نئے سال کا استقبال ہے لیکن نئے سال میں خوش ہونے کے لئے ہے کیا؟

تخریبی سیاست، ٹوٹتا سماجی تانا بانا، غیر محفوظ اقلیتیں، تباہی کے کگار پر معیشت، روزگار کی تلاش میں غیر مطمئن نوجوان، پریشان حال کسان، ایسے حالات میں نئے سال پر خوش ہونے کے لئے ہے کیا؟۔

رمن سوامی

ماہر نفسیات نے ان لوگوں کے لئے ایک اصطلاح تیار کی ہےجو غیر یقینی اور انتشار ک جیسے حالات میں پھلتے پھولتے ہیں ۔ ماہر نفسیات ایسے لوگوں کو ’ڈرامہ سنڈروم کی ضرورت محسوس کرنے والے، کہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے سال 2019 بہت اچھا سال ہوگا ۔ یہ پوری دنیا پر لاگو ہوتا ہے اور خاص طور سے ہندوستانی شہریوں کے لئے۔

عام انتخابی دن تک یعنی اگلے پانچ ماہ کسی ڈرامہ سے کم نہیں ہوں گے ۔ جذبات اپنے شباب پر ہوں گے، ہر دن غصہ اور بد کلامی سنائی دے گی، فرضی خبریں تیار کرنے والوں کا کاروبار عروج پر ہو گا اور اس میں خوشی، غم، افسوس اور خوف کے لمحہ ہوں گے۔ ان سب کو جوڑنے والا ایک دھاگا غیر یقینی اور عدم استحکام کا ہو گا اور یہ سب بہت تکلیف دہ ہو گا۔

یہ بتانے کے لئے کسی نجومی یا درویش کی ضرورت نہیں ہے کہ سردیوں سے لے کر آئندہ گرمیوں تک ہندوستان اور ہندوستانی حقیقت پر مبنی ایک ایسا سیاسی ٹی وی شو دیکھنے کو ملے گا جو انتہائی تکلیف دہ ہوگا ۔ کوئی بھی نجومی یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کے بعد کیا ہو گا ۔ شائد لوک سبھا انتخابات کے بعد سکون کا ایک چھوٹا سا وقفہ آئےگا کیونکہ جیتنے والا حکومت سازی میں مصروف ہو جائے گا اور ہارنے والا فریق خاموشی سے اپنے زخموں کی مرہم پٹی کر رہا ہوگا۔

لیکن اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اس چھوٹے وقفہ کے بعد صورتحال اچھی ہو جائے ۔ انتخا بی نتائج کے بعد معلق پارلیمنٹ سامنے آئے یا بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیاں سامنے آئیں یا انتخابی مہم کے دوران کچھ تشدد کے واقعات سامنے آئیں یا پھر کچھ اور بڑا ہو جائے ۔ ایسی کسی بھی چیز کے ہونے سے آپ منکر نہیں ہو سکتے۔

کسی بھی صورت میں جو بھی نتائج ہوں اور جس کو بھی اگلے پانچ سال ملک کا اقتدار چلانے کے لئے عوام اپنا مینڈیٹ دے اس بات کے امکانات انتہائی کم ہیں کہ حالات نا رمل رہیں ۔ نئی حکومت اور نئے وزیر اعظم کے لئے کوئی بھی روایتی ہنی مون نہیں ملے گا ۔ شور کم نہیں ہوگا، عوام کی بے چینی میں کمی نہیں آئے گی ، عام آدمی کے درد اور تکلیف میں کوئی فوری کمی نہیں آئے گی۔

اس عمل کے 6 ماہ بعد وہ وقت آئے گا جب بے چینی میں اضافہ ہوگا اور بغیر تاخیر کے فوری طور پر انتخابات میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ شدید ہوگا۔ ہر ملک کی تاریخ میں ایسے مواقع آتے ہیں اس لئے یہ دعوی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ آنے والے 12 ماہ آزاد ہندستان کی تاریخ میں بہت غیر یقینی اور بے چینی والے ہوں گے۔یہ کہنا زیادہ محفوظ ہو گا کہ دسمبر 2019 تک ملک کو کئی مسائل درپیش آئیں گے اور چیزیں بہتر ہونے سے پہلے بہت خراب ہوں گی۔

یہ روایت ہے کہ نئے سال میں اچھے کی امید کی جاتی ہے لیکن اس سال اس وقت ایسی امید باندھنا غیر حقیقی اور ایماندارانہ نہیں ہو گی۔ آج سیاست خرابی کے عروج پر ہے ۔ سیاست داں بے روک ٹوک بد کلامی اور بد تمیزی کرتے نظر آ رہے ہیں ۔ قومی معیشت بہت خراب حال میں ہے ، بے روزگار نوجوانوں کی ایک فوج آمدنی کے مواقعوں کا انتظار کر رہی ہے، غصے سے بھرے کسان اپنی پیداوار کی معقول قیمت کا مطالبہ کر رہے ہیں ، اقلیتوں کو غیر محفوظ ہونے کا احساس ہے ، مذہبی جنونی تخریب کار عناصر کے لئے موجودہ صورتحال بہت اچھی ہے ۔ گزشتہ چار سالوں میں ملک کا سماجی تانا بانا اس قدر تار تار ہو گیا ہے کہ اس کو ٹھیک کرنے میں ایک لمبا وقت درکار ہے ۔اس وقت جمہوری اداروں کی ساکھ سب سے نچلی سطح پر ہے۔ کارپوریٹ کلاس اور شہری اشرافیہ اپنے ان گھروں میں مست ہیں جہاں صرف ان کو اپنی ہی آواز سنائی دیتی ہے اور دبے کچلے اور غریب عوام کی آواز سنائی نہیں دیتی۔

یہ آنے والے دنوں کی ایک حقیقت ہے ۔ لیکن نئے سال کے موقع پر آنے والے سال کے اچھے ہونے کی امید کی روایت کو جاری رکھیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب امیدیں خالی نظر آتی ہیں۔

Published: 1 Jan 2019, 8:39 AM