جب خواتین نے اپنے آنچل کو پرچَم بنا لیا... سہیل انجم

مجاز نے نصف صدی قبل نوجوان خواتین سے جو مطالبہ کیا تھا آج کی خواتین نے اس پر لبیک کہا ہے اور حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے متعصبانہ قانون کی مخالفت میں وہ سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

مجاز کی ایک نظم ہے ’’نوجوان خاتون سے خطاب‘‘۔ اس میں وہ کہتے ہیں:

حجابِ فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا

خود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھا

تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہے

تو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

مجاز اگر آج زندہ ہوتے اور نوجوان خواتین کے علاوہ معمر خواتین کو بھی شہریت قانون مخالف مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے دیکھتے تو شاید اس سے آگے کی کوئی بات کہتے۔ کیونکہ انھوں نے نصف صدی قبل نوجوان خواتین سے جو مطالبہ کیا تھا آج کی خواتین نے اس پر لبیک کہا ہے اور حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے متعصبانہ قانون کی مخالفت میں وہ سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ انھوں نے اپنے آنچل کو ایک پرچم بنا لیا ہے اور اپنے حجاب کو بھی انقلاب کی ایک علامت بنا دیا ہے۔

خواتین کو دنیا کی نصف آبادی کہا جاتا ہے۔ جب بھی عوام پر کوئی مصیبت ٹوٹتی ہے تو اس کا شکار مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی ہوتی ہیں۔ موجودہ شہریت ترمیمی قانون بھی کسی مصیبت سے کم نہیں اور اس سے جہاں مرد متاثر ہوں گے وہیں خواتین بھی اتنی ہی متاثر ہوں گی۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی تھی کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی میدان میں آتیں۔

لہٰذا وہ میدان میں آگئی ہیں۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی عوام پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے ہیں لیکن اس سے پہلے خواتین کو اس طرح میدان میں اترتے ہوئے نہیں دیکھا گیا تھا۔ ہاں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انھیں مردوں نے ہی راستہ دکھایا ہے۔ پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے اس سیاہ قانون کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور پھر جامعہ کی طالبات بھی ان کے دوش بہ دوش آگئیں۔

جب دہلی پولیس نے جامعہ کی لائبریری میں جلیاں والا باغ کا سین دوہرایا تو اسی روز دو طالبات لدیدہ فرسانہ اور عائشہ رینے کو پوری دنیا نے پولیس کے جبر کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہ دونوں کیرالہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے جس جواں مردی کے ساتھ ایک طالب علم کو پولیس کے ظلم سے بچایا اور جس طرح انھوں نے پولیس والوں کو للکار کہا کہ خبردار آگے مت بڑھنا، پیچھے جاؤ، وہ منظر اپنے آپ میں خواتین کی بہادری کی ایک علامت بن گیا۔ آج وہ دونوں دنیا بھر کی طالبات کے لیے ایک مثال بن گئی ہیں اور ان کی شجاعت کے قصے ہر جگہ بیان کیے جا رہے ہیں۔

اس کے بعد تو طالبات کا ایک ہجوم امڈ پڑا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والے مظاہرے کا ایک لازمی حصہ بن گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ طالبات نے دوسری جگہوں پر بھی پہنچ کر مظاہرے کیے۔ 27 دسمبر بروز جمعہ جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی نے نئی دہلی میں یو پی بھون کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ گزشتہ جمعہ کو یو پی کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اور اس کے بعد پولیس کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرنے پہنچے تھے۔

طلبہ کے ساتھ ساتھ طالبات بھی پہنچیں اور دہلی پولیس نے نہ صرف طلبہ کو بلکہ طالبات کو بھی حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر لیڈیز کانسٹبلس کے ذریعے طالبات کو گھسیٹ گھسیٹ کر اور اٹھا اٹھا کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ طالبات نیوز چینلوں میں بھی پہنچ رہی ہیں اور ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔

