دو تیر اور شکار ایک بھی نہیں... اعظم شہاب

حکومت کے خلاف عام ناراضگی اب مذہب و طبقے کی دیوار پھاند چکی ہے اور حکومت کی یہ کوشش ناکام ہوچکی ہے کہ وہ ملک کے عوام کو یہ باور کرائے کہ یہ احتجاج صرف اور صرف مسلمانوں کا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

مرکز کی دونفری سرکار جسے لوگ باگ بی جے پی کی حکومت بھی کہتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنی میقات مکمل کرنے سے پہلے ہی اپنی حکومت کے دن مکمل کرلے گی۔ یہ بات اس لیے نہیں کہی جا رہی ہے کہ این آرسی، سی اے اے یا این پی آر کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہو رہے ہیں اور لوگ سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ ملک کی تباہ ہوتی معیشت، دن بہ دن بڑھتی ہوئی بیروزگاری، سرکاری محصول کے اداروں کے پرائیویٹائزیشن، تعلیمی اداروں کی بربادی وغیرہ کی جانب سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے جس ہتھکنڈے کو استعمال کیا گیا تھا، ملک کے عوام اب اس کو سمجھنے لگی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج پورے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ دلت، سکھ، عیسائی غرض کہ عام سیکولر ہندو بھی سڑکوں پر اترا ہوا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کے خلاف عام ناراضگی اب مذہب وطبقے کی دیوار پھاند چکی ہے اور حکومت کی یہ کوشش ناکام ہوچکی ہے کہ وہ ملک کے عوام کو یہ باور کرائے کہ یہ احتجاج صرف اور صرف مسلمانوں کا ہے۔

ابتداء میں بی جے پی نے یہ کوشش ضرور کی این آر سی و سی اے اے کے خلاف احتجاج کو مسلمانوں کا احتجاج بنا دے، جس میں اس نے اپنی ذیلی تنظیموں کو اپنے موقف کی حمایت کے لیے سڑکوں پر اتارا۔ مسلم راشٹریہ منچ کے تحت کچھ علماء کرائم (میں نے کرائم کا لفظ قصدا لکھا ہے، ہوسکتا ہے کہ قومی آواز کا موقف مجھ سے علاحدہ ہو) نے بھی حکومت کی حمایت کی، کچھ شاہی اماموں نے بھی ہاں میں ہاں ملایا، لیکن عوام بہت جلد سمجھ گئی یہ سب کس لیے ہو رہا ہے۔ عوام نے ان کی اپیلوں، ان کے مقدس و نورانی شبیہوں، ان کی عبا و قبا پر لبیک کہنے کے بجائے سڑکوں پر اترکر اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ کیا یہ حسنِ اتفاق نہیں ہے کہ وہ مسلم خواتین جن کے پردے میں رہنے کے موضوع پر زوردار تقریریں ہوا کرتی تھیں، آج وہی حکومت کے خلاف نہ صرف ایک مضبوط آواز بنی ہوئی ہیں بلکہ وہ ملک وآئین کے تحفظ کی اس مہم کی قیادت بھی فرمارہی ہیں، جس میں تمام مذاہب کے لوگ شریک ہو رہے ہیں؟

اگر بالفرض حکومت اپنے بنائے ہوئے قوانین واپس نہیں لیتی ہے اور بزورطاقت اس مہم کو کچلنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ اس کی دوہری بڑی غلطی ہوگی، جسے اس کے تابوت کی آخری کیل بھی کہا جاسکتا ہے۔ وہ اپنے زیراقتدار ریاستوں میں ظلم وستم کو بطور مثال پیش کرکے لوگوں کو خوفزدہ ضرور کررہی ہے، لیکن براہ راست اس مہم کو طاقت کے زور پر روکنے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پروپیگنڈہ مشینری کے ذریعے اس مہم کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی تاکہ عوام کو اس سے بدظن کیا جاسکے۔ لیکن وہ شاید یہ بات بھول رہی ہے کہ گزشتہ 6 سالوں سے عوام کو اس مشینری کا بھرپور تجربہ ہوچکا ہے، لہذا وہ اس کے پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہو رہی ہے۔ اپنی اسی کوشش کے تحت اس نے بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد راون کو گرفتار کیا، لیکن عدالت کی پھٹکار نے اس کی رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ آزاد کی گرفتاری دلت برادی کو خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، لیکن ہوا اس کے برخلاف کہ دلت برادری مزید جوش وجذبے کے ساتھ حکومت کے خلاف میدان میں اترگئی ہے۔ حکومت کے خلاف اس مہم میں دلت برادری کی جانب سے جو سوالات اٹھائے جارہے ہیں، وہ اب ملکی آئین کے تحفظ کا سوال بن گئے ہیں۔

بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد روان نے جیل سے رہا ہونے کے بعد میڈیا کے سامنے مودی کے اس جھوٹ کو اجاگر کردیا کہ مودی حکومت اس احتجاج کو مسلمانوں کا احتجاج بتاکر ملک کے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ عدالت نے آزاد کے دہلی میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آئندہ چند روز میں آزاد ایک بار پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں، کیونکہ ان کا باہر رہنا مودی حکومت کی ناکامیوں میں سے ایک ہوگا۔ اگر آزاد باہر رہ جاتے ہیں تو بعید نہیں کہ اس احتجاجی مہم سے مسلمان پسِ پردہ چلے جائیں اور دلت ان کی جگہ لے لیں۔ دلتوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لیے آزاد کی رہائی کے وقت گودی میڈیا نے ان کے اور مایاوتی کے درمیان اختلاف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس نوجوان نے جس طرح اسے گھر کا معاملہ بتاکر اسے نظر انداز کیا، وہ اس کی سیاسی سوجھ بوجھ کی نہایت عمدہ مثال ہے۔

اب ذرا کچھ باتیں مسلمانوں کی۔ اللہ کی قدرت کاملہ پرہم مسلمانوں کا ایمان نہایت قوی ہے۔ ہونا بھی چاہیے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اسی کے ساتھ اللہ کے علیم وقدیر ہونے پر یہ ایمان بھی لازمی ہے کہ اللہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری کائنات کا بھی مالک ہے۔ وہ سنگھ پریوار کا بھی مالک وحاکم ہے اور بی جے پی کا بھی۔ وہ ملک کا بھی حاکم ہے اور ملک کی عوام کا بھی۔ لیکن شاید ہم نے اللہ کی اس وصف پر اپنا ایمان مضبوط نہیں کیا، وگرنہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بھی طاقت کا متقاضی ہوتا ہے اور یہ طاقت جسمانی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی وسیاسی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے جب ہم مسلمان فرقہ فرقہ اور مسلک مسلک کھیل رہے تھے تو سنگھ پریوار اپنی صفیں درست کر رہا تھا اور حکومت میں آنے کے جتن کررہا تھا۔ سنگھ پریوار کو معلوم ہے کہ اس ملک میں اگر کچھ کیا جاسکتا ہے، اپنے نظریات کو ملک میں نافذ کیا جاسکتا ہے تو اس کے لیے قانون بنانے پڑیں گے اور وہ اس کام میں لگ گیا۔ لیکن شکریہ مودی جی وامت شاہ جی کہ آپ نے مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلادیا کہ انہیں اللہ کی کبریائی پر ایمان کے ساتھ ساتھ اپنی آواز بھی بلند کرنی چاہیے۔ آپ نے مسلمانوں کو ملک کا آئین سمجھادیا اور انہیں یہ بھی سمجھادیا کہ اس آئین نے تمام لوگوں کو برابری کے حقوق دیئے ہیں۔ ورنہ مسلمان باباصاحب امبیڈکر تک کا نام نہیں جانتے تھے۔ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ملک کا آئین بھی کوئی چیز ہے جس میں ان کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔

ایک تیر سے دوشکار کی کہاوت تو آپ نے سنی ہی ہوگی۔ لیکن مودی حکومت کی مثال دو تیر سے ایک بھی شکار نہیں والی ہوگئی ہے۔ آسام کے 14 لاکھ ہندو وں کو ملک کی شہریت دینے کے لیے سی اے اے قانون لایا گیا، لیکن اس سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دلتوں کو بھی حکومت کا مخالف بنا دیا۔ پھر سی اے اے کی سنگینی کو کم کرنے کے لئے این پی آر لایا گیا لیکن اپنے نفاذ سے قبل ہی اس نے ملک کے عوام کو یہ سمجھا دیا کہ وہ این آر سی کی پہلی کڑی ہے۔ بی جے پی چلی تھی ملک کے عوام کو ہندوتوا کا نشہ پلانے، لیکن یہ داؤ اس پر ہی الٹا پڑگیا ہے۔ اب اسے بی جے پی کی بدنصیبی کہیں یا ملک کی خوش قسمتی کہ مودی وشاہ کا موازنہ ملک کے عوام ہٹلر ومسولینی سے کرنے لگے ہیں۔ اور شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہٹلر ومسولینی کا انجام کیا ہوا تھا۔ اس لیے یہ قیاس یقین کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے کہ بی جے پی کی دونفری حکومت اپنی میقات شاید مکمل نہ کرسکے۔

Published: 19 Jan 2020, 9:11 PM