جھارکھنڈ کو لنچستان بتانے پر مودی کو غصہ کیوں آیا؟ ... سہیل انجم

کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے بجا طور پر کہا کہ جھارکھنڈ لنچنگ میں لوگوں کو مار دینے کا اڈہ بن گیا ہے لیکن اس پر وزیر اعظم نریندر مودی کو جانے کیوں مرچی لگ گئی!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

جب سے ملک میں مودی حکومت قائم ہوئی ہے ہجومی تشدد کا ایک نیا کلچر پیدا ہو گیا ہے۔ کہیں بھی کسی ایک شخص کو کسی بھی الزام میں پکڑ لیا جاتا ہے اور پھر ایک بھیڑ جمع ہو کر اس کی پٹائی کرنے لگتی ہے۔ بھیڑ اس قدر مشتعل، وحشی اور بیدرد ہو جاتی ہے کہ وہ جان لے لیتی ہے۔ جھارکھنڈ کے تبریز کا لرزہ خیز واقعہ تازہ بہ تازہ ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ 2014 سے لے کر اب تک ایسے جانے کتنے واقعات ہو چکے ہیں۔

بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں ایسے واقعات زیادہ ہو رہے ہیں۔ جھارکھنڈ ان میں سرفہرست ہے۔ گزشتہ دنوں لوک سبھا میں صدر کے خطبہ پرشکریہ کی تحریک پر جو بحث ہوئی اس میں کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے حکومت کی دھجی بکھیر کر رکھ دی۔ انھوں نے بجا طور پر کہا کہ جھارکھنڈ لنچنگ یعنی ہجومی تشدد میں لوگوں کو مار دینے کا ایک اڈہ بن گیا ہے۔ انھوں نے کوئی غلط بات نہیں کہی تھی۔ اگر ہم اعداد و شمار اٹھا کر دیکھیں تو یہ بات بالکل درست ثابت ہوگی۔

لیکن ان کی اس حقیقت بیانی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو جانے کیوں مرچی لگ گئی۔ انھوں نے اپنے جواب میں جھارکھنڈ کو لنچنگ کا اڈہ بتانے پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اس طرح کسی ایک ریاست کو بدنام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ جھارکھنڈ کو ہجومی تشدد کا اڈہ بتانا غلط ہے۔

وزیر اعظم مودی ہر معاملے میں سیاست کھیل جاتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی انھوں نے سیاست کی۔ چند ماہ کے اندر جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ مودی نے یہ بات کہہ کر کہ جھارکھنڈ کو لنچنگ کا اڈہ بتا کر بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے در اصل اپنے ووٹ پکے کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب وہ انتخابی تقریریں کریں گے تو یہ بات ضرور اٹھائیں گے اور کہیں گے کہ کانگریس جھارکھنڈ ریاست کو بدنام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ریاستی عوام کا اعتماد جیتا جائے اور ان کے ووٹ بی جے پی کی جھولی میں ڈالے جائیں۔

لیکن اگر ہم اعداد و شمار دیکھیں تو واقعی جھارکھنڈ لنچنگ کا اڈہ بن گیا ہے۔ پولیس رکارڈ کے مطابق 2016 سے 2019 کے درمیان ہجومی قتل کے کم از کم 14 واقعات ہوئے ہیں۔ ان میں سے سات واقعات 2017 میں ہوئے ہیں اور پانچ 2018 میں۔ سات مارچ 2014 کو ایک شخص ساجد انصاری کو موبائل او رکار چوری کے الزام میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔

اگست 2014 میں سرائے کیلا کے ایک پچاس سالہ شخص رادھا موہن منڈا کو ایک 35 سالہ خاتون کی عصمت دری کے الزام میں لوگوں نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا۔ 18 مارچ 2016 کو مظلوم انصاری اور امتیاز خان کو نام نہاد گائے محافظوں نے ہلاک کر کے انھیں درخت سے لٹکا دیا تھا۔

