سیاسی

تیسرا محاذ: کیا کے سی آر مودی کے لئے بلے بازی کر رہے ہیں؟

تلنگانہ کے وزیر اعلی چندر شیکھر راؤ ایک ایسی کوشش کر رہے ہیں جو ماضی میں ہمیشہ ناکام ہوتی رہی ہے۔ تیسرا محاذ بنانے کی کوششیں پہلے بھی ہوئی ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

تصویر / <a href="https://twitter.com/ANI">@ANI</a>

سرور احمد

تلنگانہ کے وزیر اعلی چندر شیکھر راؤ ایک ایسی کوشش کر رہے ہیں جو ماضی میں ہمیشہ ناکام ہوتی رہی ہے۔ تیسرا محاذ بنانے کی کوششیں پہلے بھی ہوئی ہیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کی کوششوں کے بعد یہ سوال کھڑا ہونے لگا ہے کہ آیا کے سی آر مودی کے لئے بلے بازی کر رہے ہیں؟

غیر بی جے پی، غیر کانگریس جماعتوں کے اتحاد کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے اس کی شروعات 1989 سے مانی جا سکتی ہے، جب وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے مرکز میں جنتا دل کی حکومت بنائی تھی۔ ان کی حکومت بی جے پی اور لیفٹ پارٹیوں کے سہارے کھڑی تو ہو گئی تھی لیکن اپنے دم پر اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان انتخابات میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی اور سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود کانگریس نے حکومت سازی کی کوشش نہیں کی کیوں کہ وہ اکثریت سے 80 سیٹیں دو ر تھی۔

ایک سال بعد بی جے پی کے ذریعہ حمایت واپس لینے کی وجہ سے وی پی سنگھ حکومت گر گئی اور جنتا دل کی تقسیم کے بعد لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک کے دوران وی پی سنگھ کو استعفی دینا پڑا تھا۔ اس کے بعد چندر شیکھر نے حکومت سازی کی لیکن انہیں بھی کانگریس کی حمایت حاصل کرنی پڑی کیوں کہ جنتا دل سے علیحدہ ہونے کے بعد ان کے پاس محض 54 ارکان پارلیمان ہی رہ گئے تھے۔

اسی طرح جون 1996 میں دیوے گوڑا حکومت بھی اس وقت اقتدار میں آئی جب اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی بی جے پی لوک سبھا میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اتفاق سے دیوے گوڑا اور ان کے بعد وزیر اعظم بنے آئی کے گجرال دونوں کی ہی حکومتوں کو کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنی پڑی ۔

تیسرے محاذ یا فیڈرل فرنٹ کی حکومت سازی کا المیہ یہ رہا کہ ان کی کوئی بھی حکومت کانگریس یا بی جے پی کی حمایت کے بغیر نہیں چل پائی۔

یہ وہی دور تھا جب بی جے پی کو فروغ ملنا شروع ہواتھا ، حالانکہ وہ اپنے دم پر حکومت بنانے کی حالت میں نہیں پہنچ پائی تھی۔ ایسے میں کچھ لوگ تھے جو غیر بی جے پی اور غیر کانگریس محاذوں کی وکالت کر رہے تھے۔ لیکن آج حالات بالکل جدا ہیں۔ بی جے پی اپنے دم پر اقتدار میں ہے اور کانگریس نے مضبوط ہو کر حال ہی کے اسمبلی انتخابات میں شاندار واپسی کی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی کے پاس وزارت عظمی کے لئے چہرے موجود ہیں۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں کے ہی پاس اپنی قابل اعتماد اتحادی جماعتیں موجود ہیں۔ کانگریس کے پاس ڈی ایم کے، آر جے ڈی، ٹی ڈی پی، جے ڈی ایس اور این سی پی جیسی مضبوط علاقائی جماعتیں ہیں ۔ اس کے علاوہ آر ایل ایس پی بھی کانگریس کی حمایت کر رہے ہیں، ادھر جھارکھنڈ اور شمال مشرق میں بھی کانگریس کے اتحادی موجود ہیں۔

ممکنہ طور پر یہ پہلا موقع ہے جب انتخابات سے قبل کانگریس کو اتنی تعداد میں علاقائی پارٹیوں کا ساتھ ملا ہوا ہے۔ اس کے باوجود تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ تیسرے محاذ کے لئے کوششیں کر رہے ہیں اور اس میں جی جان سے جٹے ہوئے ہیں۔

لیکن کے سی آر کی پریشانی یہ ہے کہ اوڈیشا میں بی جے ڈی اور تمل ناڈو میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے علاوہ کوئی علاقائی جماعت ان کی طرف راغب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ حال کے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کے سی آر کے بیٹے کے ٹی راماراؤ یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ ضرورت محسوس ہوئی تو وہ بی جے پی کے ساتھ جائیں گے نہ کہ کانگریس کے ساتھ۔

یہ کہنا جلدبازی ہوگی کہ ترنمول کانگریس، بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی ان کے ساتھ آ ہی جائیں گی۔ ایس پی- بی ایس پی تو راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کانگریس حکومتوں کو حمایت دے رہی ہیں۔ دونوں ہی پارٹیاں کانگریس کے ساتھ گفت شنید کر رہی ہیں اور انہوں نے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مایاوتی اور اکھلیش یادو عجلت میں کوئی بھی فیصلہ نہیں لینے والے۔

خواہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس اور اس کی اتحادی اے آئی ایم آئی ایم نے بی جے پی مخالف بیانات دئے ہوں لیکن عام خیال یہی ہے کہ ان کا جھکاؤ بھگوا جماعت کی جانب زیادہ ہے نہ کہ غیر کانگریس محاذ کی جانب ۔ ایسا ہی کچھ اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ بھی ہے۔

دراصل حال کے تلنگانہ انتخابات میں جیتنے کے بعد کے سی آر کی خواہشات کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہیں۔ لیکن تلنگانہ کی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار مانتے ہیں کہ لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس کا مظاہرہ اسمبلی انتخابات کے تنائج سے علیحدہ ہوگا جبکہ کے سی آر خود کو کچھ زیادہ ہی مضبوط تصور کر رہے ہیں۔

حال میں کے سی آر کی نریندر مودی سے ملاقات کو بھلے ہی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے مابین رسمی ملاقات مانا جائے لیکن سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ’ملاقات ‘ کچھ اور ہی تھی۔