جامعہ کی چِنگاری جو شعلہ بن گئی... سہیل انجم

جن لوگوں نے جے پرکاش نرائن کا آندولن دیکھا ہے وہ بتاتے ہیں کہ اسی طرح طلبہ میدان میں آئے تھے اور ملک کی سیاسی فضا میں انقلابی تبدیلی آگئی تھی۔ آج وہی فضا پھر بن گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

کیا کسی نے سوچا تھا کہ جامعہ ملیہ سے اٹھنے والی احتجاج کی چنگاری شعلہ جوالہ بن جائے گی اور حکومت کی فسطائیت کے خلاف پورے ملک میں لوگ بغاوت کر دیں گے اور ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ کیا حکومت نے سوچا تھا کہ وہ جس آگ پر ہاتھ تاپنے کی کوشش کر رہی ہے وہ اس کے دامن کو بھی پکڑ لے گی اور پھر اس آگ پر قابو پانا اس کے لیے ناممکن سا ہو جائے گا۔

حکومت نے جب جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کا خاتمہ کیا اور اسے متعدد پابندیوں میں جکڑ دیا تو اس کے خلاف بہت زیادہ شور و ہنگامہ نہیں ہوا۔ حکومت عوام کو یہ بتانے میں کامیاب رہی کہ مذکورہ دفعہ کی وجہ سے جموں و کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ مکمل الحاق نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس دفعہ کے ختم ہوتے ہی کشمیر ہندوستان کا واقعی اٹوٹ حصہ بن جائے گا۔

اندرون ملک کچھ لوگوں نے اس کی مزاحمت کی اور بیرون ملک بھی کچھ اختلافی آوازیں اٹھیں۔ لیکن حکومت کو کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔ حالانکہ اب بھی جموں و کشمیر پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے اور وہاں ایک سو تیس سے بھی زیادہ دنوں سے انٹرنیٹ بند ہے۔ لیکن کشمیر کے باہر لوگوں کو اس سے کوئی بہت زیادہ پریشانی نہیں ہے۔ کیونکہ ملک کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ حکومت نے جو کچھ کیا تھا وہ آئین کے دائرے میں کیا تھا۔

حکومت نے سمجھا ہوگا کہ اسی طرح شہریت ترمیمی ایکٹ پر بھی لوگ چند روزہ ہنگامہ کرکے خاموش ہو جائیں گے اور نوٹ بندی کی مانند ایک بار پھر سب این آر سی کے موقع پر لائنوں میں کھڑے ہو جائیں گے۔ لیکن یہ حکومت کی زبردست بھول تھی۔ اس نے شہریت ترمیمی ایکٹ لا کر ہندوستان کو ایک ہندو اسٹیٹ بنانے کی جو کوشش کی اس کے خلاف پورا ملک اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف تحریک ایک عوامی تحریک بن گئی ہے۔ لوگ لیڈروں کے بغیر سڑکوں پر آرہے ہیں اور حکومت کے اس قدم کی مخالفت کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر حکومت نے ایسا کیا کر دیا کہ پورے ملک میں ابال آگیا۔ دراصل حکومت نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام پر جو کچھ کیا وہ آئین کے خلاف تھا۔ اس نے مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کا قانون بنا کر عوام کو برافروختہ کر دیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ سوچا ہوگا کہ وہ جب تاریخ کو یہ کہہ کر مسخ کرنے کی کوشش کریں گے کہ مذہب کے نام پر ہندوستان کی تقسیم ہوئی تھی تو لوگ اس کو تسلیم کر لیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے نام پر پاکستان بنا تھا ہندوستان نہیں۔