27 جون 2017 کو بیف کے الزام میں علیم الدین انصاری کو ہلاک کیا گیا۔ ان کے قاتلوں کو سزا ہوئی اور جب وہ ضمانت پر جیل سے رہا ہو کر آئے تو اس وقت کے مرکزی وزیر جینت سنہا نے انھیں ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا تھا۔ 19 اگست 2017 کو مرتضی انصاری کو گوڈا ضلع میں لو جہاد معاملے میں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ 19 ستمبر 2018 کو پلامو میں وکیل خان نامی شخص کو زد و کوب کرکے ہلاک کیا گیا۔

تبریز انصاری کو 18 جون 2019 کو گھنٹوں پیٹا گیا اور پھر اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ 22 جون کو ایک اسپتال میں اس کی موت واقع ہو گئی۔

ان کے علاوہ بھی متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔ اس کے باوجود وزیر اعظم کو یہ بات بہت بری لگی کہ جھارکھنڈ کو ہجومی تشدد کا اڈہ کیوں بتایا جا رہا ہے۔ شاید بی جے پی اور مرکزی حکومت یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ جھارکھنڈ میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال بہتر نہیں ہے۔ اگر بہتر ہوتی تو اس قسم کے واقعات کیوں پیش آتے۔

لیکن نریندر مودی، امت شاہ اور پوری بی جے پی کو اگر لا اینڈ آرڈر کی صورت حال خراب نظر آتی ہے تو ان ریاستوں میں نظر آتی ہے جہاں بی جے پی کی نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کی حکومت ہے۔ ان میں خاص طور پر مغربی بنگال ان کو ایک ایسی ریاست نظر آتی ہے جہاں نظم و نسق بالکل بگڑ گیا ہے۔

جھارکھنڈ میں اتنے زیادہ واقعات پیش آنے کو کیا کہیں گے۔ کیا اسے ایک پرامن صوبہ کہیں گے۔ کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ وہاں قانون شکنی نہیں ہوتی۔ قانون کو اپنے پیروں تلے روندنے والے موجود نہیں ہیں۔ کیا ریاست میں شرپسند عناصر کو قانون کا کوئی ڈر ہے۔ کیا انھیں یہ نہیں معلوم کہ کسی بھی شخص کو خواہ اس نے کیسا ہی سنگین جرم کیوں نہ کیا ہو، پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کا حق کسی کو نہیں۔

اس ملک میں قانون کا راج ہے جنگل کا نہیں۔ قانون کہتا ہے کہ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے پولیس کے حوالے کیا جائے۔ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے گی اور عدالت اس شخص کو سزا دے دی۔ لیکن اگر لوگ خود ہی مجرموں کو سزا دینے لگیں تو اسے کیا کہیں گے اور کیا اس سے انصاف کا بول بالا ہوگا۔

کیا وزیر اعظم کو نہیں معلوم کہ جب سے ملک میں ان کی حکومت آئی ہے گائے کے نام نہاد محافظوں کے ہاتھوں بے شمار لوگ مارے جا چکے ہیں۔ کیا ان کو نہیں معلوم کہ گو رکشک انسانوں کے بھکشک بن گئے ہیں۔ اور اب تو کسی بھی الزام میں کسی کو بھی پکڑ لیا جاتا ہے اور پھر ایک بھیڑ جمع ہو جاتی ہے جو از خود سزا دیتی ہے۔

وزیر اعظم نریند رمودی نے اگر چہ تبریز انصاری کے قتل پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ پورے ہاوس کو اس کا دکھ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے سیاست بھی کھیل دی۔ اگر انھوں نے صرف اتنا کہا ہوتا کہ نوجوان کی ہلاکت کاانھیں دکھ ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے اور جو لوگ ایسی حرکتوں میں ملوث ہوں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے، تو بہت اچھی بات ہوتی۔ لیکن انھوں نے غلام نبی آزاد کے بیان پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ جھارکھنڈ کو بدنام نہ کیا جائے۔

ان کا یہ بیان شرپسند عناصر کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ اظہار ناراضگی کے بجائے ریاستی حکومت کو ہدایت دیں کہ وہ اس قسم کی شرانگیزیوں پر قابو پائے اور موب لنچنگ کو کسی بھی قیمت پر روکے۔ تاکہ ریاست میں قانون کا راج قائم ہو۔

Published: 30 Jun 2019, 7:10 PM