مودی جی بار بار کیوں دہرا رہے ہیں کہ ’مودی جیت گیا ہے، اس بات کو سچ مت ماننا...‘

سال 2019 اور 2004 کے انتخابات میں ایک بنیادی فرق ہے۔ 2004 میں واجپئی کی قیادت میں بی جے پی اپنے کام کی بنیاد پر انتخابات میں گئی تھی اور اسی بنیاد پر ووٹ مانگے تھے، لیکن اس بار ایسا نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تسلیم خان

لوک سبھا انتخابات کے چوتھے دور کی ووٹنگ کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق 60 فیصد سے زائد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ اس اوسط سے دیکھیں تو اس دور میں بھی پہلے کے تین دور کی طرح ہی 60 سے 65 فیصد کے درمیان ہی ووٹنگ رہی۔ پھر بھی بی جے پی کے سب سے بڑے اسٹار اور وزیر اعظم نریندر مودی کو لگتا ہے کہ لوگ ووٹ نہیں ڈال رہے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں پھر سے کہا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ کرنے نکلیں۔

اس اپیل میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس اپیل کے ساتھ جو وجہ وزیر اعظم بتا رہے ہیں، وہ حیران کرتی ہے۔ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ ’’اپوزیشن غلط فہمی پھیلا رہا ہے کہ مودی تو جیت گیا، لیکن اس غلط فہمی میں مت آنا... ووٹ ڈالنے ضرور آنا...۔‘‘ ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب وزیر اعظم نے برسرعام یہ بات کہی ہے کہ ’’مودی جیت رہا ہے، اس غلط فہمی میں مت آنا...۔‘‘ آخر وزیر اعظم کو بار بار ایسا کہنے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟

انتخابی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ زیادہ ووٹنگ ہوتی ہے تو اسے عام طور پر اقتدار مخالف لہر مانا جاتا ہے، یعنی جو بھی پارٹی اقتدار میں ہے اسے ہٹانے کے لیے لوگ زیادہ سے زیادہ ووٹ کر رہے ہیں۔ 2014 میں ایسا ہی ہوا تھا، اور کئی دہائیوں میں پہلی بار ووٹنگ فیصد نے نیا ریکارڈ بنایا تھا اور 65 فیصد کے آس پاس ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ اس انتخاب میں بی جے پی نے 282 سیٹیں جیتی تھیں، جب کہ این ڈی اے کی معاون پارٹیوں کے ساتھ اس کا نمبر 330 سے اوپر تھا۔

انتخابی کوریج پر نکلے تمام صحافی، نیوز چینلوں کے اسٹوڈیو میں بیٹھنے والے سیاسی تجزیہ نگار، اعداد و شمار کی بنیاد پر ہار جیت کا اندازہ لگانے والے سیفولوجسٹ (انتخابی تجزیہ نگار) اور عام طور پر لوگوں کا یہی ماننا رہا ہے کہ اقتدار مخالف جیسی کوئی لہر نہیں ہے۔ ایسے میں اگر ووٹنگ فیصد کم رہتی ہے تو اس سے برسراقتدار بی جے پی اور کم از کم وزیر اعظم کو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن، ووٹنگ کم ہونے سے پی ایم اور بی جے پی دونوں پریشان ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آخر پی ایم ووٹروں کو پرجوش کرنے کے لیے یہ کیوں کر رہے ہیں کہ ’’اب اپوزیشن کہہ رہا ہے کہ مودی جیت رہا ہے اور ووٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کی باتوں میں مت آنا۔ اگر مودی جیت رہا ہے تو بھرپور ووٹنگ کرنا اور زیادہ ووٹوں سے کامیاب بنانا۔‘‘

اپنی فتح کے بارے میں کسی لیڈر یا کم از کم وزیر اعظم کو تو ایسا کہتے نہیں سنا گیا۔ پیر کے روز یہ بات جھارکھنڈ کے کوڈرما میں دہرانے سے پہلے مودی یہی بات وارانسی میں اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے دن بھی صحافیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں۔

