مودی منتر:امیروں کو سرمایہ، غریبوں کو ہندوتوا!

وزیر اعظم نریند مودی

سنگھ نے جو زہر پھیلایا ، اس کے نتیجے میں ملک کو گاندھی جی جیسے بیش قیمت شخص کی زندگی کی قربانی دینی پڑی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صدر جمہوریہ کی تحریک شکریہ پر اپنے خطاب سے ان تمام تجزیہ کاروں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جن کو یہ امید تھی کہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ بردبار ہو جائیں گے اور انہوں نے سنگھ کی شاکھاؤں میں ہندوتوا کی جو خاص چیزیں سیکھی تھیں جیسے منافقانہ بات کرنا، چیخ کے بولنا اور جھوٹ پر انحصار کرنا وغیرہ وہ سب چھوڑ دیں گے۔ شکریہ کی تحریک پر بولتے ہوئے انہوں نے اس کا کھل کر مظاہرہ کیا کہ وہ ہندو راشٹر بھکت ہیں اور شناخت کا اعتراف انہوں نے بحیثیت وزیر اعلی گجرات رائٹر سے بات کرتے ہوئےسال 2013میں کیا تھا ۔اپنے خطاب میں انہوں نے ایک ہندو راشٹر بھکت کی طرح جھوٹ اور آدھی سچائی کا سہارا لیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے گاندھی اور سردار پٹیل کے خوابوں کے ہندوستان کی بات کی۔ وزیر اعظم شائد یہ سوچتے ہیں کہ ملک کو معلوم نہیں ہے کہ ہندو راشٹر بھکتوں نے گاندھی کے ساتھ کیا کیا تھا اور سردار پٹیل ہندو راشٹر بھکت تنطیموں جیسے سنگھ اور ہندو مہاسبھا کے بارے میں کیا خیال رکھتے تھے۔ گاندھی کو ہندوراشٹر بھکت نے ہی قتل کیا تھا۔ سنگھ کے پسندیدہ مصنف کے وی سیتارمیاہ کے مطابق گاندھی ایک بہت بدمعاش اور گنہگار شخص تھا۔ گاندھی کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس نے اعلان کیا ’’جیسے بھگوان کرشن نے گیتا میں کہا تھا ’اچھائی کے تحفظ کے لئے، شیطان کے خاتمہ کے لئے اور سچائی کے قیام کے لئے میں ہر دور میں جنم لوں گا ‘ 30جنوری 1948کی شام شری رام ناتھو رام گوڈسے کی شکل میں آئے اور گاندھی کی زندگی کا خاتمہ کر دیا‘‘۔

جہاں تک سنگھ اور بی جے پی کا سردار پٹیل سے نئی محبت کا تعلق ہے تو ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ سردار پٹیل پہلے وزیر داخلہ تھے جنہوں نے مہاتما گاندھی کے قتل کے سلسلے میں سنگھ پر پابندی لگائی تھی۔ سردار پٹیل نے 11ستمبر 1948کو اس وقت کے سنگھ سربراہ گولوالکر کو ایک خط میں تحریر کیا تھا کہ گاندھی کے خلاف جو سنگھ نے زہر پھیلایا تھا اس کے نتیجے میں ملک کو گاندھی جی جیسے بیش قیمت شخص کی زندگی کی قربانی دینی پڑی۔ سنگھ کے لوگوں نے گاندھی جی کے قتل پر خوشی کا اظہارکیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں‘‘۔

جب وزیر اعظم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو یہ بہت مزحکہ خیز لگتا ہے کہ وہ شخص جو سنگھ کا متحرک رکن رہا ہو اورجو گولوالکر کے نظریہ سے متاثر ہوکر ہی سیاسی رہنما بنا ہو وہ جمہوریت کی بات کرے۔مودی کے اس گرو (گولوالکر) نے 1940میں سنگھ کے ہیڈ کواٹر ریشم باغ میں سنگھ کے 1350سینئر پرچارکوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا ’’سنگھ ایک پرچم، ایک قائد اور ایک نظریہ پر یقین رکھتا ہے اس کا مقصد ہے کہ اس عظیم ملک کے کونے کونے میں ہندوتوا کی شمع جلے‘‘ ۔ مودی کے دور میں بالکل یہی کام ہو راہ ہے۔ہندوستانی خوف اور غیر اعلانیہ کرفیو کے ماحول میں جی رہے ہیں۔

مودی کے دور میں جمہوریت صرف چند سرمایہ داروں اور کاروباریوں کے گروہ کے لئے ہے۔ معروف کالم نگار اور اعلانیہ مودی بھکت تولین سنگھ نے گزشتہ ہفتہ تحریر کیا کہ ’’جن گاؤں کا میں نے دورہ کیا وہاں بنیادی سہولیات ہی موجود نہیں تھیں۔ وہاں پر لوگوں کے گھر چھپر اور مٹی کے تھے اورغربت انتہا کی تھی۔ مجھے کوئی بھی شخص ایسا نہیں ملا جس کے پاس موبائل فون ہو یاان کے گھر پر ٹی وی ہو۔ گاؤ ں میں نہ تو طبی مراکز تھے، نہ سڑکیں تھیں اور نہ ہی کسی قسم کی عوامی خدمات کی چیزیں۔ اس قسم کی غربت بہت سی ریاستوں میں ہے جہاں سال 2014میں بی جے پی جیتی ہے۔ میں نے داووس میں وزیر اعظم کو سنا کہ وہ کس طرح اپنی حکومت کی تعریف کر رہے تھے مگر مجھے یہ کچھ عجیب سا لگا‘‘۔

