شاہین باغ کو بدنام کرنے کی ملے گی سزَا... نواب اختر

اگر شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کروانا ہے تو حکومت کو اپنی مذہبی منافرت سے توبہ کرکے سی اے اے قانون کو واپس لینے کی بات مظاہرین سے کرنی ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

اب جب کہ دہلی اسمبلی انتخابات 2020 کے لیے ووٹ ڈالے جا چکے ہیں اور ایک کروڑ47 لاکھ ووٹروں کے ذریعہ لکھی گئی تقریباً 672 امیدواروں کی قسمت 11 فروری تک کے لیے ای وی ایم میں قید کی جا چکی ہے۔ اس دوران وہ پارٹی تو اپنی جیت کا دعویٰ کر ہی رہی ہے جس کومختلف چینلوں کے ایکزٹ پول پہلے ہی حکومت بنانے کی دعوت دے چکے ہیں، مگر وہ پارٹی بھی ہار ماننے کے لئے تیار نہیں ہے جس نے دہلی کے انتخابات کو فسطائیت کی آگ میں جھونک کر پوری طرح ہندوستان اور پاکستان کی لڑائی میں بدلنے کی کوشش کی، حالانکہ ایکزٹ پول پر اگر یقین کیا جائے تو راجدھانی کے ووٹروں نے اس بار بھی اپنی دانشمندی کا ثبوت د یا اورفسطائیت کو پس پشت ڈال کرصرف اور صرف عوامی سہولیات کو ترجیح دے، سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

دہلی اسمبلی میں خاص طور پر تین اہم پارٹیاں ہی انتخابی میدان میں تھیں جن میں حکمراں عام آدمی پارٹی، بی جے پی اور کانگریس قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ کئی علاقائی پارٹیاں بھی کسی نہ کسی قومی پارٹی کے سہارے اپنا وجود ثابت کرنے کی جدوجہد کرتی نظرآئیں۔ جہاں عام آدمی پارٹی اپنے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہی تھی اورعوام کو اپنے کاموں کی یاد دہانی کروا کر آئندہ پانچ سال کے لئے اپنے منصوبوں کو بھی پیش کرتے ہوئے عوام سے دوبارہ ووٹ مانگ رہی تھی۔ دوسری جانب بی جے پی ہے جس نے انتخابی مہم کو مذہبی رنگ دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔ حالانکہ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ دہلی کے نتائج حیران کرنے والے ہوں گے۔

یاد رہے کہ مرکز کی مودی حکومت کو پچھلے سوا سال کے دوران پانچ ریاستی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ شامل ہیں۔ اسی لیے بھگوا پارٹی کے لیڈر اور کارکنان کی مایوسی اور پارٹی میں خلفشار پر قابو پانے کی خاطر دہلی کے ریاستی انتخابات کو جیتنے کے لیے بی جے پی سر توڑ کوششیں کرتی نظر آئی اور اس کے لیے انتخابی مہم کی کمان وزیر داخلہ امت شاہ نے خود سنبھالی۔ اس انتخابی مہم میں بی جے پی کے رہنماوں نے دہلی شہر کے بنیادی مسائل پر اتنی بات نہیں کی جتنی ہندو مسلم تفریق اور پاکستان پر ہنگامہ مچایا۔ جنوبی دہلی کے شاہین باغ میں متنازعہ قانون سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلا ف تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جاری خواتین اور سول سوسائٹی کے مظاہرے کی نکتہ چینی دہلی کے انتخابات میں خاص موضوع رہا۔ بھگوا پارٹی کے لیڈروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ 11 فروری کو دہلی کی سڑکوں پر ہندوستان کا مقابلہ پاکستان سے ہوگا۔ ایک بھگوا لیڈر نے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو دہشت گرد قرار دے دیا تو ایک نے مخالفت کرنے والوں کو غدار قرار دیتے ہوئے انہیں گولی مارنے کی بات کہی۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ ووٹ دیتے وقت بٹن کو اتنی زور سے دبانا کہ کرنٹ شاہین باغ تک جائے اور وہ سب اٹھ کر اپنے گھر بھاگ جائیں۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شاہین باغ ایک نظریہ ہے جہاں بھارتی پرچم اور آئین کی آڑ میں ملک کو توڑنے والی طاقتوں کو اسٹیج پر دعوت دی جاتی ہے۔ بی جے پی کسی بھی قیمت پر دہلی میں اقتدار حاصل کرنا چاہتی تھی اور اس کے لئے اخلاقیات واقدار کی مہم کو پس پشت ڈالتے ہوئے مذہب کو بنیاد بنا دیا۔ انہوں نے تقریباً ہر جلسہ اور ہر تقریر میں شاہین باغ کا استحصال کرنے کی کوشش کی۔ احتجاجی خواتین کوملک دشمن ثابت کرنے کی بھی تمام کوششیں کی گئیں۔ یہ حقیقت ہے کہ شاہین باغ میں جو احتجاج ہو رہا ہے وہ مرکزی حکومت کے خلاف ہے۔ بلا تفریق مذہب عوام مرکزی حکومت کے سیاہ قوانین اور پالیسیوں اور اس کے منصوبوں کے خلاف احتجاج کر ر ہے ہیں۔ اگر شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کروانا ہے تو حکومت کواپنی مذہبی منافرت سے توبہ کرکے سی اے اے قانون کو واپس لینے کی بات کرنی ہوگی۔ شاہین باغ کے عوام سے رابطہ کرتے ہوئے ان سے بات چیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

