ہندو راشٹر بنا تو ملک کے ٹکڑے ہو سکتے ہیں .. ظفر آغا

ہندو راشٹر بنانے کی کوشش ہوئی تو کمیونسٹ اور تمل جیسے درجنوں گروہ ہندوتوا طاقتوں کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں اس لئے ہندو راشٹر سنگھ کی تمنا تو ہو سکتی ہے لیکن ہندوستان کی حقیقت نہیں ہو سکتی ہے۔

By ظفر آغا

پچھلے ہفتے ہندوستانی سیاست میں ایک عجیب وغریب واقعہ پیش آیا۔ ہوا یہ کہ تریپورہ میں بی جے پی کی فتح کے بعد ہندو تنظیموں نے وہاں فتح کا جو جشن منایا اس میں خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ بدلے کا عنصر با درجہ اتم شامل تھا۔ سنگھ اور بی جےپی کے لوگوں نے وہاں 25 سال سے برسر اقتدار رہی سی پی ایم کے دفتروں پر حملے ہی نہیں کئے بلکہ مشہور و معروف کمیونسٹ لیڈر لینن کے مجسمے پر بھی حملہ کیا اور اس کو زمین دوز بھی کردیا۔

دراصل یہ رسم قرون وسطہ دور کی رہی ہے۔اس دور میں جب ایک فوج دوسری فوج پر فتح حاصل کر لیتی تھی تو محکوم قوم کی نہ صرف مارکاٹ ہوتی تھی بلکہ ان کی عبادت گاہوں کو بھی مسمار کیا جاتا تھا۔ آپ تو واقف ہوں گیں کہ سنگھ پریوار اس جدید دور میں بھی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ سنگھ نے جس طرح 1992 میں بابری مسجد کو گرایا اس کو بھلا کون بھول سکتا ہے۔ اسی طرح بی جے پی والوں نے تیریپورہ میں اپنی فتح کے بعد لینن کے مجسمے کو بھی زمیں دوز کردیا۔ لینن کمیونسٹوں کے لئے گویا ایک پیغمبر کا مقام رکھتے ہیں۔

خیر، ابھی تریپورہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہی تھا کہ دوسرے روز تمل ناڈو میں بی جے پی کے ایک کارکن نے ای وی راما سوامی (پیریار) کا مجسمہ گرادیا، پیریار تمل سیاست کے مہاتمہ ہیں۔ انہوں نے 1930 کی دہائی میں تمل سیاست میں سماجی انصاف کی تحریک کی شروعات کی۔ اس کے بعد وہاں کی سیاست میں آریائی دبدبہ کے خلاف ایک تحریک نے جنم لیا اور جس کی بدولت وہاں بعد میں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں کا راج قائم ہوا، جو وہاں کی پسماندہ اور تمل سیاست کی علمبردار ہیں۔ جیسے ہی پیریار کی مورتی پر حملہ ہوا ویسے ہی تمل پارٹیوں نے قیامت بپا کردی۔ ادھر کمیونسٹوں نے بنگال میں جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کے مجسمہ پر کالک پوت دی۔ ساتھ ہی میرٹھ میں بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمہ پر بھی حملہ ہوا۔

