کیا پاکستان باخبر تھا کہ ہندوستان کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے جا رہا ہے!

پاکستانی رہنما جنگ نہیں چاہتے لیکن عوام کا خیال ہے کہ کشمیر پر ہندوستان کے فیصلہ کی اطلاع پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور دنیا کے دیگر رہنماؤں کو پہلے ہی سے تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

مزمل سہروردی

بھارت نے جموں و کشمیر کو دئے گئے خصوصی درجہ کو ختم کرکے اس کی تقسیم کر دی، اس کی یا تو پاکستان کو ہوا تک نہیں تھی یا پھر وہ اس معاملہ پر ہلکا پھلکا رد عمل ظاہر کر کے پاکستانی عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ لیکن جموں و کشمیر میں ہندوستان نے جو کچھ کیا اس کے حوالہ سے پاکستان میں ایک طرح کی خاموشی نظر آتی ہے۔ حالانکہ دکھاوے کے لئے پاکستانی قومی اسمبلی کا ایک خصوصی مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا لیکن اس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور بغیر کسی قرارداد کے اجلاس اختتام پزیر ہو گیا۔

اس اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے جو کچھ کہا وہ قابل غور ہے۔ انہوں نے حزب اختلاف کی تنقید کے جواب میں کہا، ’مجھے بتاؤ میں کیا کروں، کیا ہندوستان پر حملہ کر دوں؟‘ اس کے جواب میں حزب اختلاف کے رہنما شہباز شریف نے کہا، ’نہیں، میں ہندوستان کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی بات نہیں کر رہا۔‘ اس کے بعد عمران خان نے اس حوالہ سے قرارداد پیش کرنے کی بات کہی۔ اس طرح سے غور کریں تو کشمیر میں ہندوستان کے فیصلہ کے حوالہ سے پاکستانی قومی اسمبلی کے ارکان بظاہر متحد نظر آئے اور ان کے پیغام کا واضح مطلب یہ نکلا کہ ہندوستان کے ساتھ جنگ نہیں کرنی ہے۔

پاکستانی فوج بھی ان حالات میں اسٹریٹجیک رویہ ہی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اگرچہ ’فارمیشن کمانڈرس‘ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا لیکن اس کے بعد جو پریس ریلیز منظر عام پر آئی اس میں کہا گیا کہ اس معاملہ میں کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا، ’’ہندوستان کی طرف سے کشمیر کے حوالہ سے لئے گئے فیصلہ کو پاکستانی حکومت کے یکسر مسترد کرنے کے موقف کی فارمیشن کمانڈرس تائید کرتے ہیں۔ پاکستان کبھی جموں و کشمیر سے دفعہ 370 اور ’35 اے‘ کو ہٹا کر اسے یونین آف انڈیا میں شامل کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔ پاکستانی فوج کشمیریوں کے انصاف کی جنگ میں ان کے ساتھ ہے۔ اس حوالہ سے ہم کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔

پاکستان کے کچھ تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ پریس ریلیز محض ایک دھوکہ ہے۔ اس میں نہ تو کسی کارروائی کا ذکر ہے، نہ کسی حکمت عملی کا اور نہ ہی اس صورت حال میں آگے کیا کرنا ہے، اس کا کوئی ذکر ہے۔ یہ صرف لوگوں کو گمراہ کرنے والا بیان ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ دو قسم کی حکمت عملی پر کام کرتی نظر آ رہی ہے لیکن اسے کامیابی کی امید نہیں ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق شملا معاہدہ میں صاف لکھا ہے کہ جب تک کشمیر کا ایشو حل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک دونوں ملک اپنے اپنے علاقوں کی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ ایسے حالات میں ہندوستان نے جس طرح سے کشمیر کو یونین آف انڈیا میں شامل کیا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طے پائے گئے شملا معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔

