بدعنوانی پر دوہرا معیار کیوں

ہندستانی معیشت کے عالمی معیشت سے ہم آہنگ ہو جانے کی وجہ سے عالمی منڈی تک ہندستانی مصنوعات اور باصلاحیت نوجوانوں کی پہنچ سے ایک نئی دنیا ان کے سامنے آ گئی تھی۔

ویسے تو گزشتہ پارلیمانی الیکشن میں کانگرس کی شکست کے مختلف اسباب تھے اور کسی ایک مسئلہ کو شکست کی وجہ نہیں قرار دیا جا سکتا ۔لیکن بظاہر اس کی سب سے بڑی وجہ بدعنوانی کے وہ پےدر پے واقعات تھے جو کانگریس اور اس کی حکومت پر ایسے چسپاں ہو گئے تھے کہ ان کے اثرات بد سے پارٹی اب تک ابھر نہیں پائی ہے ’ اس معاملہ میں بی جے پی کی حکمت عملی بہت کامیاب رہی اور اسے کامیاب بنانے میں حکومت اور نظام کے ہر شعبه خاص کر میڈیا عدلیہ اور انتظامیہ میں بیٹھے اس کے سرگرم اور در پردہ حامیوں اور کارکنوں نے نمایاں اور قابل تعریف کارنامہ انجام دیا تھا۔ در اصل سیاسی مبصّرین کاخیال ہے کہ 2009 کی شکست کے بعد بی جے پی بری طرح بوکھلا گئی تھی کیونکہ اس کا سب سے قابل اعتماد ووٹ بینک یعنی متوسط طبقہ کا ووٹ کانگریس کی طرف کھسک گیا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ منموہن سنگھ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے خط افلاس پر پہنچ چکا طبقہ متوسط طبقہ میں شامل ہو گیا تھا۔ اس کے پاس نہ صرف روزگار کے مواقع پہنچ گئے تھے بلکہ ضروریات اور آسائش کا سامان بھی پہنچ گیا تھا۔ یعنی معاشی پالیسی کے آغاز اور انسپکٹر کوٹہ پرمٹ راج کے خاتمہ سے ان سب کاموں کے لئے ہونے والی بدعنوانی بھی قریب الختم تھی ، ہندستانی معیشت کے عالمی معیشت سے ہم آہنگ ہو جانے کی وجہ سے عالمی منڈی تک ہندستانی مصنوعات اور با صلاحیت نوجوانوں کی پہنچ سے ایک نئی دنیا ان کے سامنے آ گئی تھی۔

یہ صورت حال اگر جاری رہتی تو بی جے پی کی سیاسی موت ہوجاتی اس لئے آر ایس ایس کے اعلیٰ دماغوں نے بہت سوچ بچار کے بعد اس کی کاٹ تلاش کی، اس کے لئے دو نکاتی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ ایک جانب سماجی سطح پر کانگریس ہی نہیں بلکہ تمام سیکولر پارٹیوں کو ہندو مخالف اور مسلمانوں کی ناز برداری کرنے والی پارٹیاں بتا کے نہ صرف ان پارٹیوں کو بلکہ خود سیکولر ازم کے نظریہ کو ہی معتوب کیا گیا اور دوسری جانب بد عنوانی کو سیاسی اسٹیج پر اہم مقام دے کر اسے ایک بڑا سیاسی ایشو بنا دیاگیا ۔ اس کام کی ذمہ داری سونپی گئی دائیں بازو کے دانشوروں وظیفہ یاب افسروں اور دھننا سیٹھوں کی تنظیم وویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کو جس نے نام نہاد گاندھی وادی نیتا آنا ہزارے کو آگے کرکے ملک میں لوکپال نامی ادارہ کی تشکیل کی مہم شروع کی اس مہم میں اپنی پوری طاقت جھونک دی آر ایس ایس نے، اور پورے ملک میں ایک ایسا ماحول بنا دیا جس سے لگتا تھا کہ عوام اب ملک میں ’ستیگ‘ لانے سے کم کسی بات کو منظور ہی نہیں کریں گے، دوسری جانب سی اے جی ونود راۓ نے 2 جی اور کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کے معاملہ میں اپنی رپورٹ میں ایسا طومار باندھا کہ الامان الحفیظ۔ تخمینی گھاٹے کے وہ اعداد و شمار پیش کئے جسے سن اور پڑھ کر ہی ہوش اڑ جاتے ۔ ادھر ٹی وی والوں نے اپنے حصّہ کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ، سپریم کورٹ نے الاٹ کے گئے اسپیکٹرم کے 122 لائسنس رد کر دئیے جس نے ٹیلی کام سیکٹر کا بھٹہ بیٹھا دیا، اس کے بجائے کہ ان کمپنیوں سے فاضل رقم وصول کرنے کا حکم دیا جاتا سپریم کورٹ نے ان کے لائسنس ہی رد کر دیئے اور اسپیکٹرم نیلام کرنے کا حکم دیا جس سے ڈوبی رقم کا چوتھائی بھی واپس نہیں آیا۔

ٹیلی ویژن والوں نے بد عنوانی کے معاملات کو لےکرایک طرفہ مباحثہ کرا کے اپنےا سٹوڈیوز کو میدان کارزار بنا دیا۔ بحیثیت مجموعی ملک اور بیرون ملک ایسا تاثر دیا گیا جیسے ہندستان میں بدعنوانی کے سوا اور کچھ بچا ہی نہیں ہے ان سب کی وجہ سے ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کا ماحول بری طرح متاثر ہوا۔ اس دور میں ہندستانی عوام نے سنگھی پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر اپنے پیروں پر جس طرح کلہاڑی ماری اس کی مثال اندرون ملک اور بیرون ملک ملنا نا ممکن ہے ، لگتا ہے کہ عوام کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو گئی یہاں تک کہ کب اور کیسے تخمینی گھاٹے کےمعنی گھپلہ ہو گیا پتہ ہی نہیں چلا کیونکہ سی اے جی نے تو تخمینی گھاٹے کی ہی بات کہی تھی جسے بڑی عیّاری کے ساتھ گھپلےکی رقم میں بدل دیا گیا ۔

