دہلی فسادات کا راز کیا ہے!... ظفر آغا

دنگے بھڑکے تو شمال مشرقی دہلی کے مسلمانوں کا کوئی آسرا نہیں تھا، مگر گھڑی گھڑی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس وقت دہلی کے مسلمانوں کو یہ سبق سکھانے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

نریندر مودی جہاں حکومت کر یں بھلا وہاں فرقہ وارانہ فساد نہ ہوں یہ کیسے ممکن ہے۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ مودی جی سن 2014 سے دہلی میں بیٹھ کر ہندوستان کی حکومت چلا رہے ہیں لیکن دہلی میں پچھلے ہفتے تک کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ آخر وہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا اور 23 فروری یعنی آج سے ٹھیک ایک ہفتے قبل شمال مشرقی دہلی کے علاقہ میں ہندو-مسلم فساد پھوٹ پڑا۔ وہ بھی ایسا فساد کہ محض دہلی اور ہندوستان ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں اس فساد کا شور مچ گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ تین دن یعنی تقریباً 72گھنٹوں تک شمال مشرقی دہلی جلتی رہی اور دہلی پولیس ، کیجریوال کی دہلی حکومت اور مودی کی مرکزی حکومت تینوں اس فساد کے خاموش تماشائی بنے رہے۔24فروری سے 26 فروری تک یہ عالم تھا کہ اس علاقے میں آگے پولیس ہوتی تھی اور پیچھے پیچھے بلوائی آگ وخون کی ہولی کھیلتے چل رہے ہوتے تھے۔ اس پہ کوئی حیرت ناک بات نہیں تھی کیونکہ دہلی کے حالیہ فساد بالکل گجرات ماڈل پرہی تھے۔ جیسے گجرات میں سن 2002 میں وہاں کی مودی حکومت کے دوران تین دنوں تک پولیس نگرانی میں مسلم نسل کشی ہوتی رہی اور پولس خاموش رہی، ویسے ہی دہلی میں بھی پولیس کی موجودگی اور ان کی زیر نگرانی تین دن تک دنگائی قتل عام مچاتے رہے۔ گجرات کی ہی طرح ہندو فرقہ کے مکانوں اور دکان پر بھگوے جھنڈے لگا دیئے گئے تھے تاکہ بلوائی محض مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچائیں اور ہوا بھی یہی۔ گجرات کی ہی طرح دہلی کے اس علاقے میں بھی مسجد اور مزار پر حملہ ہوا۔ اور اس طرح دنگوں کا گجرات ماڈل دہلی بھی پہنچ گیا۔ صرف دونوں جگہوں کے دنگوں میں فرق صرف اتنا تھا کہ گجرات میں دو ہزار سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا جبکہ دہلی میں اس کالم کے لکھے جانے تک 42 افراد کی موت ہو چکی تھی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر جب امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان کے دورے پر تھے اور وہ دہلی میں ہی موجود تھے تو عین ان کی موجودگی میں دہلی میں دنگے کیوں چل رہے تھے! اس کا ابھی تک کوئی مستند جواب نہیں ہے۔ افواہیں یہاں تک ہیں کہ مودی کے معتمد خاص امت شاہ مودی کی کسی بات پر ناراض تھے اس لئے ٹرمپ کی موجودگی میں اپنے ’صاحب‘ (امت شاہ مودی کو صاحب کہہ کر پکارتے ہیں) کو سبق سکھانے کیلئے خود انہوں نے یہ دنگے کروائے۔ لیکن بات صرف اتنی نہیں ہے۔ بات ماحول کی ہے اور بات اس سیاست کی ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست ہے۔ دہلی میں پورے چناوی کیمپن کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں جس طرح مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا اس نفرت نے دہلی میں پیٹرول کا کام کیا جس پر بی جے پی کے لوکل لیڈر کپل مشرا نے ماچس کی جلتی تیلی پھینکنے کا کام کیا۔ بس پھر جو دنگے بھڑکے تو پھر تو بس اللہ کی پناہ تھی اور دہلی کے شمال مشرقی علاقے کے مسلمانوں کا کوئی آسرا نہیں تھا۔ مگر گھڑی گھڑی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس وقت دہلی کے مسلمانوں کو یہ سبق سکھانے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی!