مودی حکومت میں بس ایک بات ہے کہ سرمایہ کا بہاؤ یکطرفہ ہے اور اس کا رخ صرف امیروں کی جانب ہے ۔ غریب ہندوستانیوں کی اکثریت کے جینے کے لئے صرف ہندوتوا ہے۔ مودی منتر یہ ہے کہ امیروں کو سرمایہ اور غریبوں کو ہندوتوا۔

مودی اس بات پر غصہ ہیں کہ کانگریس تقسیم ہندوستان کے لئے راضی ہو گئی ۔ یہ سچ ہے کہ کانگریس تقسیم کے لئے رضامند ہوئی اور سردار پٹیل پہلے کانگریس کے پہلے رہنما تھے جنہوں نے وائس رائے ماؤنٹ بیٹن کی رائے سے اتفاق کیا تھا۔ لیکن اس وقت ہندو شدت پسند کیا کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر اس بات کا اظہار کر دیا کہ ہندوستان ایک قوم نہیں ،بلکہ دو قومیں ہیں یعنی ہندو اور مسلمان ۔ مسلم لیگ کی پاکستان کے لئے قراداد سے بہت پہلے سنگھ کے عزیز ساورکر نے 1937میں احمد آبادمیں منعقد ہندو مہاسبھا کے 19ویں اجلاس میں یہ اعلان کیا تھا’’آج ہندوستان ایک ملک نہیں ہے بلکہ دو ملک ہیں ایک ہندو اور دوسرا مسلم‘‘۔

مودی چاہتے ہیں کے ہم تحریک آزادی میں اس ہندو گینگ کی دھوکے بازیوں کو بھول جائیں۔ ہندوستان چھوڑو تحریک (کویٹ انڈیا موومنٹ) کے دوران جب کانگریس پر پابندی عائد ہوئی تو اس وقت یہی ہندو مہاسبھا تھی جس نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر بنگال، سندھ اور فرنٹیر میں مخلوط حکومتیں چلائی تھیں۔ صرف یہی نہیں، ساورکر کی قیادت میں ہندو مہاسبھا نے اس وقت پورے ملک میں برطانوی فوج کے لئے بھرتی کیمپوں کا انعقاد کیا ۔جب نیتاجی سبھاش چندر بوس فوجی طریقہ سے ہندوستان کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ساور کر یہ سب سنگھ کی مکمل حمایت کے ساتھ کر رہے تھے۔

اگر ایک طرف مسلم لیگ علیحدہ مسلم ریاست کا جھنڈا بلند کئے ہوئےتھی تو دوسری جانب سنگھ بھی سیکولرجمہوری ہندوستان کی جگہ ہندو ریاست کا مطالبہ کر رہا تھا۔

مودی کی نفرت کا خصوصی حدف تھے جواہر لال نہرو۔ ان کی نظر میں نہرو ہی ہندوستان کی تمام خرابیوں کے لئے ذمہ دار ہیں۔ نہرو جو گاندھی جی کے معتمد خاص تھے ۔ ان کا انتقال 1964میں ہو گیا تھا اور اگر کوئی شخص کسی کے انتقال کے 55سال بعد اس کی بے عزتی کرے اور اس کی تنقید کرے تو اس سے اس شخص کے بیمار ذہن کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہندو راشٹر بھکت وزیر اعظم کے کردار کے بارے میں پتہ لگتا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نہرواس ہندوتوا کا سب سے بڑا دشمن ہے جو ہندوستان کی جمہوری سیکولر سیاست کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ ہرہندوتوا حکمراں کو یہ معلوم ہے کہ گاندھی کے قتل کے با وجود اور برسوں پہلے نہرو کی وفات کے با وجود وہ ہندوستانی نظریہ جس پر ان دو قائدین نے عمل کیا، اس نظریہ سے ہندوتوا حکمراں آج بھی کانپ اٹھتے ہیں۔ گاندھی اور نہرو کا قتل روز ہوتا رہے گا۔ لیکن یہ ایک مصمم حقیقت ہے کہ ان کے اس نظریہ کی وجہ سے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد35ممالک آزاد ہوئے تھے، ہندوستان ان میں سے واحد ملک ہے جو سیکولر جمہوری ملک کے طور پر زندہ ہے۔

مودی کا عدم برداشت کامظہر خطاب ایک مرتبہ پھر واضح کرتا ہے کہ جس راستہ نے پاکستان کو تباہ کر دیاآج 71 سال بعد اس راستہ پر ہندوستان کو لے جانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور کانٹا نہرو ہی ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول