ہندوستان میں حقیقت پسندی ختم کرنے کی کوشش!... نواب علی اختر

موجودہ وقت میں اگر دیکھا جائے تو حکومت کے رویئے سے مضبوط اور تاریخی جمہوریت کے حامل ہندوستان کی جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

نواب علی اختر

ساری دنیا میں اس وقت ہر سیاسی پارٹی دائیں بازو کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے نفرت انگیزی، زہر افشانی اور اشتعال کا سہارا لے رہی ہیں۔ ہندوستان سے لے کر امریکہ کے حالیہ انتخابات تک جہاں تک بھی نظر جاتی ہے، نسل کشی، نفرت انگیزی، مذہبی دل آزاری جیسے واقعات نے انتہا پسند لیڈروں کو ان کی اوقات دکھادی ہے، باوجود اس کے کچھ بے شرم لوگ ایسے بھی ہیں جو علاقے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں رسوا اور ذلیل وخوار ہو کر بھی نام نہاد ’راشٹر بھکتی‘ کا چولا اتارنے کو تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ ایسے تمام لیڈروں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پر امن سماج میں زہر گھولنے اور بھائی کو بھائی سے لڑا کر اپنا سیاسی وجود بہت دن تک برقرار نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ سماج اور نوجوان سیاسی راشٹر بھکتی اور حقیقی حب الوطنی کا مطلب سمجھنے لگے ہیں۔

زمانہ قدیم میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت سیاسی لیڈران سمیت بلا تفریق عوام مذہب سے بالا تر ہو کر مہذب سماج کو قائم رکھنے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے تھے۔ یہ تو ابھی 5-6 سال کے عرصے میں ہی دیکھا گیا ہے جب تاریخ کے کسی کونے میں بھی جگہ نہ پانے والے شدت پسندانہ نظریات کے حامل لوگوں نے سیاست کا ایک نیا مطلب نکال لیا ہے جس میں کرسی حاصل کرنے کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنا ہے خواہ ان کے اس طرزعمل سے انسانی خون کی ندیاں ہی کیوں نہ بہہ جائیں۔ ایسے سماج مخالف نظریات کے دلدل میں پلے بڑھے لوگوں کو جب سماج نے حقارت کی نظروں سے دیکھنا شروع کیا تو انہوں نے اپنی تحقیر کا بدلہ لینے کے لیے سیاسی ہتھیار اٹھا لیے اور پھر جو بھی ان کے سامنے آیا اسے مکمل طور پر ٹھکانے لگا دیا۔

2014 کے لوک سبھا انتخابات سے شروع ہوا نفرت انگیزی اور تقسیم کا سلسلہ حیدرآباد کے بلدیاتی انتخابات تک پہنچا ہے۔ لیکن بہار اسمبلی انتخابات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ منفی سوچ کی زمین اب تنگ ہوگئی ہے جو کبھی بھی اپنی موت آپ ہی مرسکتی ہے۔ امریکہ کے حالیہ انتخابات میں بھی نسل کشی، نفرت، مذہبی دل آزاری جیسے واقعات نے موجودہ صدر کو کرسی سے ہٹانے کا فیصلہ سنایا ہے۔ ہندوستان میں بھی ٹرمپ کے نظریات کی حامل قیادت کو فی الحال عوامی تائید حاصل ہے لیکن یہ پارٹی کب تک خیر منائے گی کیونکہ اب تک اس پارٹی کی کامیابی کی دوڑ برقرار ہے لیکن حیدرآباد میں اس نے فرقہ پرستی کے کارڈ کا استعمال کرکے عوام کو منقسم کرنے کی جو کوشش کی ہے، اس کے نتائج سوچ کر ہر امن پسند شہری فکر مند ہے۔