اس کے برعکس شاہین باغ کو بدنام کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے امت مالویہ کی طرف سے ایک فرضی ویڈیو اپ لوڈ کرکے یہ مشہور کیا گیا کہ شاہین باغ میں پیسے دے کر دھرنے پر بیٹھنے کے لئے عورتیں لائی گئیں۔ مختلف ذرائع ابلاغ نے جب اس مبینہ فرضی اسٹنگ کا انکشاف ہوا تو کسی نے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ جو ویڈیو شاہین باغ کو بدنام کرنے کے لئے اپ لوڈ کیا گیا تھا وہ شاہین باغ سے آٹھ کلومیٹر دور ریکارڈ کیا گیا تھا۔ شاہین باغ کو کتنے امتحانات سے گزرنا پڑ رہا ہے، دھرنے میں بیٹھی خواتین کے اسٹنگ کیے جا رہے ہیں کہ وہ کہیں پاکستان زندہ باد کا نعرہ تو نہیں لگا رہی ہیں۔ شاہین باغ میں کئی لوگوں نے اسٹنگ کیے مگر ملا کچھ نہیں، مگر یہ سوچ بتاتی ہے کہ اس طرح کے لوگ معاشرے میں کس ذہنیت کا بیج بو رہے ہیں۔ شاہین باغ میں گولیاں چلیں، پستول لے کر لڑکا پہنچ گیا، شاہین باغ پر حملہ کرنے کے لئے جتھے بھیجے گئے، ان میں گونجا کپور نامی خاتون جو برقع پہن کر شاہین باغ پہنچی تھی اس کو ٹوئٹر پر وزیر اعظم خود فالو کرتے ہیں۔

شاہین باغ کا دھرنا پرامن رہا ہے، کوئی تشدد نہیں ہوا پھر بھی اس دھرنے کے حوالے سے حکومت کے وزیر سے لے کر بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ نے کیا کیا نہیں کہا۔ اس دھرنے کو لے کر خطرے کی ایسی ایسی تصور پیش کی گئی جیسے لگا کہ ہندوستان میں کوئی نظام حکومت ہی نہیں ہے۔ جنوبی بنگلور سے بی جے پی کے کم عمر رکن پارلیمان تیجسوی سوریہ نے کہا کہ اگر ملک کی اکثریتی برادری ہوشیار نہیں رہے گی، تو پھر مغلیہ حکومت کے آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ایسے لیڈروں پر ترس آتا ہے، کیا کسی محلے کی بھیڑ دہلی پر مغل راج قائم کر دے گی، تاریخ کا اس طرح سے دیکھا جانا آبادی کے اس حصے کو بیمار کرنے لگے گا جنہیں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ ایک محلے میں دھرنے پر بیٹھے لوگ ہندوستان جیسے عظیم ملک پر مغل راج قائم کر دیں گے۔ محلے سے مغل راج قائم ہونے کا یہ بیان خطرناک بھی اور مضحکہ خیزبھی۔

شاہین باغ کی احتجاجی خواتین کے تعلق سے گستاخانہ ریمارکس کیے گئے اور ان کے مقام کو گھٹانے کی ہرکوشش کی گئی، شاہین باغ کے احتجاج کو سیاسی سازش کا حصہ تک قرار دیا گیا لیکن یہ اعتراف نہیں کیا گیا کہ یہ حکومت کے خلاف عوامی برہمی ہے۔ دہلی کی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے رہنماؤں نے جس قسم کی نفرت انگیز زبان استعمال کی اس نے ماحول کو کافی کشیدہ کر دیا

Published: 9 Feb 2020, 7:11 PM