دہلی اسمبلی کی قرارداد سے ’سی اے اے‘ غائب کیوں؟

پورے ملک کی اقلیتیں اور خاص طور سے دہلی کا اقلیتی طبقہ دہلی انتخابی نتائج کے بعد کیجریوال کے عمل کو دیکھنے کے بعد کافی ناراض نظر آ رہا تھا، بلکہ ناراض تھوڑا ہلکا لفظ ہے، حقیقت میں کافی غصہ تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

بچپن میں ایک کہانی ’پائیڈ پائپر آف ہیملن‘ مجھے بہت اچھی لگتی تھی اور اس کا جو اختتام تھا اس پر میں بہت خوش ہوتا تھا کہ پائیڈ پائپر نے ہیملن کے میئر کو کیا خوب سبق سکھایا۔ لیکن بڑے ہونے کے بعد جو پہلو سامنے آئے انہوں نے اس کہانی کے اختتام پر خوش ہونے کے بجائے سوال کھڑے کر دیے ۔ہیملن جرمنی کا مشہور شہر تھا ، پورا شہر چوہوں کی زیادتی سے پریشان تھا اور حکومت اس مسئلہ کو حل نہیں کر پا رہی تھی۔ اس وقت رنگ برنگے کپڑے پہنے ایک شخص (پائیڈ)آیا اور اس نے میئر سے کہا کہ وہ شہر کو چوہوں کی لعنت سے نجات دلا دے گا، لیکن اس کے بدلے میں اس کو ایک ہزار گلڈر(اس وقت کی کرنسی) بطور انعام چاہئے۔ میئر اتنا پریشان تھا کہ وہ تیار ہو گیا اور پھر پائیڈ پائپر نے بین بجانا شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے تمام چوہے اس کی بین کے پیچھے ہو لئے۔ اس نے ان چوہوں کو ایک دریا میں لے جاکر غرق کر دیا اور شہر کو چوہوں کی لعنت سے نجات دلا دی۔ اس کے بعد میئر اپنے وعدے سے مکر گیا اور اس کو اس کے انعام کی پوری رقم دینے سے منکر ہو گیا۔ وہ چلا گیا اور پھر جب دوبارہ آیا تو اس دن جو اس نے بین بجائی تو ہیملن کے 130 بچے اس کے پیچھے ہو لئے۔ صرف وہ تین بچے ہیملن میں رہ گئے جن میں سے ایک مفلوج ہونے کی وجہ سے نہیں جا پایا، دوسرا بہرا ہونے کی وجہ سے بین کی آواز نہیں سن پایا اور تیسرا نابینہ ہونے کی وجہ سے نہیں دیکھ پایا کہ بچے کدھر جا رہے ہیں۔ کہانی کےاختتام کے بارے میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ میئر نے دباؤ میں رقم دے دی تھی اور بچے رہا ہو گئے تھے۔ دوسرا یہ کہ والدین نے جمع کر کے پائیڈ پائپر کو خوب سارے پیسے دیئے تھے، اور کچھ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ بچوں کے بارے میں کیا ہوا کسی کو نہیں معلوم۔ کہانی بہت دلچسپ تھی اور جس طرح پائیڈ پائپر نے میئر کو سبق سکھایا تھا، اس سے بچپن میں مجھے بہت خوشی ملی تھی۔

