وارانسی حادثہ ایڈمنسٹریٹو افسروں کی رسّہ کشی اور لاپروائی کا نتیجہ

چوکاگھاٹ-لہرتارا فلائی اوور تعمیر کے دوران متبادل راستہ موجود ہونے کے باوجود گاڑیوں کا راستہ نہیں بدلا گیا۔ مرکزی اور ریاستی حکومت کے وزراء اور انتظامی افسران کی تجزیاتی میٹنگ سوالوں کے دائرے میں۔

وارانسی: چوکا گھاٹ-لہرتارا فلائی اوور تعمیر میں ایڈمنسٹریٹو افسران کی رسّہ کشی اور سیکورٹی پیمانوں کو نظر انداز کیے جانے سے گزشتہ منگل کو درجنوں لوگوں کی جان لے لی۔ کینٹ ریلوے اسٹیشن سے کچھ ہی دوری پر وسندھرا ریلوے کالونی کے گیٹ نمبر ایک کے سامنے زیر تعمیر فلائی اوور سے دو بیم گرنے کے حادثہ اور اس میں درجنوں لوگوں کی اموات کی وجوہات کی تحقیقات کچھ ایسے ہی اشارے دے رہے ہیں۔ وہیں، حادثے کے بعد انتظامی افسران اور برسراقتدار سیاسی نمائندوں کی بیان بازیاں ان کی حساسیت اور کردار پر سوال کھڑےکر رہی ہیں۔

بتا دیں کہ کینٹ ریلوے اسٹیشن سے گزرنے والے جی ٹی روڈ پر چوکا گھاٹ سے لہرتارا تک اتر پردیش سیتو نگم کے ذریعہ فلائی اوور کی تعمیر کرائی جا رہی ہے۔ زیر تعمیر فلائی اوور کے پلر نمبر 79 اور 80 پر رکھے دو بیم منگل کی شام تقریباً سوا پانچ بجے وہاں سے گزر رہی تقریباً ایک درجن گاڑیوں پر جا گرے۔ ان میں دو پہیہ گاڑیوں سے لے کر چھ چکے والی مسافر گاڑیاں تک شامل تھیں۔ اس سے درجنوں لوگوں کی موت موقع پر ہی ہو گئی۔ حالانکہ انتظامیہ مہلوکین کی تعداد 15 بتا رہی ہے جب کہ زخمیوں میں 11 لوگوں کے نام شامل ہیں۔ حادثہ میں زخمی متاثرین اور عینی شاہدین کے اندازوں پر یقین کریں تو حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد 50 سے زیادہ ہوگی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فلائی اوور تعمیر میں شامل اور موقع پر موجود ایک مزدور نے بتایا کہ حادثہ میں 60 لوگ دبے تھے۔ ان میں صرف ایک ہی شخص چیخ رہا تھا، دیگر سبھی خاموش تھے۔ وہیں حادثہ میں زخمی سیتا رام موریہ نے حادثہ کے شکار ہونے والوں کی تعداد 100 بتائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیم کا کچھ حصہ سرکاری بس (جو اہرورا سے وارانسی کینٹ کے درمیان چلتی ہے) پر ڈرائیور والے حصے کے پیچھے گرا تھا جس سے کثیر مقدار میں خون بس کے باہر آیا۔ اس میں تقریباً 20 سے 30 آدمی ہوں گے۔ حالانکہ روڈویز انتظامیہ صرف دو مسافروں کے مرنے اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی بات کہہ رہی ہے جو قابل یقین معلوم نہیں ہوتا۔ دراصل حادثہ جس جگہ ہوا ہے وہاں بس کے خالی ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا ہے۔ اہرورا سے کینٹ آنے والی بس میں سوار ہونے والے مسافر زیادہ تر انگلیشیا لائن تراہے کے پاس اترتے ہیں۔ جائے حادثہ وہاں سے تقریباً 200 میٹر دور ہے اور وہاں صرف ریلوے کالونی اور کینسر اسپتال جانے والے مسافر ہی اترتے ہیں جو بہت ہی کم تعداد میں ہوتے ہیں۔

