رونے والوں کو رونے کا بہانہ چاہیے... اعظم شہاب

یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کے سرکار دربار میں چلے جانے سے امت کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی، کیونکہ موجودہ پیشہ ورانہ سیاست میں ہر رہنما اور وزیر صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد میں کام کرتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

پینے والوں کو جس طرح پینا پلانا اچھا لگتا ہے اسی طرح کچھ رونے والوں کو رونا رلانا اچھا لگتا ہے۔ کسی شرابی سے پوچھا گیا کہ تم کب پیتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا جب بارش ہو رہی ہو یا نہیں ہو رہی ہو۔ ان دونوں حالات کے سوا کوئی کیفیت نہیں ہوتی، اس لیے ہر حالت میں مئے نوشی کا شغل جاری رہتا ہے۔ رونے والے بھی نت نئے بہانوں سے رونے دھونے کا اہتمام فرما لیتے ہیں۔ مثلاً ایک زمانے میں مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی پر صفِ ماتم بچھی ہوئی تھی۔ اس لیے کہ مختلف صوبوں میں بی جے پی کی حکومت پہلے سے قائم تھی یا بن رہی تھیں۔ مسلمان سیاسی اعتبار سے حاشیے پر چلے گئے ہیں، یہ شور بپا تھا۔ حالانکہ اس بیچ مختلف صوبوں اور ایوان پارلیمان میں مسلمانوں کی نمائندگی میں کوئی بڑا فرق نہیں آیا۔ ان کی تعداد تو وہی رہی مگر وزارت سے محروم ہوگئے، کیونکہ حزب اختلاف میں تھے۔ اس کے بعد آندھرا اور تلنگانہ میں نائب وزیر اعلیٰ بن گئے لیکن پھر بھی حالت نہیں بدلی۔ جھارکھنڈ میں سب سے پہلے مسلمان وزیر کی حلف برداری ہوئی اور مہاراشٹر کے اندر دس میں سے چار کو وزارت مل گئی، پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔

یہ بات درست ہے کہ مسلمانوں کے سرکار دربار میں چلے جانے سے امت کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی، کیونکہ موجودہ پیشہ ورانہ سیاست میں ہر رہنما اور وزیر صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد میں کام کرتا ہے۔ اس لیے کسی طبقہ کے فرد کا وزیر بن جانا اس قوم کے کسی کام نہیں آتا۔ تھوڑا بہت جو فائدہ ہوجاتا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دوکاندار اپنے مسابق پر سبقت حاصل کرنے کے لیے سہولت کا اعلان کردے یعنی قیمتیں گھٹا دے۔ اس کا یہ اقدام گاہکوں کے مفاد میں نہیں ہوتا مگر ان کا فائدہ ہوجاتا ہے۔ سیاسی دوکانوں سے ملنے والا فائدہ بھی اسی قبیل کا ہے۔ لیکن اگر یہ اس قدر غیر اہم اور فضول سی شئے ہے تو اس سے محرومی کا ماتم چہ معنیٰ دارد؟ یہ عجیب معاملہ ہے کہ جب کوئی چیز نہ ملے تو اہم اور ملنے پر غیر اہم ہوجائے۔ لیکن شاید انسانی فطرت اسی طرح کی ہے۔ اس لیے ندا فاضلی کہتے ہیں۔

دنیا جسے کہتے ہیں ماٹی کا کھلونا ہے

مل جائے تو مٹی ہے کھوجائے تو سونا ہے

سیاست کی دنیا میں نیتا کو تو بہت کچھ ملتا ہے، لیکن جنتا بیچاری کو کھونا ہی پڑتا ہے۔ خیر خدا خدا کرکے مہاراشٹر میں حکومت بنی اور طویل انتظار کے بعد وزارت سازی بھی ہو گئی۔ 2019کے انتخابات میں پچھلی مرتبہ کے مقابلہ مسلم نمائندگی میں ایک کا اضافہ ہوا۔ یعنی پہلے 9 ارکان اسمبلی مسلمان تھے اس بار دس ہوگئے۔ یہ توقع کی جارہی تھی کہ ایم آئی ایم کی آندھی چلے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے پہلے بھی دو ارکان تھے اس بار بھی تعداد دو ہی رہی۔ لیکن پرانے مقامات کو گنوا کر وہ دو نئے مقامات سے کامیاب ہوگئی۔ سماجوادی پارٹی نے ایک کا اضافہ کیا اور شیوسینا کے ٹکٹ پر بھی پہلی بار ایک مسلمان نے اپنی کامیابی درج کرائی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی آبادی کے لحاظ سے مسلمان30 حلقہ ہائے انتخاب کے نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، لیکن اثر انداز ہونا اور اپنے امیدوار کو کامیاب کرنے میں بڑا فرق ہے۔ سارے مسلمانوں کا کسی ایک کے حق میں متحد ہوجانے کا ردعمل بھی ہوجاتا ہے۔ اس لیے مخالفین کے منقسم ہونے کا فائدہ نہیں ہو پاتا۔

مہاراشٹر کے انتخابات میں تقریباً13 مقامات پر مسلمان امیدوار دوسرے نمبر پرآئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کچھ کامیاب ہوسکتے تھے۔ مثلاً سابق کانگریسی وزیر اور ایوان میں پارٹی کے ڈپٹی رہنما عارف نسیم خان صرف 419 ووٹ کے فرق سے ہار گئے۔ جبکہ ایم آئی ایم کے امیدوار کو 11 سو ووٹ مل گیے۔ لیکن اسی طرح کے ووٹوں کی تقسیم سے ذیشان صدیقی جیت گئے۔ باندرہ ایسٹ کے علاقہ سے جہاں وزیر اعلیٰ کا گھر تھا، شیوسینا نے اپنا امیدوار بدل کر ممبئی شہر کے میئر مہاڈیشور کو ٹکٹ دے دیا اور وہ 5833 ووٹوں سے ہار گئے جبکہ باغی امیدوار ترپتی ساونت کو 24 ہزار ووٹ ملے۔ اس طرح حساب برابر ہوگیا۔ ویسے بھی مسلمان ارکان اسمبلی کی سب سے زیادہ تعداد 1999 میں جملہ 13 تھی۔