الغرض ، قلیل مدت میں یہ محسوس ہونے لگا کہ ہندوستان میں’مجسموں کی جنگ‘ چھڑ گئی ہے۔ در اصل یہ مجسموں کی جنگ نہیں بلکہ یہ نظریات اور اس سے بھی بڑھ کر ذات پات اور خطوں کی جنگ تھی۔ اور اس جنگ کو خانہ جنگی میں تبدیل ہونے کا بھی خطرہ تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جنگ کو ہوا خود وزیر اعظم نریندر مودی نے دی۔ انہوں نے تریپورہ میں بی جےپی کی فتح کے بعد یہ بیان دیا کہ ان کی پارٹی کی کامیابی ایک ’نظریاتی فتح‘ ہے۔ باالفاظ دیگر وہ یہ کہہ رہے تھے کہ تریپورہ میں بی جے پی کی کامیابی ہندوتوا نظریہ کی کمیونسٹ نظریہ پر فتح ہے۔ بس پھر کیا تھا، مجسموں کی جنگ چھڑ گئی۔ ہندوتوا طاقتوں کو یہ محسوس ہوا کہ اس ملک میں جو بھی ہندوتوا نظریہ کے خلاف ہے اب ان نظریات کے ماننے والوں کو سبق سکھانے کا موقع آگیا ہے۔ سنگھ سماجی نظام، تمل پسماندہ ذات سیاست اور اس کے علمبرداروں کے ہمیشہ سے خلاف ہے۔ اسی لئے تمل ناڈو میں ان کے لوگوں نے پیریار کے مجسمے پر حملہ کر یہ اشارہ دے دیا کہ اب وہ ان سے بھی نمٹیں گے۔ اسی طرح امبیڈکر کی مورتی توڑ کر دلتوں کو سبق سکھانے کا عمل شروع ہو گیا۔

لیکن ہندوتوا طاقتیں یہ بھول گئیں کہ نا تو کمیونسٹ اور نہ ہی تمل مسلمان ہیں۔ ان دونوں میں زبردست اکثریت خود ہندو مذہب میں یقین رکھنے والوں کی ہے۔ باالفاظ دیگر وہ کوئی مسلمان تو تھے نہیں کہ جن کی بابری مسجد گری اور مارے بھی گئے اورپھر بھی وہ صبر وشکر سے بیٹھے رہے۔ وہ خود بھی ہندو ہیں اس لئے دوسرے ہندو گروہوں نے جب ان پر اور ان کے سیاسی نظریہ پر حملہ کیا تو انہوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ سنگھ اور بی جے پی یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ مسلمانوں کی طرح کمیونسٹوں اور تملوں کو بھی دبا لیں گیں۔ لیکن ان دونوں نے جواب دے کر یہ بتا دیا کہ اگر تم حد سے بڑھے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ یعنی اگر سنگھ اپنی ہندوتوا سیاست ہندوؤں پر بھی تشدد کے ذریعہ تھوپے گا تو یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔

یہ بات نریندر مودی کی سمجھ میں سب سے پہلے ہی آگئی۔ جیسے ہی مجسموں کی جنگ بنگال اور تمل ناڈو تک پہنچی ویسے ہی مودی کی سمجھ میں آگیا کہ معاملہ ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ بس انہوں نے فوراً بیان دیا کہ یہ مجسموں کی جنگ رکنی چاہیے۔ مودی کے بیان کے بعد سنگھ کو بھی سمجھ میں آگیا کہ اس آگ میں تو خود وہ بھی جل جائیں گے۔ سنگھ نے فوراً اس جنگ پر روک لگادی اور مجسموں کی جنگ راتوں رات ٹھنڈی پڑ گئی۔

لیکن اس مجسموں کی جنگ کے اتار چڑھاؤ سے دو باتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ اولاً، سنگھ اور بی جے پی مسلمان کو تو دبا سکتے ہیں لیکن ہندوؤں پر اپنا نظریہ نہیں تھوپ سکتے۔ اگر ایسا کرتے ہیں تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائےگا۔ دوئم، ہندوتوا نظریہ کی کامیابی کی ایک حد ہے۔ اس کے آگے اگر اس نظریہ کو تھوپا گیا تو ہندوستان کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔ یعنی ہندوستان کی بقا کی ضمانت اس ملک کی گنگا-جمنی تہذیب میں ہے ہندوتوا طاقتوں میں نہیں۔ یعنی اگر اس ملک کو واقعی ہندو راشٹر بنانے کی کوشش ہوئی تو ملک کے ٹکڑے ہو سکتے ہیں اور کمیونسٹ ہوں یا تمل ہوں ان کے جیسے درجنوں گروہ ہندوتوا طاقتوں کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں اس لئے ہندو راشٹر سنگھ کی تمنا تو ہو سکتی ہے لیکن ہندوستان کی حقیقت نہیں ہو سکتی ہے۔