شرجیل سے وہ کیوں ڈرتے ہیں؟

مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کو دیکھ کر ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ موجودہ نظام شرجیل نام سے کچھ زیادہ ہی ڈرا ہوا ہے۔ کتاب پڑھنے اور علم حاصل کرنے کی عمر میں انہیں جیل میں قید کیا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ابھے کمار

جے این یو کا ریسرچ اسکالر شرجیل امام ابھی جیل سے باہر بھی نہیں نکل پایا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا بی اے (سیاسیات) کا طالب علم شرجیل عثمانی کو یو پی پولیس نے گرفتار کر 14 دنوں کے لیے جوڈیشل کسٹڈی میں بھیج دیا گیا ہے۔ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کو دیکھ کر ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ موجودہ نظام شرجیل نام سے کچھ زیادہ ہی ڈرا ہوا ہے۔ کتاب پڑھنے اور علم حاصل کرنے کی عمر میں انہیں جیل کی کالی کوٹھری میں قید کیا جا رہا ہے۔ کیا اس ڈر کی وجہ کہیں شرجیل جیسے نوجوانوں کے ساتھ تشخض تو نہیں ہے؟ کیا شرجیل اور ان کے ساتھی ایک خاص کمیونیٹی میں پیدا ہونے کی سزا چھیل رہے ہیں؟

خبر یہ بھی آ رہی ہے کہ گوہاٹی جیل میں بند شرجیل امام کورونا مثبت پائے گئے ہیں۔ ان کے ساتھ اس جیل کے چار سو سے زیادہ قیدیوں کو بھی کورونا پوزیٹو پایا گیا ہے۔ مگر سرکار کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہے۔ اقوام متحدہ، ڈبلیو ایچ او اور بہت ساری انسان حقوق کی تنظیموں نے جیل سے قیدیوں کی رہائی کی بات کی ہے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک جیسے چین، ترکی، انڈونیشیا اور ایران نے اپنے یہاں جیلون کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ جان کی قیمت سبھی کی ایک ہے۔ پھر قیدیوں کو جیل میں رکھ کر انہیں کورونا کا شکار بننے کے لئے چھوڑ دینا غیر انسانی عمل ہے۔ حکومت ہند کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ مگر ناقدین کا ماننا ہے کہ مرکزی حکومت عداوت اور انتقام کے جذبے سے کام کر رہی ہے اور اپنی مسلم مخالف پالیسی کو کورونا وبا کے دوران بھی ترک کرنے کے لیے تیار نہیں دیکھتی۔

مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کے کئی وجوہات ہیں۔ پہلا یہ کہ شرجیل ایک پڑھا لکھا اور ذہین طلب علم ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے مفاد سے زیادہ ملک اور ملت کے بارے میں سوچتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ ان کی آنکھوں میں مساوات اور برابری پر مبنی سماج کا بنانے کا خواب ہے۔ چوتھا یہ کہ دونوں کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ پانچواں یہ کہ دونوں نااںصافی اور ظلمت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ سسٹم ان نوجوانوں سے ڈرا ہوا ہے کیونکہ یہ نوجوان سچ بولنا جانتے ہیں۔ چاہے وہ جے این یو کا شرجیل ہو یا علی گڑھ کا شرجیل ہو، دونوں حق کی بات کرنا جانتے ہیں۔

جنوری کے آخری مہینے میں جے این یو میں پی ایچ ڈی (تاریخ) کر رہے شرجیل امام کو ان کے آبائی وطن جہاں آباد (بہار) سے گرفتار کر جیل بھیج دیا گیا۔ ان کے اوپر سخت ترین یو اے پی اے لگایا گیا ہے، جس میں ضمانت ملنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ تبھی تو ابھی تک وہ جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف ایک نہیں بلکہ کئی ریاستوں کی پولیس نے سیاسی دباؤ میں کیس درج کیا ہے۔ اس کا قصور صرف اتنا ہی ہے کہ وہ شاہین باغ میں ان دنوں چل رہے سی اے اے مخالف مظاہرے میں حصہ لے رہے تھے۔

