ان رہنماؤں کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟... سہیل انجم

پی چدمبرم کو اس لیے گرفتار کیا گیا ہے تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ دیکھو جب اتنے بڑے لیڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو تمہاری کیا اوقات ہے ذرا اپنی حد میں رہو۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

سینئر کانگریس رہنما اور سابق وزیر داخلہ و خزانہ پی چدمبرم کو تو سی بی آئی نے گرفتار کر لیا لیکن ایسے بہت سے لیڈران ہیں جن کے خلاف بڑے بڑے کرپشن کے الزامات ہیں اور کسی وقت جن کے خلاف کارروائی بھی چل رہی تھی لیکن اب ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ یا تو پہلے سے ہی بی جے پی میں ہیں یا وہ اب بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔

لہٰذا اپوزیشن کا یہ الزام بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ان لیڈروں کو پریشان کر رہی ہے جو حکومت مخالف ہیں یا جو حکومت کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں۔ پی چدمبرم کو اس لیے گرفتار کیا گیا ہے تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ دیکھو جب اتنے بڑے لیڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو تمھاری کیا اوقات ہے ذرا اپنی حد میں رہو۔

چدمبرم کے علاوہ اور بھی کئی لیڈروں کے خلاف کارروائیاں چل رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ششی تھرور کے خلاف ان کی بیوی سنندہ پشکر کی موت کے معاملے میں کارروائی جاری ہے اور اب تو ان کے جسم پر آئے زخموں کا شمار کیا جا رہا ہے۔ گویا اب اگر ششی تھرور کو گرفتار کر لیا جائے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ ادھر کمل ناتھ کے بھتیجے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کانگریس کے دوسرے اور بھی لیڈران ہیں جن کے پیچھے سی بی آئی یا ای ڈی کو لگا دیا گیا ہے۔

اپوزیشن کے دوسرے لیڈروں میں ملائم سنگھ معلوم ذرائع سے زیادہ آمدنی کے معاملے میں کارروائی جھیل چکے ہیں۔ اکھلیش کے خلاف کان کنی گھوٹالے کی فائل کھول دی گئی ہے۔

مایاوتی کے خلاف اسمارک گھوٹالہ اور چینی ملوں کی خریداری کا گھوٹالہ اور اس کے علاوہ معلوم ذرائع سے زائد آمدنی کا معاملہ زیر تحقیق ہے۔ تیجسوی یادو، میسا بھارتی، فاروق عبد اللہ اور راج ٹھاکرے کے خلاف بھی جانچ چل رہی ہے۔ راج ٹھاکرے 2019 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم مودی کے خلاف کھل کر جلسے کر رہے تھے۔ لہٰذا اب اپوزیشن کا کوئی بھی لیڈر بچے گا نہیں جس پر سی بی آئی اور ای ڈی اپنا جال نہ پھینکیں۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کے یا حکومت حامی کسی دوسری پارٹی کے کسی لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کی گنگا میں جس نے اشنان کر لیا اس کے تمام پاپ دھل گئے اس کے خلاف کوئی جانچ نہیں ہوگی۔

سب سے پہلے تو رافیل ڈیل کے معاملے کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ جب رافیل طیارہ سودہ کیس میں کرپشن کے الزامات ہیں تو اس کیس کی جانچ کیوں نہیں ہوتی۔ حکومت اس سے کیوں بھاگتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کی جانچ کرا دے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

اگر دوسرے لیڈروں کی بات کریں تو کرنا ٹک کے موجودہ وزیر اعلی بی ایس یودی یورپا سرفہرست ہیں۔ ان کے پاس سے ایک ڈائری برآمد ہوئی تھی جس میں کئی لوگوں کے نام ہیں اور اس میں درج ہے کہ بی جے پی کے کن کن لیڈروں، ججوں اور وکیلوں کو پیسے دیئے گئے ہیں۔ یہی سی بی آئی جس نے چدمربم کو گرفتار کیا ہے کئی سال تک یودی یورپا کی جانچ کرتی رہی اور وہ کوئی ثبوت نہیں پا سکی۔