طالبات بڑی تعداد میں دوسرے شہروں میں بھی کھل کر میدان میں آگئیں۔ دہلی ہو کہ ممبئی، لکھنؤ ہو کہ کانپور، حیدرآباد ہو کہ بنگلور، چنئی ہو کہ کوکاتا غرضیکہ ہر جگہ خاتون اسٹوڈنٹس پیش پیش نظر آرہی ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طالبات کی مانند جے این یو اور دہلی یونیورسٹی کی طالبات بھی میدان میں آگئی ہیں اور وہ بھی مذکورہ قانون کے خلاف چلنے والے مظاہروں میں برابر کی شریک ہیں۔ وہ بھی تقریریں کر رہی ہیں۔ بینر لیے ہوئے ہیں۔ تختیاں اٹھائے ہوئے ہیں۔ نعرے لگا رہی ہیں اور گروپ کی شکل میں حبیب جالب اور فیض احمد فیض کی نظمیں گا رہی ہیں۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طالبات میدان میں آئیں تو گھریلو خواتین اور مختلف محکموں میں کام کرنے والی کام گارو عورتیں بھی اس صف میں شامل ہو گئیں۔ آج ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں طالبات کے ساتھ ساتھ غیر طالبات بھی شریک ہو رہی ہیں اور احتجاج درج کرا رہی ہیں۔ نوجوان عورتوں کے ساتھ ساتھ ادھیڑ اور معمر خواتین بھی ہیں۔

انھیں لال قلعے کے میدان پر بھی دیکھا گیا، جامعہ ملیہ کے کیمپس میں بھی دیکھا گیا اور دوسرے مقامات پر بھی وہ نظر آئیں۔ ان خواتین کا بھی وہی کہنا ہے جو طالبات کہہ رہی ہیں۔ یعنی وہ اس ساہ قانون کو نہیں مانتیں اور مذہب کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہیں۔

جامعہ کی طالبات میں اکثریت مسلم طالبات کی ہے لیکن غیر مسلم طالبات بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ دوسرے شہروں اور دوسری یونیورسٹیوں میں طالبات کی اکثریت غیر مسلم ہے۔ گویا اس تحریک میں مسلم غیر مسلم سبھی شامل ہیں۔ حالانکہ حکومت نے مذہب کی بنیاد پر عوام کو بانٹنے کی کوشش کی تھی لیکن ان خواتین نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اس زہریلی اور خطرناک پالیسی کی حمایتی نہیں ہیں۔

جامعہ میں جب طالبات نے مورچہ سنبھالا تو مقامی خواتین نے بھی ایک ہائی وے کو اپنی جد و جہد کا مرکز بنا لیا۔ یہ مرکز ہے شاہین باغ ابوالفضل پارٹ ٹو یعنی سریتا وہار کے نزدیک کالندی کنج روڈ کو متھرا روڈ سے جوڑنے والی شاہراہ۔ پندرہ دسمبر سے اور اس کڑکڑاتی سردی میں جبکہ درجۂ حرارت تین اور دو تک پہنچ گیا ہے، ترپال کا سائبان کرکے وہاں لوگوں نے اسٹیج بنا لیا اور دھرنا اور احتجاج شروع کر دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس دھرنے میں جو کہ شب و روز چل رہا ہے گھریلو خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔

چھ ماہ کے بچے سے لے کر ساٹھ پینسٹھ سال کی خواتین تک اس مظاہرے اور دھرنے میں آرہی ہیں۔ انھیں اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کا بھی مستقبل مخدوش ہو جائے۔ اسی لیے وہ وہاں دن رات بیٹھی رہتی ہیں اور مذکورہ قانون کے خلاف نعرے لگاتی رہتی ہیں۔

پولیس ان کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے لیے اس نے مقامی مذہبی شخصیات کا سہارا لیا ہے۔ ان سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہرین کو سمجھائیں کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں۔ اس کے لیے اس نے دو جگہوں کی نشاندہی بھی کی ہے کہ وہ چاہیں تو وہاں اپنا دھرنا دے سکتے ہیں۔ اگر اس تحریر کے پڑھتے وقت وہاں بیٹھی خواتین کو ہٹا دیا جائے تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ جامعہ میں پولیس کی بربریت کی دنیا بھر میں جس طرح مذمت کی جا رہی ہے اس کے پیش نظر پولیس پرامن انداز میں مظاہرین کو وہاں سے ہٹانا چاہتی ہے۔

بہر حال وہ اگر وہاں سے ہٹ بھی جائیں تب بھی ان خواتین نے جامعہ ملیہ سے اٹھنے والی اس تحریک میں جو رول ادا کیا ہے اسے کسی بھی قیمت پر بھلایا نہیں جا سکے گا۔ یہ وہ خواتین ہیں جنھوں نے مجاز کی زبان میں اپنے آنچل کو پرچم اور اپنے حسن کو پردہ بنا لیا ہے۔ جب بھی جامعہ سے اٹھنے والی اس آواز کا ذکر ہوگا تو مرد مظاہرین کے ساتھ ساتھ خاتون مظاہرین اور شاہین باغ کی شاہراہ پر دھرنا دینے والی ان خواتین کا بھی ذکر ضرور ہوگا۔

Published: 29 Dec 2019, 8:11 PM