لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے...سہیل انجم

اس نظم سے ایک طبقہ خائف ہے۔ اسی لیے اس کے خلاف آئی آئی ٹی کانپور کے ایک فیکلٹی ممبر کی جانب سے شکایت کی گئی ہے اور یہ الزام عاید کیا گیا ہے کہ یہ نظم ہندووں کے خلاف ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

پاکستان کے انقلابی اور حکومت کے باغی شاعر فیض احمد فیض کی ایک نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ یہ نظم سی اے اے مخالف تحریک کے دوران خوب گائی جا رہی ہے۔ اسٹوڈنٹس اور شرکائے تحریک اس سے حوصلہ اور ولولہ حاصل کر رہے ہیں۔ کہیں کوئی اکیلا ہی اسے گا رہا ہے تو کہیں طلبہ کا گروپ گا رہا ہے۔ اس کا ترجمہ بھی ہندی اور انگریزی میں ہو رہا ہے اور یہ نظم انقلاب کی ایک علامت بن گئی ہے۔

لیکن اس نظم سے ایک طبقہ خائف ہے۔ اسی لیے اس کے خلاف آئی آئی ٹی کانپور کے ایک فیکلٹی ممبر کی جانب سے شکایت کی گئی ہے اور یہ الزام عاید کیا گیا ہے کہ یہ نظم ہندووں کے خلاف ہے۔ آئی آئی ٹی کے ذمہ داروں نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو کئی باتوں کے علاوہ اس کا بھی جائزہ لے گی کہ کیا واقعی یہ نظم ہندو مخالف ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس سے کچھ لوگ خائف ہو گئے ہیں۔ بالخصوص حکمراں ٹولہ۔ اس سے قبل بھی اس نظم نے حکمرانوں کی پیشانیاں شکن آلود کی ہیں۔ آئیے پہلے یہ نظم پڑھتے ہیں۔ نظم یوں ہے:

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

جو لوح ازل میں لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہ گراں

روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پاؤں تلے

یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی

اور اہل حکم کے سر اوپر

جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

جب ارض خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردود حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

جو منظر بھی ہے ناظر بھی

اٹھے گا انا الحق کا نعرہ

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

اور راج کرے گی خلق خدا

جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

دراصل اس نظم کا اصل عنوان ہے ’’ویبقیٰ وجہ ربّک‘‘۔ یہ سورۂ رحمان کی آخری آیت کا ٹکڑا ہے جس کا مفہوم ہے کہ صرف اللہ کی ہی ذات باقی رہے گی۔ لیکن اب یہ نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کے عنوان سے پوری دنیا میں مشہور ہو چکی ہے۔ اس وقت سی اے اے کے خلاف جو تحریک چل رہی ہے اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جے این یو کے طلبہ اور دوسرے لوگ بھی اس نظم کو گروپ کی شکل میں گا گا کر حکمرانِ وقت کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ بتانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ یوم حساب ضرور آتا ہے اور ہر حکمراں کے دن ایک نہ ایک دن لد جاتے ہیں۔ یہ نظم ایک فوجی حکمراں کے دور اقتدار میں لکھی گئی تھی۔ وہ فوجی حکمراں تھے جنرل ضیاء الحق۔

جنرل ضیا 1977 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ فیض نے یہ نظم 1979 میں کہی تھی۔ جنرل ضیاء نے اس نظم پر پابندی عاید کر دی تھی۔ انھوں نے ساڑھی باندھنے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ پاکستان کی معروف سنگر اقبال بانو نے اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساڑھی باندھ کر لاہور میں پچاس ہزار کے مجمع میں اسے گایا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ اقبال بانو نے1984 میں یہ نظم گائی تھی۔ اس وقت تک فیض کے انتقال کو دو سال ہو گئے تھے اور جنرل ضیا کے دور حکومت کا خاتمہ ان کے ایک فضائی حادثے کے ساتھ 1988 میں ہوا تھا۔

اس نظم کے خلاف شکایت دراصل شاعری کے بارے میں نا سمجھی کی علامت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اُس مصرعے پر اعتراض ہے جس میں بت اٹھوانے کی بات کہی گئی ہے۔ لیکن شکایت کنندہ اور اس کے حامیوں کو یہ نہیں معلوم کہ مذکورہ مصرعہ ایک علامتی مصرعہ ہے۔ ارض خدا کے کعبے کا مطلب حکمرانوں کے محلات ہیں اور بت سے مراد ان محلات میں بیٹھے ہوئے حکمران وقت ہیں جو عوام سے اپنی پوجا کروا رہے ہیں۔

فیض کہتے ہیں کہ لوح ازل میں یعنی قرآن مجید میں لکھا ہے کہ ایک دن وہ آئے گا جب سب کا حساب کتاب ہوگا اور جب ظالموں کا ظلم ختم ہو جائے۔ چونکہ فیض ایک کمیونسٹ شاعر تھے اس لیے اس نظم میں انھوں نے اپنے کمیونسٹ نظریات بھی داخل کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ظالم حکمرانوں کے تاج اچھال دیئے جائیں گے اور ان کے تخت گرا دیئے جائیں گے تو اس کے بعد اقتدار عوام کے ہاتھ میں آئے گا جو صدیوں سے دبے کچلے اور محرومی کے شکار رہے ہیں۔

اس نظم کو ہندو دشمن کہا جا رہا ہے حالانکہ اس کا ایک مصرعہ اسلام کے نظریات کے منافی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اٹھے گا اناالحق کا نعرہ۔ یہ نعرہ صوفی سرمد نے لگایا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ میں ہی حق ہوں۔ یعنی اللہ کی جو ذات ہے وہی میری بھی ذات ہے۔ ہر ذی روح میں اللہ موجود ہے۔ یہ صوفیا کا نظریہ ہے۔

اسلام کا اصل نظریہ یہ ہے کہ اللہ خالق ہے وہ مخلوق نہیں ہے۔ اس نے سب کو پیدا کیا ہے کسی نے اسے پیدا نہیں کیا ہے۔ سورۂ کوثر میں کہا گیا ہے کہ اس نے نہ کسی کو جنا ہے اور نہ ہی کسی نے اسے جنا ہے۔ اس لحاظ سے اناالحق کا نعرہ اسلام کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے کے حکمراں اورنگزیب نے صوفی سرمد کا سر قلم کروا دیا تھا کہ یہ تو کفر بک رہا ہے۔ انالحق کا نظریہ دراصل ہندووں کے اس نظریے سے میل کھاتا ہے جس میں انسان کہتا ہے کہ میں ہی برھمّ ہوں۔

اس لیے یہ کہنا کہ یہ نظم ہندو مذہب کے خلاف ہے، سراسر جہالت ہے۔ جہالت کی بنیاد پر ہی اس کے خلاف شکایت کی گئی ہے۔ اس معاملے پر کافی بحث و مباحثہ ہو چکا ہے اور اب بھی جاری ہے۔ کسی ایک بھی سنجیدہ شخص نے اس شکایت کی حمایت نہیں کی ہے۔ امید ہے کہ آئی آئی ٹی کی کمیٹی حقیقت حال کو سمجھے گی اور صحیح نتیجے پر پہنچے گی۔