ہندوستان کے معماروں نے تقسیم کے بعد اسے ایک سیکولر ملک بنایا جہاں بلا لحاظ مسلک و مذہب و مشرب سب کو یکساں حقوق و اختیارات و مراعات حاصل ہیں۔ لیکن حکومت نے شہریت قانون سے مسلمانوں کو الگ کرکے ہندوستان کی صدیوں پرانی روایت کو کچلنے اور سیکولرزم اور آئین کی روح کو پامال کرنے کی کوشش کی۔ ہندوستان کے عوام وسیع المشرب ہیں۔ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ وہ سیکولرزم میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ نے سب سے پہلے اس نااانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ انھوں نے تیرہ دسمبر کو تحریک کا آغاز کیا جو پندرہ دسمبر کو پولیس ایکشن کے بعد انتہائی طاقتور ہو گئی۔ پولیس نے جس طرح جامعہ کی لائبریری میں داخل ہو کر وہاں پڑھ رہے طلبہ و طالبات کو تشدد کا نشانہ بنایا اس سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا لرز اٹھی۔ ہندوستان کیا دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی کی لائبریری میں اس سے قبل ایسا پولیس ایکشن نہیں ہوا تھا۔ لوگوں نے پولیس کی زیادتی کی داستانیں سنیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

وہ دن اور آج کا دن جامعہ کے طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ وہ روزانہ کیمپس میں آتے ہیں اور مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ دن بھر جامعہ میں بیٹھے رہتے ہیں۔ تو دوسری جانب مقامی باشندے رات کے وقت کالندی کنج کے پاس سریتا وہار کی سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھتے ہیں۔ وہ رات میں دو تین بجے تک وہاں جمے رہتے ہیں۔ مظاہرین میں مرد عورت بوڑھے بچے جوان بچیاں لڑکیاں سبھی شامل ہیں۔ اس کڑکڑاتی سردی میں لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وہاں بیٹھ کر مذکورہ سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

جامعہ سے اٹھنے والی یہ آگ رفتہ رفتہ پورے ملک میں پھیل گئی ہے۔ لیکن حکومت ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس نے ٹھان لیا ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک کو ہندو راشٹر بنا کر چھوڑے گی لیکن عوام نے بھی ٹھان لیا ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔ وہ سیکولرزم اور جمہویت کے لیے اپنی جانیں تک دے دیں گے اور دے بھی رہے ہیں۔

اس احتجاج کی دو خاص باتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس میں طلبہ اور نوجوانوں کی بھرپور شمولیت ہے اور دوسری یہ کہ یہ کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا احتجاج نہیں ہے۔ اس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور ہندو بھی۔ سکھ بھی شامل ہیں اور عیسائی بھی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی۔ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ معمر افراد بھی ہیں۔ ناخواندہ لوگ ہیں تو انتہائی تعلیم یافتہ شخصیات بھی ہیں۔ بڑے بڑے منصبوں پر فائز افسروں کے بچے بھی ہیں۔ گویا سماج کا کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں ہے جس کی نمائندگی اس تحریک میں نہ ہوتی ہو۔ یہی ایک بات باعث اطمینان ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ یہ تحریک ناکام ہونے والی نہیں ہے۔

جن لوگوں نے جے پرکاش نرائن کا آندولن دیکھا ہے وہ بتاتے ہیں کہ اسی طرح طلبہ میدان میں آئے تھے اور ملک کی سیاسی فضا میں انقلابی تبدیلی آگئی تھی۔ آج وہی فضا پھر بن گئی ہے۔ لہٰذا اگر اس تحریک کے بطن سے ایک نیا سیاسی انقلاب پیدا ہو جائے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ ہندوستان کے عوام مذہب کے نام پر ایک اور تقسیم تسلیم کے لیے تیار نہیں ہیں۔

حکومت الزام عاید کرتی ہے کہ عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت یہ کہہ کر کہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی میں کوئی تعلق نہیں ہے، عوام کو خود گمراہ کر رہی ہے۔ عوام حکومت کی نیت سمجھ گئے ہیں اور وہ اس کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں۔ خواہ جے پی نڈا عوام کے درمیان جا کر نام نہاد شکوک و شبہات دور کرنے کی کوشش کریں یا امت شاہ بذات خود عوام کے درمیان آئیں اور انھیں سمجھانے کی کوشش کریں۔ حکومتی ٹولے کی منشا لوگ سمجھ گئے ہیں۔ اسی لیے وہ اس احتجاج کی آگ کو سرد نہیں ہونے دینا چاہتے۔ امید یہی ہے کہ یہ آگ اس وقت تک جلتی رہے گی جب تک حکومت اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹا لیتی۔

Published: 22 Dec 2019, 8:11 PM