اس تنوع کو جنم دیا جو ہم آج دیکھ سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’ہندوستان ایک ایسے قدیم چرسہ نامہ کی طرح ہے جس پر ایک کے اوپر کئی سطحوں میں چیزیں لکھی گئیں، لیکن ہر نئی سطح گزشتہ سطح کو پوری طرح سے نہیں ڈھک سکی...۔‘‘ اور ’’حالانکہ سطحی طور پر دیکھنے سے ایسا لگ سکتا ہے کہ ہم لوگوں میں زبردست تنوع ہے اور متعدد طرح کے لوگ ہندوستان میں رہتے ہیں، لیکن ہمارے ملک پر اتحاد کی چھاپ بھی بالکل واضح ہے۔ اسی نے ہم سب کو صدیوں سے ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔ خصوصاً تب جب سیاسی افرا تفری ہوئی یا ہم پر کوئی مصیبت آئی۔ ہندوستان کا اتحاد میرے لیے صرف ایک نظریہ نہیں ہے بلکہ ایک جذباتی تجربہ ہے جو مجھے حیران کر دیتا ہے۔‘‘

یہ سب اقدار ملک کی شکل میں تعمیر ہوتے ہندوستان کی نظریاتی بنیاد تھے۔ یہ وہ اقدار تھے جو ابھرتے ہوئے ہندوستان کی نمائندگی کرتے تھے۔ جو لوگ جنگ آزادی سے دور رہے، وہ قدیم ہندوؤں کی تعریف کرتے رہے اور مسلمانوں و عیسائیوں کو باہری بتاتے رہے۔ سریندر ناتھ بنرجی کی کتاب ’انڈین نیشن اِن دی میکنگ‘ اسی ابھرتے ہوئے ہندوستان کے موضوع پر لکھی گئی تھی۔


اس کے برعکس تھے وہ لوگ جو برطانیہ مخالف تحریک کا حصہ نہیں تھے اور جن کی جڑیں زمیندار-پروہت اتحاد میں تھیں۔ انھوں نے مذہب کو نیشنلسٹ سے جوڑا اور اسے ثقافتی نیشنلسٹ کا نام دیا۔ یہ تہذیبی نیشنلسٹ دراصل برہمن وادی ہندو مذہب پر مبنی تھا۔ اس کے سرپرست گولوالکر لکھتے ہیں ’’ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ ملک ’صرف معاشی اور سیاسی حقوق کا گروہ نہیں ہے‘، تہذیب بھی اس کا حصہ ہے۔ ہندوستان کی یہ تہذیب ’قدیم اور اعلیٰ‘ ہندو مذہب ہے جو محبت سے بھرپور ہے اور کسی بھی طرح کے رد عمل کے جذبہ سے سرشار نہیں ہے۔‘‘ امبیڈکر نے بالکل درست لکھا تھا کہ برہمن واد ہندو مذہب کی سب سے بالادستی والی دھارا ہے اور اسے ہی ہندو مذہب مان لیا گیا ہے۔

اس کے پہلے ساورکر نے ہندوتوا کی بنیاد رکھتے ہوئے اسے صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ’مکمل ہندو واد‘ بتایا تھا۔ ان کے مطابق ہندتوا کے عناصر میں شامل ہیں آریہ نسل، سندھ ندی سے لے کر سمندر تک کا خطہ اور ثقافت۔ ثقافت سے ان کا مطلب ہوتا ہے برہمن وادی ثقافت۔ حالانکہ اس کے لیے اکثر زیادہ مناسب برہمن وادی ہندو مذہب کی جگہ صرف ہندو لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کے کئی ابعاد ہیں۔ اس میں چارواک بھی ہے، بدھ اور کبیر بھی اور صوفی، رحیم اور رسکھان بھی۔ جو لوگ پہلے ثقافت نیشنلزم کی بات کرتے تھے، اب وہ ’سولائزیشن نیشن‘ جو آئین سے بندھا نہیں ہے، کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا مطلب وہی ہے- ہندوستانی آئین کے التزامات اور اقدار کی خلاف ورزی۔

(یہ مضمون انگریزی میں لکھا گیا تھا جس کا ہندی ترجمہ امریش ہردینیا نے کیا، اور پھر اس کا اردو ترجمہ کیا گیا)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