آج (پیر، 29 اپریل) جن 72 سیٹوں پر الیکشن ہوا ہے، اس کے ساتھ ملک کی 375 سیٹوں پر ووٹنگ مکمل ہو گئی۔ یعنی ملک کی تقریباً 70 فیصد لوک سبھا حلقوں میں طے ہو چکا ہوگا کہ کون اقتدار میں آ رہا ہے یا آنا چاہیے۔ اب تو ایک تہائی سے بھی کم سیٹیں بچی ہیں جن پر انتخاب ہونا ہے۔ تو پھر یہی اپیل کیوں کہ ’’...یہ مت سمجھنا کہ مودی تو جیت گیا ہے...۔‘‘

دراصل اس الیکشن میں حالات کچھ کچھ 2004 جیسے ہیں۔ جب انڈیا شائننگ کے نعرے کے ساتھ بی جے پی نے انتہائی جوش میں وقت سے پہلے عام انتخابات کرائے تھے۔ کارگل میں پاکستان کو دھول چٹانے کی کامیابی کا پرچم بھی ہاتھ میں تھا، اور بقول اڈوانی (واجپئی حکومت کے دور میں دی گئی ایک تقریر میں) فیل گڈ فیکٹر کام کر رہا تھا۔ لیکن بی جے پی الیکشن ہار گئی تھی۔

تو کیا مانیں کہ اس بار بھی ایسا ہوگا؟ دراصل ایسا کہنا تھوڑی جلد بازی ہوگی۔ ویسے یہ سب کو معلوم ہے کہ انتخابی نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے الیکشن سروے کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ ہی برسراقتدار پارٹی سرکاری ایجنسیوں سے بھی رپورٹ لیتی ہے، جسے عام طور پر زیادہ درست مانا جاتا ہے۔ تو کیا سرکاری ایجنسیاں کچھ اور ہی اشارہ دے رہی ہیں حکومت کو، جس کے سبب پی ایم کو یہ کہنا پڑ رہا ہے۔

ان انتخابات میں ایک بات ایسی ہے جس پر سب متفق نظر آتے ہیں۔ وہ بات یہ ہے کہ اس بار ووٹر اپنے من کی بات سامنے رکھنے میں جھجک رہا ہے۔ کانگریس ڈاٹا اینالیٹکس محکمہ کے سربراہ پروین چکرورتی کے مطابق ’’اس بار کے انتخاب کی سب سے خاص بات ہے، خاموش ووٹر یا ایسا ووٹر جو اپنی پسند کی پارٹی کے بارے میں درست جانکاری نہیں دے رہا ہے۔‘‘ چکرورتی کہتے ہیں کہ ’’ہندی بیلٹ میں ووٹر اپنی پسند کو ظاہر کرتے ہوئے ڈر رہے ہیں، خاص طور سے تب جب ان کی پسند برسراقتدار پارٹی نہ ہو۔ لیکن بی جے پی حامی ووٹر کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔‘‘

تو کیا 2019 کے الیکشن کو 2004 جیسا ماننا درست ہوگا؟ ان دونوں انتخابات میں ایک بنیادی فرق ہے۔ 2004 کے الیکشن میں واجپئی کی قیادت میں بی جے پی اپنے کام کی بنیاد پر الیکشن میں گئی تھی اور عام طور پر اسی بنیاد پر ووٹ مانگے بھی گئے تھے۔ لیکن اس بار کے الیکشن میں بی جے پی اور وزیر اعظم مودی اپنے کام کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگ رہے۔ یہاں تک کہ اس مرتبہ اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کا بھی ذکر نہیں کر رہے۔ اس کے برعکس صرف مودی فیکٹر اور پلوامہ-بالاکوٹ ائیر اسٹرائک کے بعد راشٹرواد کے ایشو پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔

پروین چکرورتی مانتے ہیں کہ اس کا اثر صرف بی جے پی کے کور ووٹ پر ہی نظر آ رہا ہے۔ عام لوگ اس سے متاثر نہیں ہیں۔ چکرورتی کے مطابق اس الیکشن میں ہر سیٹ کے الگ ایشوز ہیں جو قومی نہیں بلکہ بے حد مقامی ہیں۔

تو کیا مانا جائے کہ انہی اسباب کی بنا پر وزیر اعظم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ’’مودی جیت گیا ہے، اسے سچ مت ماننا...!‘‘

next