یہ حالات ابھی چند سالوں میں ہی پیدا کیے گئے ہیں جب ایک خاص نظریئے کے تحت اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کچھ لوگوں نے سیاست کی انگلی پکڑی تو چشم زدن میں ہی آفتاب سیاست بننا چاہتے تھے۔ ان کے لیے نہ تو ملک کی روایت اہمیت رکھتی ہے اور نہ ہی عوام کے حقوق کا کوئی پاس لحاظ ہے انہیں صرف اپنے مقاصد پورے کرنے ہیں۔ موجودہ وقت میں کچھ ممالک کے سربراہ ایسے ہیں جوعوام بشمول تعلیم یافتہ طبقہ کو یہ احساس کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تمہیں کچھ معلوم ہی نہیں ہے، جو ہم کہہ رہے ہیں وہی سچ ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کو اس بات پر دھیان دینا ہوگا کہ جہاں پر جمہوری حقوق نہیں ہیں وہاں تو ایسی باتیں کی جاسکتی ہیں مگر ہندوستان اور امریکہ جیسے ممالک میں جہاں مضبوط جمہوریت ہے وہاں اس طرح کی روش واضح طور پر تاناشاہی کہی جائے گی۔

امریکہ میں آئے حالیہ بدلاو کا سہرا وہاں کے مضبوط نظام کے سرباندھا جاسکتا ہے جہاں لوگوں کی جو سوچ (ناراضگی یا خوشی) تھی وہ کھل کر سامنے آئی جس کے بعد صورتحال پوری طرح پلٹ گئی لیکن تاریخ میں اس کے برعکس جرمن اور اٹلی میں جب ہٹلر یا مسولینی کا دور تھا، وہاں جب حقوق ہی نہیں رہ گئے تو اسی انداز میں چلتا رہا مگر ہندوستان یا دیگر کئی ممالک بشمول برازیل میں جہاں اس طرح کی طاقتیں ابھریں ان کے خلاف احتجاج ہوئے، وہاں پر اثرات نظر آئے کیونکہ وہاں جمہوریت مضبوط ہے۔ جرمنی اور اٹلی جیسے ممالک جہاں جمہوریت کمزور کردی گئی وہاں یہ لوگ بہت گہرا زخم دے کر گئے۔ ان حالات میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا ہمارے لیے مثال بنتے ہیں جہاں ایسی طاقتیں سر اٹھاتے ہی ختم کر دی جاتی ہیں۔

نیوزی لینڈ جہاں ایک مسجد میں جاکر ایک شخص گولہ باری کرتا ہے اور حکومت بدنیتی سے آزاد ہو کر بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسے ہینڈل کرتی ہے اور دوسروں کو شبہ کے دائرے میں نہیں کھڑا کرتی ہے۔ اسی طرح آج نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کورونا کے معاملے میں بھی سب سے کامیاب ممالک کہے جا رہے ہیں کیونکہ یہ ممالک تمام دنیاوی تماشوں سے الگ اپنے عوام کی بہتری کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں اورعوام کو جو حقوق حاصل ہیں انہیں جبراً سلب کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ اسی لئے ان ممالک کے عوام کھل کر اپنی بات رکھتے ہیں اور جو بھی حقیقت ہوتی ہے وہ سامنے آتی ہے۔ حکومت اورعوام کے درمیان جو مسئلہ ہوتا ہے اسے خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا جاتا ہے۔ لیکن جب حکومت تانا شاہ ہوجاتی ہے اور جمہوریت نہیں رہ جاتی ہے تو حالات جرمنی اور اٹلی جیسے بن جاتے ہیں۔ جس طرح جرمنی میں ہٹلر اور مسولینی جو آئے تو جمہوری طریقے سے ہی تھے مگر انہوں نے جمہوری حقوق ختم کر دیئے۔

ان حالات میں اگر دیکھا جائے تو وطن عزیز کو جن سنگین مسائل کا سامنا ہے، ان سے عاجز آکر آئے دن عوام سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور اپنے حقوق کا استعمال کر رہے ہیں مگرحکومت ہر معاملے کو اپنی انا کا سوال بنا کرعوامی آواز کو بزور طاقت دبانے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت حقیقت کا سامنا کرنے کو ہی تیار نہیں ہے یا یہ کہنا شاید غلط نہیں ہوگا کہ ہندوستان میں حقیقت پسندی ختم ہو رہی ہے (یا ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں) جو اصلی خطرہ ہے۔ جب آدمی حق وباطل میں فرق کرنا ہی بھول جائے گا تو پھر زیادتی،غلط اور استحصال کی بات بے معنیٰ ہوجاتی ہے۔ موجودہ وقت میں اگر دیکھا جائے تو حکومت کے رویئے سے مضبوط اور تاریخی جمہوریت کے حامل ہندوستان کی جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین
next