’لنگڑی جمہوریت‘ میں ووٹروں کی امیدیں ناپید... نواب علی اختر

ہر شخص کو تعجب تھا کہ ایک طاقتور چوہان کو’ماما‘ بنا کر کس آسانی سے ہرا دیا گیا لیکن چونکہ کانگریس کی اکثریت واضح نہیں تھی اس لئے توڑ پھوڑ کی بہت گنجائش تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

جغرافیائی لحاظ سے اہم سمجھے جانے والے مدھیہ پردیش میں15 سال بعد ایک بار پھر کانگریس کے ’ہاتھ‘ نے بی جے پی کے ’کمل‘ کو مروڑ کر سیکولر سیاست بحال کرنے کی کوشش کو ’لنگڑی جمہوریت‘ نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ بھگوا قلعہ کو زیر کرکے مسند اقتدار پر فائز ہوئے کانگریس کے کمل ناتھ کی متوازی حکمرانی نے ریاست کو نئی راہ دکھانے کا اشارہ دیا تھا مگر15ماہ بعد ہی واپس کمل کھل گیا اور کمل ناتھ چلے گئے۔ ریاست میں کرسی کی چاہت، سیاستدانوں کا غرور، خواہشات، لالچ کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔ حالانکہ یہ پورا معاملہ کانگریس کی ناکامی سے زیادہ بی جے پی کی بدنامی کا سبب بن گیا ہے۔ اس لحاظ سے تھوڑا سیاق وسباق میں جاکر چند ماہ کے اندر بھگوا پارٹی کو لگے بڑے جھٹکوں کا جائزہ لینے پرسیاست کے بادل صاف ہوجائیں گے۔

چند ماہ قبل اختتام پذیردہلی اسمبلی کے انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے انہوں نے واضح کردیا تھا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا جیتنا یقینی نہیں ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جہاں جہاں بی جے پی ہاری ہے وہاں کسی بھی ’جگاڑ‘ سے حکومت پر قبضہ کرلیا جائے جس کے لیے ایک نیا نسخہ آزمایا جاچکا ہے۔ پہلے گوا میں پھر کرناٹک میں بڑی چالاکی سے کام کیا جاچکا ہے۔ جیسا کہ مدھیہ پردیش کے رخصت پذیر وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے کہا ہے کہ لالچی لوگوں کی جیت ہوئی ہے لیکن اس سے ریاست کے عوام اور ان کی امیدوں کی ہار ہوئی ہے۔ حالانکہ اس کے بارے میں جیسی وضاحت ہونا چاہیے ویسی نہیں کی گئی۔ 22 ممبران اسمبلی کا خواہ مخواہ مستعفی ہونا ناقابل فہم ہے۔ ان کو کرناٹک کے انداز میں خریدا گیا۔

لاکھوں روپے خرچ کرکے جو لوگ اسمبلی میں پہنچتے ہیں وہ استعفیٰ کیوں دیں گے۔ اس کے لئے بہت بڑے خزانے کے منھ کھول دیئے گئے اور اس سے تمام ممبروں کی تشفی ہوگئی۔ اب ان 22 ممبران اسمبلی کی جو سیٹیں خالی ہوں گی ان پر ان ہی لوگوں کو بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑایا جائے گا۔ الیکشن کی مہم پر جو رقم خرچ ہوگی وہ ان کے پاس پہلے ہی پہنچ چکی ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ضمنی الیکشن میں جیت جانے کے بعد ان کو وزیر بنا دیا جائے گا۔ افسوس یہ ہے کہ ملک میں کوئی ایسی بلند قامت اتھارٹی نہیں ہے جو استعفیٰ دینے والے ممبران اسمبلی کو پکڑ کر ان سے پوچھ گچھ کرے کہ ان کے پاس جو خطیر رقم آئی ہے وہ کس بات کا انعام ہے۔ موجود نظام میں خزانہ کا منھ کھولنے والوں سے بھی کوئی پوچھ گچھ کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر ممکن ہو تو ”منی لانڈ ر نگ“ کا کیس آسانی سے چل سکتا ہے۔ کالے دھن سے دوسرے کالے دھندے کے لئے بڑی بڑی رقوم دیا جانا ہندوستان کی جمہوریت کے لیے بے حد شرمناک المیہ ہے۔

