ملک میں ’اسلاموفوبیا‘ پیدا کرنے کی سازش

ہندوستان کے بیشتر حصوں میں بی جے پی کی حکومت اقتدار نشیں ہے جس کے سبب اس طرح کے واقعات میں وہی لوگ زیادہ ملوث ہیں جن کے حکمراں پارٹی سے اچھے تعلقات ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

کہتے ہیں کہ بھیڑ کی کوئی شکل نہیں ہوتی، اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اسی بات کا فائدہ ہمیشہ موب لنچنگ والی بھیڑ اٹھاتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس بھیڑ کو کون جمع کرتا ہے؟ انہیں کون اکساتا اور بھڑکاتا ہے؟ جواب سب جانتے ہیں لیکن پھر بھی خاموش ہیں۔ ڈر اس بات کا ہے کہ اگر قانون ہر ہاتھ کا کھلونا بن جائے گا تو پھر پولس، عدالت اور انصاف صرف لفظ بن کر رہ جائیں گے۔

گزشتہ سال وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ موب لنچنگ کے ان واقعات پر جواب دینے کی بجائے پارلیمنٹ میں کہتے ہیں کہ سب سے بڑی لنچنگ کا واقعہ تو ملک میں 1984 میں ہوا تھا، ہر بات میں سیاست، ادھر ملک کے ’پردھان سیوک‘ پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمہوریت میں موب لنچنگ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس طرح کے معاملات میں سخت کارروائی ہو اور وزیراعظم پارلیمنٹ کی ٹیبل سے ایسے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ سخت مذمت بھی بڑا عجیب لفظ ہے۔ اگر یہ لغت میں نہ ہوتا تو پتہ نہیں ہمارے سیاستدان کس آڑ میں اپنی ناکامی چھپاتے۔

حکومتی سطح پراس ناکامی اور تساہلی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج کل اکثر یہ خبریں شہ سرخیوں کا حصہ بنی ہوئی ہیں کہ فلاں جگہ پر بھیڑ نے شخص کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ کبھی گئورکشا کے نام پر تو کبھی چھیڑچھاڑ، کبھی چوری تو کبھی مذہب کے نام پر۔ اکثر کسی نہ کسی وجوہات سے موب لنچنگ کے معاملے سامنے آتے ہیں۔ حال ہی میں ملک میں ایسے کئی معاملے شہ سرخیوں میں رہے ہیں جہاں بھیڑ کے چلتے کئی لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جھوٹی افواہوں کی وجہ سے بھیڑ بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے۔ آخر اچانک کس طرح لوگوں کو ایک جگہ ہونے والی واردات کا پتہ چل جاتا ہے اور یہ لوگ اس پر ظلم ڈھانے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔

ایک ریسرچ کے دوران یہ محسوس کیا گیا کہ یہ ایک سماجی سوچ ہے، جس کے لئے سب سے پہلے لوگوں کو کسی موضوع پر زبردستی بھڑکایا اور اکسایا جاتا ہے اور پھر ان کے اس غصے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ موب لنچنگ کے چلتے اب تک سینکڑوں لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ تمام معاملے میں شکار ہونے والے زیادہ ترمسلمان ہیں۔ صورت حال پیچیدہ اور تشویشناک اس وقت ہو جاتی ہے جب قاتلوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے ان کی پذیرائی ہوتی ہے۔ ہندوستان کے عوام کے خمیر میں اس طرح کی باتیں شامل نہیں ہیں لیکن سیاسی مفادات کے لئے ان کو ہوا دی جا رہی ہے اور یہاں کے سماج میں رچی بسی رواداری کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ملک میں ایک قسم کا ’اسلاموفوبیا‘ پیدا کیا گیا ہے اور اسی کے نتیجے میں آئے دن اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

