یو پی ایس سی معاملہ: مودی جی! یہ مناسب نظریہ نہیں

یو پی ایس سی میں ناکام امیدواروں کے کچھ معاملے ہیں جو اپنی ناکامی کے لیے کسی خاص بورڈ کو قصوروار قرار دیتے ہیں لیکن مجموعی طور پر پورے نظام کی ایمانداری اور غیر جانبداری پر کبھی شبہ نہیں کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پرشوتم اگروال

یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) ایک بہت ہی خاص ادارہ ہے۔ 1926 میں اسے صرف مشورہ دینے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اتنے سالوں میں اس نے ایک خود مختار آئینی ادارہ کی شکل اختیار کر لی۔ یو پی ایس سی کے عروج میں قومی تحریک کے لیڈروں کا اہم کردار رہا ہے۔ ہمارے قومی تحریک کے لیڈر پوری طرح سے یہ جانتے تھے کہ مضبوط اداروں کے ذریعہ ہی ایک سچے جمہوری اور اجتماعی قوم کے مقصد کی تکمیل ہو سکتی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ کئی لوگ یا تو اپنی کم علمی کی وجہ سے یا پھر قصداً جمہوریت اور کثیریت کے درمیان فرق کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ جمہوریت صرف تعداد کا کھیل نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس کا لینا دینا اداروں اور شرائط و ضوابط سے ہے۔ ہمارے قوم کے معماروں کی نظر میں صرف آزاد عدلیہ اور غیر سیاسی فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ ایک غیر سیاسی سول سروسز کا ہونا بھی سچے جمہوری ہندوستان کے لیے ضروری تھا۔ جس ’ہندوستانی نظریہ‘ کا جشن منایا جاتا ہے وہ صرف کلچرل نہیں ہے۔ ایک قوم-ریاست کی شکل میں بنے رہنے اور خوشحال ہونے کے لیے ہندوستان کے کچھ شرائط و ضوابط اور اخلاقی رویہ ساتھ ساتھ اداروں کی ضرورت ہے جن کے پاس یقینی سرگرم خود مختاری ہو اور جو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو۔

کوئی بھی شخص یہ اچھی طرح سوچ سکتا ہے کہ ان اداروں کی کمی میں ہمیں کس طرح کی ’جمہوریت‘ حاصل ہوگی۔ درحقیقت آئین منظوری کے بعد کے ان سالوں میں کئی اداروں میں اس کا زوال ہوا ہے، ان اداروں کا اور زیادہ زوال نہ ہو اسے یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدام کیے جانے چاہئیں۔

آئین کی دفعہ 320 یو پی ایس سی کو یہ ذمہ داری سونپتی ہے کہ یونین کی سروسز میں تقرری کے لیے امتحانات منعقد کرائے۔ اس کے علاوہ سول سروسز عملوں کے خلاف ڈسپلن سے متعلق کارروائی کے لیے حکومت کو صلاح دینے جیسی ذمہ داریوں کا تذکرہ ہے۔ جہاں تک کیڈر کے الاٹمنٹ کا سوال ہے تو یہ امتحان کے انعقاد کی مدلل توسیع ہے۔

ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یو پی ایس سی نے اس کے ذریعہ منعقد تمام امتحانات میں ایمانداری کی اعلیٰ سطح قائم رکھی ہے۔ ایک طرف تو آئی اے ایس اور آئی پی ایس جیسی خدمات سے جڑی طاقت اور رتبے کو دیکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی حصولیابی ہے، دوسری طرف امیدواروں کی تعداد لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ یو پی ایس سی ان اداروں میں شامل ہے جسے اداروں کے اعتماد کے اِن کمزور دنوں میں بھی عزت حاصل ہے۔ ناکام امیدواروں کے کچھ معاملے ہیں جو اپنی ناکامی کے لیے کسی خاص بورڈ کو قصوروار قرار دیتے ہیں، لیکن کل ملا کر پورے نظام کی ایمانداری اور غیر جانبداری پر کبھی شبہ نہیں ظاہر کیا گیا ہے۔ اس لیے کیڈر الاٹمنٹ میں یو پی ایس سی کی ترجیحی فہرست کے اثر کا ہر طرف استقبال کیا جاتا ہے۔

