مزاح: ہمیں ہیں نازی، فاسسٹ ہمیں ہیں، ہمیں ہیں گاندھی، امبیڈکر ہمیں ہیں...

ہم ہی 125 کروڑ ہندوستانیوں کے نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہم ہی دلتوں-مسلمانوں کا گلا بھی دھیرے دھیرے کاٹتے ہیں۔ منووادی آئین تو ہمارا ہے ہی، ہندوستانی آئین بھی ہمارا ہے۔

By وشنو ناگر

دیکھو بھائیو-بہنو اور دیگرو، ہمیں تو اوپر والے نے کرپا کر کے اسی مشن کے ساتھ بھیجا ہے کہ جھوٹ بولو اور جھوٹ کے علاوہ کچھ نہ بولو۔ دھوکہ بازی کرو اور دھوکہ بازی کے علاوہ کچھ نہ کرو۔ تو ہم تو جو بھی کر رہے ہیں اس مشن کے تحت کر رہے ہیں اور جب تک ہیں، جب تک ہماری نسل ہے، معاف کرنا، ہم یہی کرتے رہیں گے۔ برا مت ماننا اور مانو گے بھی کیوں، کیونکہ اب تو اوپر والے سے زیادہ آپ ہمیں جانتے ہو۔ اسے بھی آپ کی فیس بک، ٹوئٹر، وہاٹس ایپ وغیرہ سے پتہ چلتا رہتا ہے کہ ہم اپنے مشن میں لگے ہوئے ہیں اور اس کی امید پر امید سے بھی زیادہ کھرے اتر رہے ہیں۔

وہ خوش ہوگا لیکن غمزدہ بھی ہوگا شاید کہ اس نے سچائی کے مشن پر جنھیں بھیجا تھا وہ کامیاب نہیں ہو رہے ہیں۔ خیر جی، یہ اس کا مسئلہ ہے، وہ جانے۔

تو جی، ہم وہ ہیں جو اس ملک میں کچھ بھی برا پچھلے چار سال سے ہوا ہے، ہو رہا ہے، ہونے والا ہے، اس سب کا قصور کانگریس اور وہ بھی نہرو جی، لیفٹ وغیرہ کے ذمے ڈالنے کے فن میں ماہر ہیں۔ دنیا میں ہماری برابری کوئی نہیں کر سکتا، اس کی 100 فیصد گارنٹی ہے۔ جس کا کہو، اس کا قصور ابھی اور یہیں ان پر ڈال کر دکھا دیں اور جس کا کہو اس کا سہرا خود لے کر دکھا دیں۔ جسے کہو ملک کا غدار بنا دیں (خیر مسلمان اور سیکولر لوگ تو ہیں ہی) اور جسے چاہیں حب الوطن۔ یہ ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اب دیکھو نہ، ہم بیٹی پڑھاؤ-بیٹی بچاؤ والے ہیں نہ! زور سے بولو، ہیں نہ! تو ہم نے کٹھوعہ اور اُناؤ کی بیٹیوں کو عصمت دری کا اور ایک کو تو قتل کا بھی سبق پڑھا دیا نہ۔ پڑھا کہ نہیں پڑھایا؟ زور سے بولو، روٹی نہیں کھائی کیا؟ ارے سنو کہیں بھنڈارا چل رہا ہو یا گرودوارا کھلا ہو تو ان کے لیے کچھ منگوا دو!