رواں ہفتہ دہلی، ممبئی اور جھارکھنڈ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہوئے موب لنچنگ کے واقعات نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انتہا پسندوں نے ان تمام واقعات میں ’جے شری رام‘ اور ’جے ہنومان‘ کو ہتھیاربنایا ہے جو کبھی عقیدت کا نعرہ تھا اور اسی مذہب کی اندھی عقیدت میں بھیڑ نے ان مسلمانوں کی نسلوں کو نشانہ بنایا جن کے سنہرے کارناموں سے ہندوستان کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ ظلم و نا انصافی کے خلاف متحد ہو کرعلم وعمل کے پیکر سے اپنی زندگی کے قیمتی اثاثہ کو علمی وعملی جامہ پہنا کر ملک کی عظمت و رفعت اور اس کی سر بلندی کو جس قوم و ملت نے ہندوستان کی مقدس اور پاکیزہ زمیں کو اپنی زندگی کا قیمتی اثاثہ صرف کیا تھا آج وہی قوم اپنے ہی ملک کے اندر حکومتی سامراجی اور ان کے عتاب کا شکار ہے جس کا دائرہ دن بدن وسیع و عریض ہو کر خصوصاً مسلمانوں کے لئے ظلم و ستم کا باعث ثابت ہو رہا ہے اور ہماری موجود ہ حکومت ہمارے نمایاں کردارو افعال کو فراموش کر ہمارے ماضی کے احساسات اور جذبات کو سلب کرنے کی فراق میں ظالم کے ظلم کو کیفر کردار تک پہچانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

بی جے پی کی حکومت کو مر کز میں قابض ہونے کے بعد اکثریتی فرقہ کے ایک مخصوص گروہ کو مسلمانوں کی صاف و شفاف شبیہ میں دہشت گردی کا عنصر نظر آنے لگا اور ہمارے ملک کا ہر مسلمان ان کو ملک دشمن اور ملک مخالف نظر آتا ہے جس کے سبب کسی بھی مقام پر مسلم نوجوان کو گھیرکر سب سے پہلے ہجومی تشدد کی نذر کر کے ان نوجوانوں سے جبراً ’جے شری رام‘ کے نعرے اور دیگر فضول جملے کہلانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے جملے نہ کہنے پر ان کو موت کی آغوش میں سلا دیا جاتا ہے یا اس طرح سے زد کوب کیا جاتا ہے کہ ان نوجوانوں کی زندگی ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کی محتاج ہو جاتی ہے۔

اس ضمن میں ملک کی سب سے بڑی عدالت نے باضابطہ طریقہ سے اس طرح کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہونے کے سبب تمام صوبائی حکومتوں کو اس بات سے متنبہ کیا تھا کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے ہر تھانوں میں ایک دروغہ کو تعینات کرنا ہوگا جو اس طرح کے واقعات پر ہر طریقہ کی خفیہ رپورٹ سے حکومت کو آگاہ کرے گا اور اس طرح کے فعل میں ملوث افراد سخت سے سخت سزا کا مستحق ہو گا جس سے اس طرح کے واقعات پر فوری شکنجہ کسا جا سکے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود صوبائی حکومتوں نے اس ضمن میں کسی بھی طرح کے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جس سے واقعات میں مسلسل اضافہ ہونا ایک فطری بات ہے۔ ملک کے بیشتر حصوں میں بی جے پی کی حکومت اقتدار نشیں ہے جس کے سبب اس طرح کے واقعات میں وہی لوگ زیادہ ملوث ہیں جن کے حکمراں پارٹی سے اچھے تعلقات ہیں۔ آج ملک کا اقلیتی طبقہ خود کو لاچار اور لاوارث محسوس کرنے لگا ہے، آج اپنے ہی ملک کے اندر وہ خوف زدہ نظر آرہا ہے۔

بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمانوں پرظلم و ستم ایک خطرناک کھیل شروع ہوگیا ہے۔ کہیں لو جہاد کا حیلہ اور بہانہ بنا کر مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کہیں گئو کشی اور چوری کے الزام میں ان کی شبیہ پرداغ لگا کر ان کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے تو کہیں پر شہریت پر سوالیہ نشان لگا کر ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے مظالم کیوں؟ اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں، ہماری فطرت میں حب الوطنی اور الفت و محبت کا جذبہ موجزن ہے، ہماری آنے والی نسلیں اس ملک کی معمار ہیں، ہمارا طرہ امتیاز اس ملک کی عظمت و وقار ہے، ہم نے اس ملک کو اپنے خون سے سینچا ہے، ہم نے اس ملک کے وقار و عظمت کو بلندی کے لئے ریشمی تحریک، انقلاب زندہ آباد کے نعرے کو بلند کیا ہے مگر افسوس کہ ہمارے نمایاں کارنامے اور ہماری قربانیاں آج کے دور میں اکثریتی طبقہ کے ساتھ ہی حکومت کے لئے صرف ایک افسانہ بن کر ان کے لئے سر درد ثابت ہو رہی ہیں۔