غور طلب ہے کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس قانون کے تحت افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے غیر مسلمانوں کو شہریت دینے کے لیے ساری رکاوٹیں ختم کر دی گئی ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ جو مذہبی اقلیتیں ان پڑوسی ممالک میں ظلم کی شکار ہیں ان کو بھارت میں پناہ دی جائے گی۔ مگر اس میں سب سے قابل اعتراض بات یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں کو شہریت حاصل کرنے سے محروم رکھا گیا ہے، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان بھارت میں برابر کے شہری نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سی اے اے ہندوستانی آئین میں درج بنیادی اصول سیکولرازم کے خلاف ہے۔

شرجیل ان باتوں کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ اسے پڑھنے کا بڑا شوق ہے اور وہ لکھتا بھی بہت اچھا ہے۔ اس کے مضامین انگریزی، ہندی اور اردو زبانوں میں ملک کے مشہور ویب پورٹلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ اپنی تعلیم کے ساتھ ہی وہ جے این یو کیمپس میں سیاسی اور سماجی تحریکوں میں بھی سرگرم رہا ہے۔ نجیب والے سانحہ میں اس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کیمپس میں بہت سارے لوگ اسے پسند کرتے ہیں، مگر بعض دوستوں کو اس کی بے باکی سے چِڑ بھی ہے، کیوں کہ اس سے ان کی فرضی سیاست کی پول کھل جاتی ہے۔ وہ کیمپس میں ایک الگ رائے رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کو کسی خانے میں قید کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ ہاں اتنا تو ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مسلم اور اسلام مخالف جذبات اور مواد کو پیش کرنے اور اس پر بے باکانہ تبصرہ کرنے کی اس کے اندر زبردست صلاحیت ہے۔

جے این یو آنے سے پہلے شرجیل امام نے آئی آئی ٹی(ممبئی) سے کمپیوٹر سائنس میں اپنی انجینئرنگ پاس کی اور کچھ دنوں تک اچھی تنخواہ والی نوکری بھی کی۔ اس کے پاس ایک بڑا کیرئیر اور ایک خوشحال زندگی کے سارے وسائل موجود تھے، لیکن اس نے ان سارے مواقع کو نظر انداز کر کے جے این یو میں پڑھنے کا ارادہ کیا۔

شرجیل عشمانی عمر میں شرجیل امام سے کافی چھوٹا ہے۔ شرجیل عشمانی علی گرھ میں بی اے کے آخری سال میں تھا۔ اس کا تعلق اعظم گرھ سے ہے جہاں سے اسے گزشتہ ہفتہ گرفتار کیا گیا ہے۔ عمر میں چھوٹا ہونے کے باوجود بھی شرجیل عثمانی کی باتیں بڑی لمبی ہیں۔ کھانے پینے سے کہیں زیادہ اسے چائے پسند ہے۔ اپنی نو عمری میں ہی اس نے علی گڑھ میں اپنی پہچان بنا لی ہے۔ شرجیل امام کی طرح شرجیل عشمانی بھی انجینئرنگ کا طالب علم تھا، مگر اس نے پڑھائی مکمل نہیں کی۔ سماجی اور سیاسی امور میں اس کی دلچسپی نے اسے سماجی علوم کے قریب لایا۔ اس نے سیاسیات پڑھنے کے ساتھ ساتھ، طلبہ سیاست کو بھی قریب سے دیکھنا شروع کر دیا۔ کلاس روم سے زیادہ اسے تحریکیں سکھانے لگیں۔ اسے اب یہ محسوس ہونے لگا کہ جب سیاست پالیسی طے کرتی ہے، تو اس سیاست کو بدلنے کے بارے میں کوشش کرنی چاہیے۔