لیکن اس خلاف ورزی کی شکایت آخر کس بین الاقوامی فورم میں کی جائے، اس کے حوالہ سے محکمہ خارجہ پس و پیش میں ہے، کیوں کہ اس معاہدہ میں کوئی بھی فورم ضمانتی کے طور پر شامل نہیں ہے۔ محکمہ خارجہ کے سامنے ایک متبادل ہے کہ وہ عالمی عدالت سے رجوع کرے تاکہ ہندوستان کے خلاف فیصلہ ہو پائے۔ دوسرا متبادل اقوامی متحدہ سلامتی کونسل میں جانے کا ہے، کیوں کہ 1948 کی کشمیر پر آئی قرارداد کا معاملہ یہاں پہلے سے ہی موجود ہے۔ لیکن ان دونوں متبادل پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ خدشہ یہ بھی ہے کہ دونوں ہی متبادل الٹے بھی پڑ سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟

حالانکہ پاکستانی عوام کے درمیان ماحول جنگ کی یلغار دے رہا ہے لیکن رہنما کم از کم اس متبادل کے حق میں تو نظر نہیں آ رہے۔

ان تمام باتوں کے پیش نظر عام رائے یہ بن رہی ہے کہ عمران خان کو پہلے سے معلوم تھا کہ ہندوستان کشمیر میں کیا کرنے والا ہے، لہذا انہیں اس سے کوئی تعجب نہیں ہوا۔ وہیں حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مفاہمت کی جو پیش کش کی تھی، اس سے پہلے ممکنہ طور پر ٹرمپ نے عمران خان کو ہندوستان کی طرف سے کشمیر کے حوالہ سے لئے جانے والے قدم سے آگاہ کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے حافظ سعید کو پہلی مرتبہ گرفتار کر کے جیل میں ڈالا ہے اور اس کی تنظیم جماعت الدعوہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، پاکستان میں اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ نہ صرف حافظ سعید جیل میں ہے بلکہ اس کے بہت سے ساتھی بھی جیل بھیج دئے گئے ہیں۔

عمران خان اور پاکستانی تنصیبات لوگوں کے جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش بھر کر رہی ہیں لیکن اس سب کے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جو مانتے ہیں کہ پاکستان کو کشمیر پر ہندوستان کے اقدام کو قبول کر لینا چاہئے اور اپنے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) کے حوالہ سے بھی ایسا ہی فیصلہ لینا چاہئے۔ ان لوگوں کی نظر میں اس طرح دونوں ممالک کے درمیان عشروں سے چلا آ رہا مسئلہ کشمیر ختم ہو جائے گا۔

پاکستان کے ایک ماہر دفاع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر پنجاب اور بنگال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہو سکتے ہیں تو کشمیر کیوں نہیں! انہوں نے کہا، ’’پاکستان اپنے حصہ والے کشمیر کو اپنا قرار دے اور ہندوستان اپنے کشمیر پر راج کرے۔ پاکستان کے تمام صوبے اسی طرح تقسیم شدہ ہیں۔ پنجاب اور بنگال اس کی سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ یہاں تک کہ سندھ بھی کبھی ممبئی کا حصہ ہوتا تھا۔ خیبر پختون خواہ بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔ آدھا بلوچستان ایران کے ساتھ ہے۔ تو اگر کشمیر بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہو جائے تو کون سی قیامت آ جائے گی!‘‘

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ کی 2017 کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہتے نظر آ رہے ہیں، ’’جب واجپئی جی لاہور گئے تھے تو انہوں نے پاکستان کے سامنے تجویز رکھی تھی کہ پاکستان اپنے قبصے والے کشمیر کو رکھ لے اور ہندوستان اپنی طرف والا کشمیر رکھ لے لیکن اس تجویز پر کبھی عمل نہیں ہو سکا۔‘‘

پاکستان میں لوگوں کو یقین ہے کہ ہندوستان کی طرف سے اس قسم کی پیش کش کئی سال سے کی جا رہی ہے لیکن پاکستان کبھی اسے ماننے کو تیار نہیں ہوا۔ لیکن اب ممکنہ طور پر نریندر مودی اور عمران خان کے درمیان ایسا کوئی اتفاق ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس معاملہ میں امریکہ اور دوسرے دنیا کے رہنماؤں کو بھی بھروسے میں لیا گیا ہے۔ ہندوستان نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے اور اب ایسا ہی قدم پی او کے کے حوالہ سے پاکستان کو اٹھانا ہے۔ ایسا کرنے پر پاکستان کم از کم کچھ کھوتا تو نظر نہیں آئے گا۔

Published: 7 Aug 2019, 9:10 PM