ان میں سب سے دلچسپ کہانی عبدالستار کی ہے۔ وہ کانگریس کے رکن اسمبلی اور وزیر بھی رہے ہیں۔ پارلیمانی انتخاب کے وقت وہ کانگریس کے ٹکٹ پر اورنگ آباد سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔ ٹکٹ نہیں ملا تو اسمبلی انتخاب کے وقت بی جے پی کی چوکھٹ پر پہنچے۔ اس نے دھتکار دیا تو شیوسینا کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے اور کامیاب ہوگئے۔ این سی پی نے اپنے دونوں منتخبہ ارکان اسمبلی کو کابینی وزیر بنا دیا۔ کانگریس نے بھی اپنے ایک رکن کو کابینی وزیر بنوایا مگر بیچارے عبدالستار کو وزیر مملکت کا درجہ دیا گیا۔ شیوسینا نے چونکہ انہیں کابینی درجہ نہیں دیا، اس لیے ناراض ہو کر استعفیٰ دینے جارہے تھے، لیکن پھر معلوم نہیں کیا ہوا کہ انہوں نے خود ہی اسے ایک افواہ قرار دے کر میڈیا کے سرٹھیکرا پھوڑ دیا۔ لیکن اگر وہ استعفیٰ دے بھی دیتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ جائیں گے کہاں؟ اس لیے بھلائی اسی میں ہے کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی پر ہی وہ گزارہ کرلیں۔

اس موقع پر جبکہ مسلم وزرا نے حلف لے لیا تھا، بی جے پی والوں پر کیا گزرری ہوگی؟ اس کا اندازہ ممبئی بی جے پی کے صدر منگل پربھات لودھا کی امین پٹیل کے خلاف انتخابی مہم کی تقریر سے کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا ”جب بی جے پی اور سینا کے لوگ حلف لے رہے ہوں گے تب آپ کو کیسا لگے گا کہ ایک ایسا فرد حلف لے رہا ہوگا جو آپ کو نہ من سے پسند ہے نہ تن سے پسند ہے۔ نہ ذات سے پسند اور نہ نظریہ سے پسند ہے“۔ منگل پربھات لودھا نے اپنی پسند کے امیدوار کو کامیاب کرنے کے لیے کہا تھا ”آپ یہ بھی یاد رکھیے کہ1992 کے فساد میں اس ممبئی میں کتنے بم بلاسٹ ہوئے؟ کتنی گولیاں چلیں؟ یہ ساری صنعت یہاں کے5 کلومیٹر کی گلیوں میں ہے۔ ان کے ووٹوں سے اور ان کا ساتھ لے کر جو فرد کامیاب ہوگا وہ آنے والے وقت میں آپ کا کیا خیال رکھے گا؟“ لیکن ہوا یوں کہ فی الحال شیوسینا ان کا خوب خیال رکھ رہی ہے۔ امین پٹیل کو ہرانے کے لیے لودھا نے ایک دلچسپ نعرہ لگایا تھا ”اب تو نگاڑہ بج ہی چکا ہے سرحد پر شیطان کا، تو نقشے سے نام مٹا دو پاپی پاکستان کا“۔ مہاراشٹر کے اسمبلی انتخاب کا پاکستان سے کیا تعلق؟ یہ تو لودھا ہی بتا سکتے ہیں، لیکن جس شیوسینک امیدوار کو جتانے کی خاطر وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے، وہ اگر جیت جاتا تو بعید نہیں کہ وزیر بن کر اس کا بدلہ لیتا۔

فی الحال مہاراشٹر کی حکومت میں چار مسلم وزیر ہیں۔ لیکن پینے والوں کی ہی طرح کچھ رونے والوں کو اس بات پر رونا آرہا ہے کہ 10 میں سے صرف 4 مسلمانوں کو ہی وزیر کیوں بنایا گیا؟ سبھی کو بنا دینا چاہیے تھا۔ لیکن جس طرح پینے والوں کو پینے کا بہانا چاہیے، اسی طرح بیچارے ان رونے والوں کو بھی رونے کا بہانہ چاہیے۔ یہ روتے ہی رہیں گے۔ اگرخدا نخواستہ دس کے دس مسلمان ممبرانِ اسمبلی بھی وزیر بنا دیئے جاتے تو یہ اس بات روتے کہ جس طرح ادھوٹھاکرے بغیر ایم ایل اے کے وزیراعلیٰ بن گیے ہیں، اسی طرح مسلمانوں کے کسی سرکردہ اور دانشور فرد کو وزیر کیوں نہیں بنایا گیا؟ اور اگر بالفرض یہ بھی ہوجاتا تو پھر رونا اس بات کا ہوتا کہ فلاں صاحب ان سے زیادہ اہل ہیں، ان پر حکومت کی نظرکرم کیوں نہیں پڑی؟ یہ بیچارے رونے والے یہ فرض کیے بیٹھے ہیں کہ جتنے زیادہ مسلمان وزیرہون گے، مسلمانوں کی فلاح وبہبود اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اب بھلا ان عقل کے ادھار والوں کو کون سمجھائے کہ وزیر کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پوری ریاست کا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کل اپنی پارٹی سے وفاداری ہی ریاست کی وفاداری بن چکی ہے۔