عراق کے نئے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کون ہیں؟

الکاظمی حقیقت پسند ہونے کے ساتھ ساتھ عراقی سیاسی حلقہ کے اہم رہنماؤں کے ساتھ بہتر تعلقات کے لئے جانے جاتے ہیں، وہیں امریکہ سے ان کے بہتر تعلقات پر ایران حامی گروہ میں تشویش بھی پائی جا رہی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

عراق کے نئے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے تقریباً چھ ماہ سے جاری سیاسی کشمکش کے بعد بدھ کے روز ملک کی پارلیمنٹ کی طرف سے نئی حکومت کے لئے منظوری دئے جانے کے ساتھ ہی عہدے کی ذمہ داریوں کو سنبھال لیا ۔ پارلیمنٹ نے اعتماد کا ووٹ حاصل ہونے کے بعد 22 نشستوں کی امکانی کابینہ میں سے 15 وزرا کو منظوری دے دی ۔

ووٹنگ کے دوران پانچ امیدواروں کو مسترد کردیا گیاجبکہ تیل اور خارجہ امور کے اہم عہدوں سمیت سات وزارتیں خالی رہ گئیں۔ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے نامزد دو سابق امیدواروں - محمد توفیق علاوی اور عدنان الظرفی کابینہ کے وزرا میں مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

واضح رہے کہ صدر برہم صالح نے حکومت مخالف مظاہروں کے پس منظر میں گزشتہ ماہ کابینہ تشکیل دینے کے لئے تیسرے امیدوار کے طور پر الکاظمی کو وزیر اعظم نامزد کیا تھا۔ یہ احتجاج اکتوبر 2019 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ہزاروں عراقی سڑکوں پر آ گئے اور ملک کے سیاسی اور بدعنوان حکمران طبقے کےخلاف آواز اٹھانے لگے۔

سرکاری سیکیورٹی فورسز نے احتجاج کے خلاف سخت کارروائی کی جس کے نتیجہ میں سیکڑوں مظاہرین ہلاک ہو گئے، اس کے بعد وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کو استعفی دینے پر مجبور ہو گئے، حالانکہ فروری کے اوائل میں علاوی کو نامزد کئے جانے تک وہ نگران وزیر اعطم کے طور پر کام کر تے رہے۔

بدھ کے روز نئی کابینہ سے متعلق ووٹنگ کے اجلاس سے قبل الکاظمی نے کہا کہ ان کی حکومت مسائل کے بحران پیدا کرنے پر نہیں بلکہ حل پیش کرنے پر توجہ دیگی ۔ انہوں نے جلد انتخابات کا وعدہ کیا اور دوسرے ممالک کے ذریعہ عراق کو میدان جنگ کے طور پر استعمال کو خارج کر دیا۔ وزیر اعظم نے معاشی بحران کے اثرات کو دور کرنے کا وعدہ بھی کیا اور اخراجات کو معقول بنا کر اور تیل کی برآمدات میں عراق کا حصہ بحال کرنے پر زور دیا۔

ابتدائی زندگی

مصطفی عبد لفعت مشتت 1967 میں دارالحکومت بغداد میں پیدا ہوئے ، 1985 میں انہوں نے عراق چھوڑ دیا تھا اور ایران چلے گئے ، جس کے بعد میں وہ جرمنی اور برطانہ چلے گئے، جہاں کے وہ شہری بنے۔ انہوں نے قانون میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ہے اور صحافی کے طور پر کافی مشہور ہوئے۔ انہوں نے بعد میں الکاظمی کا لقب اختیار کر لیا۔ انہیں صدام حسین کی حکمرانی کی مخالفت کرنے کے لئے جانا جاتا تھا۔

2003 میں عراق پر امریکہ کے حملے کے بعد الکاظمی عراق واپس آ گئے اور ’عراقی میڈیا نیٹ ورک ‘ کا قیام کیا۔ساتھی ہی انہوں نے ’عراقی میموری فاؤنڈیشن ‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

الکاظمی نے 2010 سے تین سال تک عراق کی نیوز ویک میگزین کے چیف ایڈیٹر کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ امریکہ کی ال مانیٹر ویب سائٹ کے عراق شعبہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ جون 2016 میں الکاظمی نے عراقی نیشنل انٹلیجنس سروس کے ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالی۔ اپنی مدت کار کے دوران انہوں نے داعش کے خلاف امریکہ کی زیرقیادت بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ کام کرنے والے درجنوں ایجنسیوں اور مملاک کے ساتھ رابطے قائم کئے۔

سنہ 2017 میں سعودی دارالحکومت ریاض کے ایک غیر معمولی دورے کے دوران سابق عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے ہمراہ الکاظمی کو اپنے دوست سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کے ساتھ کافی دیر تک گلے لگتے بھی دیکھا گیا تھا۔ الکاظمی کو عراقی سیاسی میدان کے تمام اہم کھلاڑیوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے علاوہ ایک عملی ذہنیت کے حامل شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اس کا اثر کچھ روز قبل ایران میں بھی دیکھا گیا تھا ۔ ایران اور اس کے اتحادی عراقی فتح سیاسی بلاک نے الکاظمی کی تقرری کی مخالفت کی تھی۔

پچھلے مہینے ایران حامی ایک مسلح گروہ ’کاتب حزب اللہ‘ نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں الکاظمی پر امریکہ سے ساٹھ گانٹھ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ الکاظمی کے ہاتھوں پر ان کے رہنما ابو مہدی المہندس اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی کا خون لگا ہوا ہے۔