دیش میں بڑھ رہے مسلم مخلاف ماحول سے شرجیل عثمانی بڑا پریشان رہا کرتا تھا۔ مختلف مظاہروں اور تحریکوں میں وہ اپنی بے چینی کو ظاہر کرتا تھا۔ بھارت میں مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی یا تعلیمی پسماندگی، سسٹم میں موجود ان کے خلاف تعصب کے تلخ حقائق سے وہ روبرو ہونے لگا تھا۔ اسے یہ لگنے لگا تھا کہ ایک آزاد اور سیکولر ملک میں بہت بڑی آبادی کو ان کی شناخت اور تشخص کی وجہ سے دبایا جاتا ہے۔ سی اے اے کے پاس ہونے پر وہ ملک کے دیگر سیکولر اور انصاف پسند لوگوں کی طرح بہت دکھی تھا۔ اس کی مخالف میں وہ تحریک میں شامل ہو گیا، مگر اس نے یا پھر اس کے ساتھیوں نے کبھی بھی امن اور جمہوری طریقے کو نہیں چھوڑا۔ مگر سسٹم کو یہ بات قابل قبول نہیں تھی کہ عوام کے اندر اپنے حقوق کے لیے کوئی شعور پیدا ہو۔ اس لیے اس نے اسے طاقت کے زور پر دبانے کے لیے ایک کے بعد ایک کوششیں شروع کر دیں۔ جامعہ، علی گڑھ پر پولیس کی زیادتی، سی اے اے مخالف مظاہرین پر حملہ اور شرجیل جیسے شماجی کارکنان کی گرفتاری اسی سازش کا حصہ ہے۔

جے این یو میں ایم اے (لسانیات) کی طالبہ اور طلبہ یونین کی کونسلر آفرین فاطمہ شرجیل عثمانی کی قریبی دوست ہیں۔ وہ شرجیل کو علی گڑھ سے ہی جانتی ہیں۔ دونوں کو پڑھنے لکھنے، ڈبیٹ اور سیاست میں بڑی دلچسپی تھی۔ آفرین علی گڑھ کی خواتین کالج کی سابق صدر بھی رہ چکی ہیں۔ شرجیل کی گرفتاری سے وہ کافی اداس ہیں اور کہتی ہہیں کہ 'شرجیل کی سیاسی امور کو لے کر بڑی دلچسپی ہے۔ وہ کشمیر اور فلسطین کے مسئلے کو بھی بڑے قریب سے جانتا ہے۔ ان موضوعات پر اس نے علی گڑھ میں کئی بار ڈبیت اور فلم اسکریننگ بھی کروائی ہے۔ اس کے علاوہ وہ خواتین کے سوال سے بھی اس کو بڑا سروکار ہے'۔ آفرین یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب بی ایچ یو میں کچھ خواتین کے خلاف قانوں پاس کرایا گیا، تو اس نے احتجاج کیا۔

شرجیل عثمانی کو صحافت میں بھی زبردست دلچسپی تھی۔ اس کے مضامین کئی بڑی جگہوں پر شائع ہو چکے ہیں۔ آفرین مزید بتاتی ہیں کہ بات چیت کے دوران شرجیل عثمانی اکثر اپنی ماں کا ذکر کرتا تھا۔ اس کے پاپا اس کی سیاست میں سرگرمی کو دیکھ کر کئی بار ناراض بھی ہوتے تھے، مگر اس کی ماں ہمیشہ شرجیل کی حمایت میں آجاتی۔ شاید اس کی طاقت اس کی ماں ہے۔ شاید جیل میں وہ اپنی ماں کو ہی سب سے زیادہ یاد کر رہا ہوگا۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ جو لوگ اصل معنوں میں تشدد اور دنگوں کے لیے ذمہ دار ہیں، انہیں سسٹم بچا ہی نہیں رہا ہے، بلکہ انعامات سے نوازا بھی جا رہا ہے۔ وہیں دوسری طرف جنہوں نے ملک کے سیکولرازم اور آئین کے لیے پرامن احتجاج کیا، ان کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف کالا قانون تھوپا جا رہا ہے۔ مگر اس سے بھی افسوسناک ہے کہ حکومت وقت مسلم نوجوانوں کے خلاف زیادتی کا پہاڑ گرا رہی ہے۔ شرجیل کے ساتھ ساتھ، میران حیدر، صفورا زرگر اور دیگر بھی ریاستی دمن کے شکار ہوئے ہیں، وہیں دنگا کرانے والوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عدالت اور میڈیا بھی اس نا انصافی کے خلاف خاموش ہے یا پھر حکومت کے ساتھ کھڑا معلوم پڑتا ہے۔ اس موقع پر مجھے 20 ویں صدی کے مشہور شاعر امیر قزلباش کا وہ شعر یاد آرہا ہے کہ

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا۔

(مضمون نگار ابھے کمار جے این یو سے پی ایچ ڈی ہیں، اس مضمون میں ظاہر کئے گئے خیالات مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)
    next