جمعہ کی شام کو میں اوکھلے میں اپنے ایک عزیز کے گھر پہنچا تو انہوں نے سب سے پہلے یہ خبر دی کہ کیجریوال نے تو آج اسمبلی میں این پی آر کرانے کو منع کر دیا اور مرکزی حکومت کو خوب دھویا۔ کیونکہ میرے لئے یہ خبر نئی نہیں تھی اس لئے میں نے اس خبر پرزیادہ رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ تھوڑی دیر میں پھر انہوں نے موقع دیکھ کر کیجریوال کی تقریر کا کچھ حصہ سنا دیا۔ اس کے بعد دوسرے موضوع پر بات ہوتی رہی، پھر گھوم پھر کر سی اے اے، این آر سی اور این پی آر پر بات ہونے لگی، تو پھر انہوں نے امانت اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسمبلی میں جو قرارداد پاس ہوئی تھی اس کا ذکر کر دیا۔ اس کے بعد کھانا کھاتے میں ایک اور عزیز جو بعد میں آئے تھے، ان سے بھی کیجریوال کی تقریر کے اسی حصہ کا ذکر کر دیا جس میں کیجریوال نے کہا کہ ’’میری کابینہ کے پاس تو اپنی یوم پیدائش کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لئے ہم تو دہلی میں اس کو لاگو نہیں کریں گے۔‘‘ اس کے بعد صبح کو ایک اور میرے سینئر ساتھی کا پیغام آیا’’دہلی اسمبلی کا تاریخ ساز فیصلہ‘‘۔ میں نے اس کے جواب میں لکھ دیا کہ ’’دہلی پہلی ریاست نہیں ہے اور ایسا فیصلہ ہندوستان کی کئی ریاستیں بہت پہلے کر چکی ہیں۔‘‘

اس سب کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پورے ملک کی اقلیتیں اور خاص طور سے دہلی کا اقلیتی طبقہ انتخابی نتائج کے بعد کیجریوال کے عمل کو دیکھنے کے بعد کافی ناراض نظر آ رہا تھا، بلکہ ناراض تھوڑا ہلکا لفظ ہے، حقیقت میں کافی غصہ تھا۔ غصہ واجب تھا کیونکہ انتخابات میں جنون کی حد تک حمایت کرنے کی وجہ سے جو عام آدمی پارٹی کو دوسری مرتبہ تاریخی جیت حاصل ہوئی تھی، اس کے بعد وہ امید کر رہے تھے کہ کیجریوال شاہین باغ کے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے یا پھر وہ مرکزی حکومت کے خلاف کوئی بیان دیں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے جیتنے کےبعد خود کو ’ہنومان بھکت‘ کے طور پر پیش کیا ۔ انہوں نے کنہیا کمار کے خلاف کیس چلانے کی منظوری کی فائل کلئیر کی۔ انہوں نے فسادات میں دہلی پولیس کی تنقید کرنے کے بجائے تعریف کی اور مرکز سے ہمیشہ لڑنے کا ماحول بنائے رکھنے کے بعد ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان کیا۔

اب جب کیجریوال نے شہریت ترمیمی قانون کا ذکر کئے بغیر این پی اور این آر سی دہلی میں نہ کرانے کی قرارداد اسمبلی میں منظور کرا لی ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر اقلیتوں کے ہیرو بن گئے ہیں۔ یہ بیچارا اقلیتی طبقہ بہت تھوڑی سی چیز سے خوش ہو جاتا ہے اور بڑے سے بڑا گناہ معاف کر دیتا ہے، اس نے کیجریوال کے بھی سب گناہ معاف کر دئے ۔ جہاں ملک کے سیاست داں پائیڈ پائپر نظر آتے ہیں وہیں عوام ان بچوں اور چوہوں کی طرح نظر آتے ہیں جو کسی بھی سیاست داں کی بین کی آواز میں مست ہو کر بین بجانے والے کے پیچھے ہو لیتے ہیں اور اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پائیڈ پائپر ہو یا میئر، ہر حال میں فائدہ میں رہتے ہیں ۔بیچاری اقلیتوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے ہیرو نے اس موضوع کا کوئی ذکر نہیں کیا جس کے لئے ان کے بچوں کی جانیں گئیں اور جس کے لئے ان کی خواتین تین ماہ سے گھر چھوڑ کر سڑکوں پر مظاہرہ پر بیٹھی ہوئی ہیں۔بہت خوف آتا ہے پائیڈ پائپر کو دیکھ کر اوراس کے سامنے غریب معصوم عوام کو دیکھ کر۔

Published: 14 Mar 2020, 4:10 PM
next