جی ہاں، دہلی کے دنگوں کا بنیادی مقصد صرف دہلی ہی نہیں بلکہ دہلی کو مثال بنا کر پورے ملک کے مسلمانوں کو سبق سکھانا تھا اور وہ سبق اس بات کے لئے سکھانا تھا کہ آخر اس ملک کے مسلمانوں کی یہ جرأت کیسے ہوئی کہ وہ شاہین باغ جیسا احتجاج کریں! در اصل جب سے دہلی میں شاہین باغ کا شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی و این پی آر مخالف تحریک شروع ہوئی ہے تب سے بی جے پی ہی نہیں تمام سنگھ پریوار بے چین ہے کیونکہ شاہین باغ احتجاج نے سارے ملک میں ایک نئی سیاست کا آغاز کر دیا ہے۔ جو بی جے پی کی مسلم منافرت پر مبنی سیاست سے بالکل مختلف سیاست ہے۔ شاہین باغ نے اس ملک کے لبرل ہندو، سکھ، عیسائی ہی نہیں ہر مذہب کے لوگوں کو مسلمانوں کی حمایت میں شانہ بہ شانہ کھڑا کر دیا ہے۔ اب بتائیے اگر ہندو مسلمان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو کر مودی حکومت کی مخالفت کرنے لگیں تو پھر بھلا بی جے پی کی مسلم منافرت کا اسکوپ کہاں بچے گا۔ چنانچہ اسی ماہ دہلی کے چناؤ میں بی جے پی کی منافرت کی سیاست کے خلاف ہندو، مسلمان اور باقی ہر مذہب و فرقے کے لوگوں نے مل کر بی جے پی کو اس قدر زبردست ہار کا سامنا کروایا تو پھر تو اس کے بعد بی جے پی والوں کا مسلمانوں کے خلاف بِلبلا جانا فطری ہے دہلی کی ہی طرح شاہین باغ کی سیاست اگر سارے ملک میں کامیاب ہو گئی تو پھر تو بی جے پی کی دکان ہی بند ہو جائے گی۔ جیسا آپ واقف ہیں شاہین باغ اب محض دہلی کا ایک علاقہ نہیں کہ جہاں شہریت ترمیمی قانون اور این پی آر و این آر سی کے خلاف احتجاج چل رہا ہے ، شاہین باغ اب ایک تحریک ہے جو آگ کی طرح بی جے پی کی منافرت کی سیاست کے خلاف سارے ملک میں پھیل چکی ہے۔ خبروں کے مطابق پورے ملک میں اب تک 156جگہوں پر شاہین باغ کی طرز پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تحریکیں چل رہی ہیں۔

محض اتنا ہی نہیں، شاہین باغ تحریک کی مخالفت کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ دیکھئے شاہین باغ تحریک کا نشانہ نیا شہری قانون ہے جو آگے چل کر این آر سی کی شکل لے گا۔ نیا شہری قانون وہ قانون ہے جس میں ہندو، سکھ، عیسائی، جینی ہر مذہب کو شریک کر اور مسلمان کو اس فہرست سے باہر رکھ کر بی جے پی نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں۔ ایک تو مذہب کو شہریت کا اہم ترین جز بنا کر ملک کا سیکولر کردار ختم کر ہندو راشٹر کی نیو رکھ دی گئی ، دوسرے یہ کہ مسلمان کو اس فہرست سے باہر کر کے این آر سی کے ذریعہ اس کو ہندوستانی شہریت سے بے دخل کرنے کی تیاری کر لی گئی۔ یعنی جب ہندوستانی مسلمان اپنی شہریت کھو بیٹھے گا تو پھر اس کے تمام حقوق ختم ہو جائیں گے اور اس طرح وہ دوسرے درجے کا شہری ہو جائے گا۔ اس طرح ہندو راشٹر بن جائے گا۔

شاہین باغ تحریک سنگھ اور بی جے پی کی اس بنیادی سیاست کو نہ صرف کمزور کر تی ہے بلکہ ان کے پورے ہندو راشٹر نظریہ اور سیاست کے لئے ایک خطرہ بن گئی ہے۔ اگر اس سیاست کو بدنام نہیں کیا جاتا ہے تو پھر تو نریندر مودی کو برسراقتدار لانے کی پوری مشقت ہی بے کار ہو جائے گی۔ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے دنگے شاہین باغ تحریک کو بدنام کرنے کی جانب پہلا قدم تھا اور کوشش یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دہلی کے ماڈل پر پورے ملک میں جگہ جگہ اس قسم کا ماحول بنایا جائے کہ جن سے شاہین باغ تحریک بدنام ہو اور پورے ملک میں جو ایک نئی ہندو مسلم اتحاد کی فضا بن رہی ہے وہ بکھر جائے۔

دہلی کے فساد اس جانب پہلا قدم ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا! اس لئے جہاں جہاں بھی شاہین باغ تحریک چل رہی ہے وہاں وہاں انتہائی پُر امن طریقے سے ہندو مسلم اتحاد برقرار رکھنے کی ہر کوشش جاری رہنی چاہیے۔ اس سلسلہ میں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ اقلیتوں کا کوئی جلوس سڑکوں پر ہرگز نہ نکلے۔ دہلی کے جعفرآباد میں یہ غلطی ہوگئی کہ وہاں چل رہی تحریک نے دھرنے کے بجائے ایک جلوس کی شکل اختیار کر کے علاقے کے میٹرو اسٹیشن کو گھیر لیا بس فوراً بی جے پی والوں کو کاؤنٹر جلوس نکالنے کا موقع مل گیا جو دیکھتے دیکھتے دنگوں کی شکل اختیار کر گیا۔ پھر جو ہوا آپ اس سے واقف ہیں اس لئے خدارا اس تحریک کو سڑکوں پر جلوس کی شکل ہرگز نہ دیں۔ انتہائی پُر امن رہیں اور صبرواستقلال سے کام لیں تب ہی شاہین باغ تحریک کامیاب ہوگی۔ اگر کوئی لغزش ہوئی تو نہ صرف دہلی کی طرح خمیازہ بھگتنا پڑے گا بلکہ نئے شہری قانون ملک کو باقاعدہ ہندو راشٹر بنا ہی دے گا۔

Published: 1 Mar 2020, 9:09 AM