اگر ہم بات کریں چوکا گھاٹ-لہرتارا فلائی اوور تعمیر میں انتظامی لاپروائی اور سیکورٹی پیمانوں کو نظر انداز کیے جانے کی، تو یہ بہت ہی زیادہ اور واضح ہے۔ شہر سے گزرنے والے جی ٹی روڈ کے جس حصے پر فلائی اوور کی تعمیر ہو رہی ہے وہاں مسافروں اور گاڑیوں کی آمد و رفت بہت ہی زیادہ ہے۔ جائے حادثہ سے کچھ ہی دوری پر کینٹ ریلوے اسٹیشن، روڈ ویز بس اسٹینڈ اور بی ایچ یو اسپتال جانے کے لیے انگلیشیا تراہا ہے۔ اس سے لہرتارا سے چوکا گھاٹ کے درمیان ہمیشہ جام کی صورت حال ہوتی ہے۔ فلائی اوور تعمیر کی وجہ سے یہ جام اور زیادہ ہو گیا ہےجو رات میں 10 بجے کے بعد ہی ختم ہو پاتا ہے۔ فلائی اوور تعمیر کے دورا ن سیکورٹی پیمانوں کے تحت سروس لین کے لیے راستہ بدلنے کا نظام ہے۔ اس کے باوجود ضلع انتظامیہ سمیت اتر پردیش سیتو نگم کے افسران نے گاڑیوں کا راستہ نہیں بدلا جب کہ جائے حادثہ کے پاس راستہ بدلنے کا متبادل موجود تھا۔ حادثہ کے بعد ضلع انتظامیہ نے راستہ بدلنے کے لیے انہیں راستوں کو گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا ہے۔ اس کے لیے اس وقت دو راستوں کا استعمال ہو رہا ہے۔ پہلا جائے حادثہ سے قریب 100 میٹر پہلے ریلوے کالونی سے ہوتے ہوئے گاڑی کینٹ ریلوے اسٹیشن کے سامنے جی ٹی روڈ پر نکل رہے ہیں۔ وہیں دوسرا وسندھرا ریلوے کالونی سے ہوتے ہوئے انگلیشیا لائن چوراہے پر نکلتا ہے۔ اس وقت انہی دونوں راستوں کا استعمال چھوٹی گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اگر اتر پردیش سیتو نگم، ضلع انتظامیہ اور کینٹ ریلوے انتظامیہ کے افسر جائے حادثہ کے فلائی اوور تعمیر کے دوران گاڑیوں کا راستہ بدل کر ان راستوں پر کیا ہوتا تو درجنوں کی تعداد میں لوگوں کی جان نہیں گئی ہوتی۔

حادثہ کے بعد راستہ بدلنے سے متعلق اتر پردیش سیتو نگم اور وارانسی ٹریفک پولس انتظامیہ کے افسران کے درمیان الزامات در الزامات کا دور شروع ہو گیا ہے۔ ٹریفک پولس انتظامیہ کے افسر اتر پردیش سیتو نگم کے افسران پر راستہ بدلنے کے لیے رابطہ نہیں کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں تو وہیں اتر پردیش سیتو نگم کے افسر کئی بار خط لکھنے کے بعد بھی ٹریفک پولس انتظامیہ کے ذریعہ تعاون نہیں ملنے کی بات کہہ رہے ہیں۔

اُدھر برسراقتدار بی جے پی اور سابقہ سماجوادی پارٹی لیڈروں کے درمیان حادثہ کے لیے الزامات کا دور چل رہا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر مہندر ناتھ پانڈے نے حزب مخالف پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’فلائی اوور حادثہ کی جانچ کی آنچ‘ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو تک پہنچ سکتی ہے۔ وہیں سماجوادی پارٹی کے لیڈروں نے بی جے پی حکومت پر کمیشن خوری کے چکّر میں سامان فراہم کرنے والی فرموں کو بدلنے کا الزام عائد کیا ہے۔