دنیا میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہندوستان سب سے بڑا جمہوری ملک ہے لیکن اسمبلی کے الیکشن میں کیا ہوتا ہے، اس کی خبر باہر کی دنیا کوشاید نہیں ملی۔ امریکہ وغیرہ اس بات سے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ بی جے پی نے 2014ء میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی اور پانچ سال بعد اس سے بھی زیادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ اسمبلیوں کے الیکشن میں بڑی پست ذہنیت کا مظاہرہ ہو رہا ہے اور اس جمہوریت کا دور دور تک پتہ نہیں ہے جو آزادی کے بعد ملک میں مضبوطی سے قائم ہوئی تھی۔ بی جے پی پانچ سال تک اگلے الیکشن کا انتظار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور اس نے 18 مہینے پورے ہونے کے بعد ہی حملہ شروع کر دیا ہے۔

مدھیہ پردیش بڑی ریاست ہے جس پر کانگریس نے 2018 میں قبضہ کیا تھا۔ ہر شخص کو تعجب تھا کہ ایک طاقتور چوہان کو ’ماما‘ بناکر کس آسانی سے ہرا دیا گیا لیکن چونکہ کانگریس کی اکثریت واضح نہیں تھی اس لئے توڑ پھوڑ کی بہت گنجائش تھی۔ بہرکیف اب راجستھان کا نمبر آنے والا ہے اور جس طرح امریکہ میں ہے اسی طرح اپنے ملک میں بھی’گندہ سیاسی طریقہ‘زیادہ سرگرم ہوجائے گا۔ پہلے ہلّے میں تیسری ریاست چھتیس گڑھ کی کانگریسی حکومت کو بھی بعد میں گرانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔

مہاراشٹر میں بی جے پی کو بالکل یقین تھا کہ اس کی حکومت بنے گی لیکن پرانے رفیق شیوسینا نے آنکھیں پھیر لیں اور اس نے قدیم دشمن کانگریس کو بھی ساتھ لے کر حکومت بنالی۔ ہریانہ نے آنسو پونچھے۔ ایک جاٹ تنظیم کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی گئی۔ جب بھی جاٹ ایجی ٹیشن پھر ابھرے گا تو منوہرلال کھٹّر کی حکومت ختم ہوجائے گی۔ جھارکھنڈ میں بھی کانگریس کا غلبہ رہا اور دہلی میں اروندکجریوال نے اپنا دبدبہ برقرار رکھا۔ ان تمام مقامات پر نریندرمودی کا جادو کام نہ آیا۔ دھارمک محاذ سنبھالنے کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ بھیجے گئے لیکن ان کی تقریروں کا تقریباً ہر جگہ الٹا اثر ہوا۔ اب الیکشن کے لئے بہار پھر بنگال اور اڑیسہ کا نمبر آئے گا۔

اس سے پہلے کمل ناتھ نے کہا تھا کہ لالچی لوگوں کی فتح ہوئی ہے لیکن ان کی پارٹی کو آگے بڑھ کر ممبران اسمبلی میں ہوئی تقسیم کا پردہ چاک کرنا ہوگا تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے کہ ہمارے ملک میں لنگڑی جمہوریت کا راج ہے اور اصل جمہوریت عرصہ ہوا رخصت ہوچکی ہے۔ اب وہ لوگ حاوی ہیں جو جمہوریت کے معنی و مفہوم سے قطعی نا آشنا ہیں۔ وہ صرف اسمبلی کی نشستوں پر قبضہ کرنے کے قابل ہیں خواہ اس کے لئے کسی قسم کے ہتھکنڈے کا استعمال کرنا پڑے۔ کرناٹک میں بی جے پی کو دوبارہ کیسے اقتدار ملا تھا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔مدھیہ پردیش میں 22 ممبران اسمبلی کے استعفیٰ دینے کے نتیجہ میں کانگریس اقلیت میں آگئی اور بی جے پی کو اکثریت حاصل ہوگئی۔ کیا یہ لنگڑی جمہوریت نہیں ہے؟۔

    Published: 22 Mar 2020, 7:11 PM