کیرانہ نے یوگی آدتیہ ناتھ کی پریشانیاں بڑھائیں

کیرانہ اور نورپور نے نہ صرف گورکھپور اور اور پھولپور کی جیت کی لاج رکھی ، بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر بھی کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سید خرم رضا

ویسے تو 31 مئی کو آنے والے ضمنی انتخابات کے نتائج اپنے آپ میں بہت اہمیت رکھتے ہیں، لیکن اترپردیش سے جو نتائج آئے ہیں وہ موجودہ ماحول میں تاریخی نوعیت رکھتے ہیں۔ کیرانہ میں نہ تو بی جے پی ہاری ہے اور نہ ہی آر ایل ڈی جیتی ہے دراصل میں ایک بار پھر یہی کہوں گا کہ کیرانہ میں ہندوستان جیتا ہے اور تقسیم کاری اور نفرت کی سیاست ہاری ہے۔

کیرانہ میں آر ایل ڈی کی امیدوار تبسم کی جیت کو مودی۔یوگی کی ہار یا حزب اختلاف کےاتحاد کی جیت کی نظر سے دیکھنا اس جیت کی بے حرمتی کرنے کے مصداق ہے کیونکہ یہ جیت بہت ہی مقدس ہے ۔ سال 2014 سے پہلے کیا کوئی تصور کر سکتا تھا کہ اتر پردیش جیسی ریاست سے جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی رہتی ہے وہاں سے ایک بھی مسلم امیدوار لوک سبھا انتخابات میں نہ جیت پائے ، لیکن سال 2014 میں مودی کی قیادت میں جو ہندوتوا کی آندھی آئی تھی اس میں یہ بھی ممکن ہوا ۔ اس کے بعد ملک بھر میں اس آندھی نے جو تباہی مچائی وہ اتنی خوفناک تھی کہ ہر ذی شعور کو لگنے لگا کہ گاندھی کا ہندوستان خطرے میں ہے ۔ اگر کیرانہ انتخابات میں تمام مذاہب اور ذاتوں کے لوگ مل کر ایک مسلم امیدوار کو کامیاب بناتے ہیں تو یہ کامیابی کتنی مقدس اور اہمیت کی حامل ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں ۔ اس آندھی کو اپنی جس طاقت اور رفتار پر زعم تھا اس کی شکست کے لئے اتحاد ضروری تھا۔ ہندوستان ایک بار پھر کھڑا ہوا اور اس نے اس آندھی کی رفتار اورزعم کو توڑا دیا۔

اس جیت کے لئے ان انتخابی حلقے کے عوام کو تو سلام ہے ہی لیکن اس اتحاد کو بھی سلام جس نے سخت گیر ہندوتوا قووتوں کو شکست دینے کے لئے اس ماحول میں مسلم امیدوار کا انتخاب کیا۔ کیرانہ کی پارلیمانی اور نورپور کی اسمبلی سیٹوں سے مسلم امیدوار کھڑا کرنا جبکہ ریاست اور ملک میں بی جے پی بر سراقتدار ہے جبکہ دونوں ہی سیٹوں پر مرحومین کی بیٹی اور بیوہ انتخابی میدان میں تھیں۔ ہندوتوا لہر کے ساتھ ساتھ ان دونوں امیدواروں کے ساتھ ہمدردی کی لہر بھی تھی، لیکن سچے ہندوستانی اور اتحاد کے سامنے کوئی بھی لہر کام نہ آئی۔ اتر پردیش کی جیت کو اس لئے بھی مقدس کہوں گا کیونکہ یہاں سے تفریق اور نفرت کی قووتوں کو مسلم امیدواروں کے ذریعہ شکست ہوئی ہے۔

کیرانہ اور نورپور نے نہ صرف گورکھپور اور اور پھولپور کی جیت کی لاج رکھی بلکہ یوگی کی قیادت پر بھی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ ان کے وزیر اعلی بنائے جانے کے بعد سے اتر پردیش میں حکومت ہر محاذ پر ناکام نظر آ رہی ہے اور بی جے پی کو اب اس پر از سر نو غو رکرنا ہوگا کہ جو وزیر اعلی اپنی ریاست میں مقبول نہ ہو وہ دوسری ریاستوں کی انتخابی مہم میں کیسے مفید ثابت ہوں گیں۔ بہت ممکن ہے کہ بی جے پی کی قیادت اب انہیں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات میں استعمال نہ کرے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پر بی جے پی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی خراب کارکردگی کی وجہ سے پارٹی اجے سنگھ بھشٹ (یوگی آدتیہ ناتھ ) کو اب کسی اسمبلی انتخابات میں انتخابی مہم کے لئے استعمال نہ کرے کیونکہ ایک تو مخالفین ان کی اپنی ریاست میں کارکردگی کو مدا بنائیں گے دوسری اہم بات یہ ہے کہ اب عام انتخابات کے لئے وقت بہت کم رہ گیا ہے اس لئے مودی اور امت شاہ چاہیں گے کہ وہ ریاست پر زیادہ توجہ دیں ۔ اس لئے کیرانہ نے اجے سنگھ بھشٹ (یوگی آدتیہ ناتھ) کے لئے بھی مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔

Published: 1 Jun 2018, 2:46 PM