فلائی اوور تعمیر میں انتظامی ہم آہنگی کے ساتھ حادثہ کے بعد حکومت کے نمائندوں کے درمیان بھی آپسی ہم آہنگی کی زبردست کمی نظر آئی۔ حادثہ کی رات اتر پردیش حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے فلائی اوور حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد جہاں 18 بتائی وہیں وزیر اعلیٰ سمیت انتظامی افسران مہلوکین کی تعداد 15 بتا رہے ہیں۔ دراصل وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں انتظامی افسران میں بڑے پیمانے پر آپسی ہم آہنگی کی کمی ہے۔ شہر کے ساتھ ساتھ ضلع میں چل رہے ترقیاتی منصوبوں اور زیر تعمیر پروجیکٹوں میں کمیشن خوری کے بازار نے انتظامی افسران سمیت حکومت کے سیاسی نمائندوں کو کئی خیموں میں بانٹ دیا ہے۔ اس وجہ سے شہر سمیت ضلع میں ترقیاتی منصوبے دَم توڑ رہے ہیں۔

فی الحال ضلع مجسٹریٹ یوگیشور رام مشرا کے ذریعہ کی گئی شکایت کی بنیاد پر فلائی اوور حادثہ میں اتر پردیش سیتو نگم کے افسران پر تعزیرات ہند کی دفعہ 304، 308 اور 427 کے تحت سگرا تھانہ پولس نے ایف آئی آر درج کر ملزمین کی گرفتاری کے لیے دباؤ بنا رہی ہے۔ اُدھر وزیر اعلیٰ نے زرعی پیداوار کمشنر راج پرتاپ سنگھ کی صدارت میں تین رکنی کمیٹی تشکیل کر 48 گھنٹے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ ان میں محکمہ زراعت کے چیف انجینئر بھوپندر شرما اور اتر پردیش واٹر کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر راجیش متل شامل تھے۔ اتر پردیش حکومت نے پروجیکٹ کے چیف پروجیکٹ منیجر ایچ سی تیواری، اسسٹنٹ پروجیکٹ منیجر کے آر سوڈان، راجندر سنگھ اور لال چند کو معطل کر دیا ہے۔ حادثہ میں اتر پردیش سیتو نگم کے منیجنگ ڈائریکٹر راجن متّل کو بھی اس کام سے دستبردار کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ جے کے شریواستو کو تعینات کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 77.41 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے 1710 میٹر لمبے چوکاگھاٹ-لہرتارا فلائی اوور پروجیکٹ وارانسی میں ریاستی حکومت کی دیرینہ اور اہم پروجیکٹ ہے جو کینٹ ریلوے اسٹیشن کے سامنے جی ٹی روڈ پر لگنے والے جام سے لوگوں کو راحت دلا سکتی ہے۔ ابھی تک کل 63 پلروں میں 45 پلروں کی ہی تعمیر ہوپائی ہے۔ بقیہ 18 پلر وں کی تعمیر آئندہ 30 جون تک کرنا ہے۔ اس پروجیکٹ کا آغاز اکھلیش حکومت میں یکم اکتوبر 2015 کو ہوا تھا جسے 31 دسمبر 2018 تک پورا ہونا ہے۔ فلائی اوور تعمیر میں لاپروائی برتنے کے معاملے میں پولس انتظامیہ نے بیریکیٹنگ سے خفا ہو کر اتر پردیش سیتو نگم پر 19 فروری 2018 کو بھی ایک ایف آئی آر درج ہوئی تھی لیکن اس میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اتر پردیش حکومت کے وزیر اعلیٰ سمیت مختلف وزیر اور افسر ہر مہینے وارانسی میں زیر تعمیر منصوبوں کا تجزیہ کرتے رہتے ہیں لیکن ان میں برتی جا رہی لاپروائیوں کے لیے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ رہا کہ گزشتہ منگل کو فلائی اوور حادثہ سرزد ہو گیا۔

سب سے زیادہ مقبول