جب بھی ہم کیڈر الاٹمنٹ میں یو پی ایس سی کے ’اثر‘ کو کم کرنے کی تجویز پر غور کریں تو ہمیں ان سبھی چیزوں پر توجہ رکھنی چاہیے۔ اگر ہم اس تجویز میں ’نظریاتی ناسمجھی‘ کی بات مان بھی لیں (جو ماننا تھوڑا مشکل ہے) تو کیڈر الاٹمنٹ میں بنیادی کورس کی کارکردگی کو اہمیت دینے کی بات دلیل پر مبنی اسباب سے بھی متاثر لگتی ہے۔

یو پی ایس سی کی ترجیحی فہرست ایک سخت مقابلے کے بعد تیار ہوتی ہے جو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ایمانداری، غیر جانبداری اور رازداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان دنوں انٹرویو کے نمبر کافی گھٹ جانے سے اب کسی ناخوشگوار ’ذاتی‘ وجہ کے ہونے کا شاید ہی کوئی سوال اٹھتا ہے۔

دوسری طرف، کیا آپ کسی اثردار ٹریننگ یا بنیادی کورس کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو ٹریننگ اور ٹریننگ لینے والے کے درمیان کسی ذاتی نزدیکی کے بغیر ممکن ہو۔ اس کے علاوہ ٹریننگ اپنی شکل کی وجہ سے ہی مقابلے سے الگ ہے اور ہم یہاں ایسے مقابلے کی بات کر رہے ہیں جو ہندوستان کے اقتدار کی تعمیر میں آپ کی مستقل جگہ یقینی بناتی ہے۔ اگر ٹریننگ کی کارکردگی کا کیڈر الاٹمنٹ میں کردار ہوگا تو کوئی بھی اس میں ’ذاتی‘ اسباب کا تصور کر سکتا ہے۔ اس تجویز کو آگے بڑھانے والے لوگ جو بات بھول رہے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ نہ صرف منفی طور پر کیڈر الاٹمنٹ پر بلکہ ٹریننگ پر بھی اثر ڈالے گا کیونکہ یہ ہر ٹرینر کے لیے قدرتی قربت زبردست طلب والی پیداوار میں تبدیل ہو جائے گی۔

اگر یہ مشورہ سچ ثابت ہوتا ہے تو ’ذاتی‘ اسباب کیڈر الاٹمنٹ جیسے عمل میں کردار نبھائیں گے جہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اور تب کون جانتا ہے کہ یہ ’سیاسی‘ اور ’درست رابطہ‘ جیسے اسباب میں بدل جائے گا؟ دوسری طرف ٹریننگ کے عمل میں جہاں ٹرینر اور ٹرینننگ حاصل کرنے والے کے درمیان ذاتی قربت ضروری ہوتی ہے اور ٹرینر میں میل جول کے جذبہ کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، ان سے یہ امید کی جائے گی کہ غیر انسانی سلوک کریں اور وہ بھی کامیابی کی بغیر کسی گارنٹی کے۔

دوسرے لفظوں میں کہیں تو بنیادی کورس میں حاصل نمبر کی بنیاد پر منحصر کیڈر الاٹمنٹ کی تجویز اس پورے عمل کی غیر جانبداری اور ٹریننگ کے معیار کو نقصان پہنچائے گا۔

شکر ہے کہ یہ ابھی تک صرف ایک مشورہ ہے۔ امید ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ لینے والے کسی اہم شخص کو اس کا نقصان صاف صاف نظر آئے گا اور وہ واضح طور سے لیکن انتہائی نرم مزاجی کے ساتھ کہہ پائیں گے کہ... محترم وزیر اعظم، یہ مناسب نظریہ نہیں ہے۔

(رائٹر یو پی ایس سی کے رکن رہ چکے ہیں۔ اس مضمون میں شامل نظریات سے ’قومی آواز‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔)

Published: 24 May 2018, 8:56 AM
next