جواہر لال نہرو کا وہ ’اقدام‘ جس کی وجہ سے سنگھ آج تک ان کا دشمن بنا ہوا ہے! ...ظفر آغا

کانگریس میں بھی ایک لابی تھی جس کو مسلم حقوق میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، ان حالات میں یہ نہرو کا ہی کمال تھا کہ انہوں نے اس ملک کو ایک سیکولر ملک کی بنیاد عطا کی اور اقلیتوں کو برابری کے حقوق عطا کیے

آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو / Getty Images
آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو / Getty Images
user

ظفر آغا

آج جواہر لال نہرو کا یوم پیدائش ہے۔ ان دنوں یہ فیشن ہے کہ موقع ملتے ہی جواہر لال کو لعنت و ملامت دی جائے۔ اس کام میں بی جے پی سمیت پورا سنگھ پریوار خصوصاً پیش پیش رہتا ہے۔ بلکہ آج کل جواہر لال کے خلاف طرح طرح کے بے ہودہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد جواہر لال سمیت پورے گاندھی-نہرو خاندان کی ساکھ بگاڑنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جواہر لال نہرو کے علاوہ جو دیگر کانگریسی وزرائے اعظم رہے ہیں سنگھ ان کی مخالفت کے بجائے ان کی تعریف کیوں کرتی ہے۔ مثلاً لال بہادر شاستری اور نرسمہا راؤ کی تعریف ہوتی ہے لیکن نہرو کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔ آخر کیوں!

اس کا سیدھا اور سادہ سا جواب یہ ہے کہ سنگھ سے بڑا نہرو دشمن کون ہو سکتا ہے! کیونکہ جواہر لال اور سنگھ نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے مخالف ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ سنہ 1947 میں جس وقت ملک آزاد ہوا اس وقت برصغیر کا بٹوارہ ہو چکا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ہندوستان فرقہ وارانہ شعلوں کی ایسی لپیٹ میں تھا کہ جس کی نظیر نہ تو اس سے قبل ملتی ہے اور نہ اس کے بعد۔ لاکھوں ہندو اور سکھ بے وطنی کے عالم میں پاکستان سے اِدھر آ رہے تھے اور ہندو منافرت کا شکار لاکھوں مسلمان پناہ کی تلاش میں پاکستان جا رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا جو سیلاب اس وقت تھا اس کا اب اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور شاید نریندر مودی کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ صورت حال اب پیدا بھی نہیں ہو سکتی ہے۔

یعنی ایک ہندو راشٹر کے قیام کا سب سے بہتر موقع اگر کوئی تھا تو وہ سنہ 1947 تھا۔ اس وقت آئین کے قیام کے موقع پر بہت آسانی سے یہ کہہ کر مسلمان کو حق ووٹ دہندگی سے محروم کیا جا سکتا ہے کہ بٹوارہ کر مسلمان اپنا حصہ لے چکے ہیں اس لیے اب آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ اس طرح ووٹ کے بغیر بہت آسانی سے مسلمان دوسرے درجے کا شہری بن جاتا اور اس طرح سنگھ کا ’ہندو راشٹر‘ کا خواب شرمندۂ تعبیر بھی ہو جاتا۔

لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر ہونے سے اگر کسی فرد واحد نے روکا تو اس کا نام تھا جواہر لال نہرو۔ یوں تو فرقہ پرستی کے جنون کے خلاف گاندھی جی اور جواہر لال دونوں ہی کھڑے تھے لیکن گاندھی جی کو قیامِ پاکستان کے سال بھر کے اندر قتل کر دیا گیا۔ اب جواہر لال اکیلے بچے تھے اور ملک میں آئین سازی ہونی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس وقت کی کانگریس میں ایسے عناصر نہیں تھے جو نرسمہا راؤ کی طرح خفیہ طور پر مسلم مخالف رہے ہوں۔ اس لیے کانگریس میں بھی ایک لابی تھی جس کو مسلم حقوق میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان حالات میں یہ جواہر لال کا ہی کمال تھا کہ انہوں نے اس ملک کو ایک سیکولر ملک کی بنیاد عطا کی اور اس ملک کی اقلیتوں کو نہ صرف برابری کے حقوق عطا کیے بلکہ بطور اقلیت ان کو کچھ جزوی حقوق بھی عطا کروائے۔ یہ بات بھلا سنگھ اور بی جے پی سے زیادہ بری اور کس کو لگ سکتی ہے! تب ہی تو جب سے مودی سرکار بر سراقتدار آئی ہے تب سے کھل کر جواہر لال اور ان کے اہل خاندان کو جس قدر نشانہ بنایا گیا، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔

نہرو کا ’گناہ‘ صرف یہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایک سیکولر ہندوستان کی بنیاد رکھی بلکہ نہرو ایک لبرل اور جدید ہندوستان کے ساتھ ساتھ گنگا-جمنی تہذیب کے دلدادہ بھی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان کسی ایک خاص مذہب، زبان یا تہذیب کا وطن نہیں ہے۔ بلکہ ان کے بقول ہندوستان مختلف مذاہب، مختلف زبانوں اور مختلف کلچر کی رنگارنگ آماجگاہ ہے۔ اسی لیے وہ Unity in diversity (تنوع میں اتحاد) کے پیروکار تھے۔ اور اسی خیال کے تحت مغلوں بادشاہوں اور اودھ کے نوابوں نے بھی اپنی حکومتیں چلائی تھیں۔ یہ وہ نظریہ ہے جو ہندوتوا نظریہ کے ’ایک دیش، ایک بھاشا اور ایک کلچر‘ سے قطعاً میل نہیں کھاتا ہے۔ سنگھ کا خیال ہے کہ یہ ملک ’ہندی، ہندو، ہندو استھان‘ ہے جس میں صرف ایک مذہب، ایک زبان اور ایک کلچر کو ہی جگہ ملنی چاہیے۔ نہرو نہ صرف اس نظریہ کے مخالف تھے بلکہ انہوں نے ملک کی گنگا-جمنی تہذیب کی جڑیں اور مضبوط بھی کیں جس سے ہندوتوا کو سخت نقصان ہوا۔ اب بتائیے کہ سنگھ کو نہرو سے نفرت نہ ہوگی تو اور کس کو ہوگی!

اس کے علاوہ معاشی لبرلائزیشن اور مارکٹ اکنامی (کاروباری معیشت) کے عالمی چلن کے بعد ہندوستان میں بھی دائیں بازو کے مفکرین کو قوت ملی۔ یہ طبقہ جواہر لال کے مکسڈ اکنامی ماڈل (مخلوط معیشت کا ماڈل) کا سخت مخالف تھا۔ ملک میں کاروباری معیشت کے چلن کے بعد میڈیا اور دانشوران حلقہ میں اس طبقے کو اہمیت ملی۔ اب یہ طبقہ کھل کر نہرو کی مخالفت میں میدان میں اتر پڑا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کاروباری معیشت کے دور میں ہندوستان نے بڑی زبردست معاشی ترقی کی۔ منموہن سنگھ کے دور حکومت میں ملک کی جی ڈی پی 8 فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ لیکن وہی جی ڈی پی اب مودی کے دور میں اور اس لبرل اکنامی کے دور میں زمین بوش ہو گئی ہے۔

اگر آج ہندوستان کے بڑے بڑے بینک حکومت کے ہاتھوں میں نہ ہوتے تو اس نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار کے بعد ملک کا جو حال ہوتا اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ پھر آج ساری دنیا میں فری مارکیٹ معیشت پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ آج امیر اور امیر، اور غریب اور غریب ہوتا جا رہا ہے۔ خود امریکہ میں اس ماڈل کے خلاف ایک ہنگامہ ہے۔ اس پس منظر میں نہرو کی مکسڈ اکنامی نے ہندوستان کو بچائے رکھا۔ اس کو آپ نہرو بصیرت کا بڑکپن نہیں تو اور کیا کہیں گے۔ پھر جواہر لال اس ملک کے سر مائے پر محض چند کا رپوریٹ گھرانوں کے مخالف تھے۔ ان کے نزدیک ملک کے سرمایہ میں غریب ہندوستانی کا بھی حصّہ تھا۔ اڈانی اور امبانی جیسے سر پرستوں کو بھلا نہرو کا یہ خیال کیسے پسند آسکتا ہے کہ غریب کو بھی ملک کی دولت میں حصّہ ملے۔ اسی لئے نہرو کی مخالفت ہو رہی ہے۔

بات یہ ہے کہ جواہر لال نہرو کی اس قدر قدآور شخصیت تھی کہ جس کو آج تک نہ سنگھ تسخیر کر سکی اور نہ ہی جس پر بائیں بازو کے مفکرین پوری طرح قابو پا سکے۔ آزاد اور جدید ہندوستان کا تصور کبھی بھی نہرو کے بغیر کیا ہی نہیں جا سکتا ہے۔ جو لوگ بھی جدیدیت اور فکری بڑکپن کے مخالف ہوں گے وہ سنگھ کی طرح جواہر لال نہرو کے مخالف رہیں گے۔ آج اسی لئے اس تنگ نظر دور میں نہرو اور ان کے لبرل خیالات کو زندہ رکھنے کی جتنی ضرورت ہے شاید اس سے قبل اتنی ضرورت نہیں تھی۔

(یہ مضمون قومی آواز پر 14 نومبر 2017 کو شائع ہو تھا)

Published: 14 Nov 2020, 8:56 AM
next