اور اب کیا ہو رہا ہے بی جے پی کے لیڈروں پر بدعنوانی کے بڑے بڑے الزامات ہیں مدھیہ پردیش کے رسواۓ زمانہ ویاپم گھپلے میں پچاس ساٹھ لوگوں کی جانیں تک جا چکی ہیں بہار کا سرجن گھپلہ وہاں کے چارہ گھپلے سے کم نہیں لیکن لالو یادو جیل میں ہیں اور سشیل مودی جن پر اس گھپلے میں ملوث ہونے کا الزام ہے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ، بدعنوانی کے الزام میں جیل جا چکے یدورپا کو بی جے پی کرناٹک اسمبلی انتخابات کے مد نظر اپنا وزیر اعلی کا امیدوار ڈکلیر کر دیا ہے غریبوں کے منہ سے چاول کا نوالہ چھین لینے والے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ ایمانداری کا سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں۔بوفورس کا گڑا مردہ بار بار زندہ کر دیا جاتا ہے، چدمبرم کے بیٹے کو ایک اور ملزم کے بیان کی بنیاد پر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ بینکوں میں ڈاکہ پڑ جاتا ہے کھربوں روپیہ لے کر لوگ ملک سے باہر آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں، ملک کے زیادہ تر بینک کنگالی کے کگار پر کھڑے ہیں، نورتن کمپنیوں کو بیچا جا رہا ہے، اقتصادی طور سے ملک اندر ہی اندر کھوکھلا ہو چکا ہے، لیکن ان بدعنوانیوں کا کوئی چرچا نہیں ہوتا، گڑے مردے اکھاڑ کر ٹیلی ویژن پر کان پھوڑ دینے والی بحثیں کرائی جاتیں ہیں بڑی ہوشیاری سے عوام کا ذہن غیر ضروری بلکہ سماج اور ملک کے لئے نقصاندہ موضوعات پر منتقل کر کے اصل موضوع سے انھیں بے بہرہ رکھا جا تا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نہ صرف سنگھ کو بر سر اقتدار لانے میں بلکہ اس کے اقتدار کو مستحکم کرنے اور اس کے سپنوں کا ہندستان بنانے کے لئے سنگھ کے سبھی سرگرم اور سلیپنگ سیل اس وقت ایک مقصد کے حصول کے لئے کام کر رہے ہیں اور وہ ہے ملک میں آئینی جمہوریت کو بیحد کمزور اور لچر کر کے اور بنا آئین میں تبدیلی کے اسے عملاً ہندو راشٹر بنا دینا۔

ایسا کیوں ہورہا ہے کہ عدالتیں ، جانچ ایجنسیاں اور میڈیا میں سب کچھ ایک طرفہ ہو رہا ہے ، کیا وجہ ہے کی ائینی عہدہ پر ہوتے ہوئے لالو پرساد یادو کی جانچ ہو سکتی ہے خود یدو رپا کی جانچ ہوئی اور دونو ں کو استعفیٰ دے کر جیل بھی جانا پڑا ، لیکن سہارا برلا ڈائری میں مودی جی کا نام ہوتے ہوئے بھی انھیں ائینی عہدہ پر ہونے کی وجہ سے جانچ سے دور رکھا گیا ۔جبکہ آئین صرف صدر جمہوریہ کو ایسی جانچوں سے بالا تر رکھتا ہے ، کارتک چدمبرم جیل جاتے ہیں لیکن جے شاہ سے پوچھ گچھ بھی نہیں ہوتی۔ ہر چھوٹے بڑے الزام پر کانگریسی عہدیداروں سے استعفیٰ مانگنے والی بی جے پی جب اپنے لیڈروں کی باری آتی ہے تو صاف کہہ دیتی ہے کی بی جے پی میں کوئی استعفیٰ نہیں دیتا اور سب سے شرمناک رویہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کاہے ۔ بد عنوانی پرایک انکشاف پر ہفتوں مباحثہ کرانے اور میڈیا ٹرائل کرکے کردار کشی کرنے والے اینکروں کوجیسے سانپ سونگھ گیا ہے ۔بینکوں میں اتنا بڑا ڈاکہ پڑ گیا ، نوٹ بندی نے سیکڑوں جانیں لے لیں ، اس کی پرتوں کو کھولا جائے تو یہ ایک بہت بڑا اسکیم ثابت ہوگا ، لیکن میڈیا اس کا صرف وہی پہلو منظر عام پر لاتی ہے جو سرکار بتاتی ہے ۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کے تمام جمہوری اور ائینی ادارہ اپنا فرض منصبی تقریباً بھول چکے ہیں اور ملک بنانا ریپبلک بنتا جا رہا ہے یہ صورت حال ملک کے اتحاد اور استحکام کے لئے بہت خطرناک ہے، وطن عزیز سے محبّت رکھنے والے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ ملک میں جمہوری آئین کی حفاظت اور اس کے سیکولر کردار کو بچاے رکھنے میں دامے درمے قدمے سخنے ہر ممکن کوشش کرے۔

سب سے زیادہ مقبول