بیلاری کے ریڈی برادران کا معاملہ بھی کافی گرم رہ چکا ہے۔ کرناٹک میں 2018 میں اسمبلی انتخابات سے قبل سی بی آئی 16500 کروڑ روپے کے مائننگ گھوٹالے کی جانچ کر چکی ہے۔ لیکن چونکہ بی جے پی کو ان کی ضرورت تھی اس لیے ان کے خلاف جانچ کو کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جا سکا اور فی الحال وہ معاملہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔

آسام کے ہیمنت بسوا شرما پہلے کانگریس کے ممبر تھے۔ بی جے پی نے ان کے خلاف کافی مہم چلائی تھی۔ یہاں تک کہ ان کے خلاف ایک کتابچہ بھی جاری کیا گیا تھا جس میں گوہاٹی میں واٹر سپلائی گھوٹالے میں ان کو کلیدی مشتبہ شخص بتایا گیا تھا۔ انھیں شاردھا گھوٹالے میں بھی ملزم بنایا گیا تھا جب وہ کانگریس میں تھے۔ لیکن وہ 2016 میں آسام میں اسمبلی انتخابات سے ایک سال قبل بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ بی جے پی جیت گئی اور وہ نائب وزیر اعلی بنا دیئے گئے ہیں۔ اب وہ بالکل پاک صاف ہیں۔ ان کے خلاف جانچ کی اب کوئی ضرورت نہیں۔

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان کا نام ویاپم گھوٹالے میں سامنے آیا تھا۔ ویاپم امتحانات سے متعلق اب تک کا سب سے بڑا اسکیم ہے۔ لیکن سی بی آئی نے ان کو کلین چٹ دے دی ہے۔

مغربی بنگال کے مکل رائے پہلے ترنمول کانگریس میں تھے۔ ٹی ایم سی کو کھڑا کرنے میں ان کا بھی ہاتھ تھا۔ ان کا نام شاردھا گھوٹالے میں آیا اور جانچ ہوئی۔ لیکن ریاست میں بی جے پی کو ایک عوامی بنیاد والے لیڈر کی ضرورت تھی لہٰذا مکل رائے کو بی جے پی میں شامل کر لیا گیا۔ اب وہ بھی پاک صاف ہو گئے ہیں۔ اب ان کے خلاف بھی کسی جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔

رمیش پوکھریال نشنک موجودہ مودی حکومت میں انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر ہیں۔ اس سے قبل وہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی تھے۔ ان کے خلاف کرپشن کے دو معاملات چل رہے تھے۔ معاملہ اتنے آگے بڑھ گیا تھا کہ 2017 میں انھیں وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اب وہ مرکز میں ایک اہم وزارت سنبھال رہے ہیں لہٰذا ان کے خلاف بھی کسی جانچ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

نارائن رانے منی لانڈرنگ کے کیس میں ملوث ہیں۔ ان کے خلاف بھی جانچ ہو رہی تھی۔ مگر وہ پچھلے سال کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہو گئے لہٰذا وہ بھی پاک صاف ہو گئے۔

بی جے پی ایک ایسی گنگا ہے جس میں ڈبکی لگانے والا خواہ وہ کتنا بڑا کرپٹ کیوں نہ ہو فوراً پاک صاف ہو جاتا ہے۔ اس پر لگے سارے داغ دھل جاتے ہیں۔

یہ تو چند نمونے تھے جن کا ذکر کیا گیا۔ لیکن ان لیڈروں کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ حکمراں پارٹی کے ممبر ہیں۔ ہاں اگر یہ اب بھی کانگریس یا دوسری پارٹیوں میں ہوتے تو یہ بھی جیل کی کال کوٹھری کے مکین بن چکے ہوتے۔

Published: 25 Aug 2019, 8:10 PM