ہاں، تو جی آپ بھی کہتے ہو اور اب تو ہم بھی چھپّن انچی دکھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہاں ہم پرلے درجے کے پاکھنڈی ہیں۔ پاکھنڈ ہمارا مشن ہے۔ ہندو مذہب کا پاکھنڈ والا حصہ ہمارا ہے، بقیہ رام نام کی لوٹ ہے، جو لوٹ سکے لوٹ لے، ہمیں پروا نہیں۔ ہم پارلیمنٹ چلنے بھی نہیں دیتے اور اپوزیشن، خصوصاً کانگریس پارلیمنٹ چلنے نہیں دے رہی، اس کی تشہیر کرنے کے لیے اُپواس کرنے کا ڈرامہ بھی کر لیتے ہیں۔ ہر ایک کے بس کا نہیں ہے یہ کھیل۔ ہمیں اس کی ٹریننگ 1925 سے مل رہی ہے۔ ہم اس میں ماہر ہیں۔ ہٹلر، مسولنی، گوئبلس ہار گئے، مر گئے، مگر ہم زندہ ہیں۔ راون دشانن تھا، ہم لاکھانند ہیں۔ ہم ہی دلتوں کو پٹواتے ہیں، مرواتے ہیں، ہم ہی زناکاروں کو تحفظ دیتے ہیں، ان کے حق چھینتے ہیں، پھر ہم ہی امبیڈکر جی کا جھنڈا لیے گھومتے ہیں اور ان کے مجسمے تڑوانے میں ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ ان کے یہاں کھانا کھانے کا ڈرامہ بھی کرتے ہیں اور ہم ہی ان کی روکھی سوکھی روٹی کوا بن کر چھینتے بھی ہیں۔ ہم ہی کوے ہیں اور ہم ہی ہنس بھی۔ ہم اس گروہ کے کوے ہیں جو روٹی چھین کر فوراً ہنس بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔ ہم ہی 125 کروڑ ہندوستانیوں کے نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہم ہی دلتوں-مسلمانوں کا گلا بھی دھیرے دھیرے ریتتے ہیں۔ منووادی آئین تو ہمارا ہے ہی، ہندوستانی آئین بھی ہمارا ہے۔ ہم ایک کا استعمال عہدہ کا حلف لینے میں کرتے ہیں، دوسرے کا استعمال زمین پر نافذ کروانے کے لیے کرتے ہیں۔ ہم عہدہ اور رازداری کا حلف لینے کی مجبوری کے سبب جمہوری بھی ہیں اور گئو رکشا کے نام پر تشدد کرنے والے تو ہیں ہی۔ ہماری چھری، ہماری گولی تشدد سے پاک ہوتی ہے کیونکہ وہ ہماری ہے نہ۔

ہم ترنگا یاترا کے نام پر جہاں کہو وہاں پرتشدد ہنگامہ کرنے کا ٹھیکا لیتے ہیں۔ ترنگا بھی ہمارا ہے، کیسریا بھی ہمارا! کالی ٹوپی بھی ہماری، اس پر ہم سفید بھی جب چاہے تب پہن لیتے ہیں۔ بھگت سنگھ بھی ہمارے، امبیڈکر بھی ہمارے، گاندھی بھی ہمارے، لیکن نہرو ہمارے نہیں۔ دیکھیے، یہ بالکل سچ ہے کہ آزادی کی لڑائی ہم نے نہیں لڑی، لیکن ہم سے بڑا آج ’دیش بھکت‘ کوئی ہے؟ ایسی ’فنکاری‘ آج کی دنیا میں کوئی جانتا بھی ہے! ارے، سیکھو ہم سے کچھ ورنہ ’وشو گرو‘ کوئی اور بن جائے گا اور ہم ٹاپتے رہ جائیں گے! ہم نے کچھ نہیں پڑھا مگر ہم جیسا عالم بھی آج کوئی نہیں۔ ہمیں نہ وید معلوم، نہ پران۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ تکشیلا کہاں ہے، لیکن ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہمارے رِشی منیوں کو سب معلوم تھا۔ جو کچھ آج ہو رہا ہے، سب کا سب وہ کر چکے تھے، اس لیے ہمیں ان سے امپورٹ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اب کیا کیا بتائیں ہم، کیونکہ نہیں بتانے لائق ہمارے پاس کچھ ہے نہیں۔ تو سب مل کر گاؤ... ’ہمیں ہیں رام، راون ہمیں ہیں، ہمیں ہیں کرشن، کنس ہمیں ہیں۔ ہمیں ہیں نازی، فاسسٹ ہمیں ہیں، ہمیں ہیں گاندھی، امبیڈکر ہمیں ہیں۔ گاؤ اور زور سے گاؤ...‘۔