’’ایک دھکا اور دو .. کے الفاظ اب تک کانوں میں گونجتے ہیں‘‘

قومی آواز گرافکس

میں نے فوج کا انتظار کیا کہ شاید وہی آ کر دخل دے لیکن اس پورے علاقے میں باہر سے پرندہ بھی پر نہیں مار سکا اور وہاں جو کچھ بھی ہو رہا تھا کسی نے اس پر انگلی تک نہیں اٹھائی۔

آج سے 25 برس قبل 6 دسمبر 1992 کو میں صبح صبح فیض آباد پہنچی تھی۔ دہلی سے ٹرین کے ذریعہ روانہ ہوتے وقت میرے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ ہو نہ ہو میں ایک بڑے واقعہ کی گواہ بننے جا رہی ہوں۔ لیکن کیا ہوگا، اس کا کوئی خاکہ یا شبیہ میرے دماغ میں نہیں تھی۔ میں گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے بابری مسجد سے وابستہ ہر ایک خبر کو گہرائی سے رپورٹ کر رہی تھی۔ اس مسئلہ سے جڑے ہر طبقہ، ہر تنظیم اور حکومت کی طرف سے جو بھی کہا سنا جا رہا تھا وہ سب میری نظر میں تھا۔ 6 دسمبر 1992 کو کیا ہونے والا ہے وہ بھی شاید میرے ذہن میں کہیں تھا۔

در اصل میری ایک صحافی دوست سے اس بات پر جھڑپ تک ہو گئی تھی اس کا خیال تھا کہ ’’ یہ ہندوستان ہے اور مجھے بھروسہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا کہ بابری مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔‘‘ لیکن میرا کہنا تھا کہ اس بار ماحول مختلف ہے اور میں ایودھیا میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔

فیض آباد کے ہوٹل صحافیوں او رفوٹوگرافروں سے پوری طرح بھرے ہوئے تھے۔ میں نے بھی اپنے لئے کسی طرح جگہ بنائی۔

جب میں 6 دسمبر کی صبح ایودھیا میں بابری مسجد کے نزدیک پہنچی تو پورا علاقہ مانند زعفرانی سمندر نظر آ رہا تھا۔ جہاں تک نظر جاتی بھگوا ہی بھگوا نظر آتا۔ پوجا۔ ہون، مارچ پاسٹ یہی سب دکھائی دے رہا تھا۔ زعفرانی لباس پہنے ہوئے سادھو -سنت اورکار سیوک بابری مسجد سے ملحقہ وسیع علاقہ میں پھیلے ہوئے تھے۔

دور ایک کنارے پر بنے بڑے پلیٹ فارم پر بی جے پی کے رہنما جمع تھے اور ان کے چاروں طرف ایک جم غفیر امنڈ پڑا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھوں میں کلہاڑیاں، کدال، پھاوڑے، ہتھوڑے اور اسی طرح کے دوسرے دھاردار ہتھیاروں سے لیس مجمع سکیورٹی فورسز کے محاصرے کو توڑکر کار سیوک بابری مسجد کی جانب دوڑ پڑے ۔ جے شری رام کے نعروں سے آسمان گونج رہا تھا۔ یہی نعرے لگاتے ہوئے انہوں نے کامیابی کے ساتھ مسجد کی گنبدپر چڑھنا شروع کر دیا۔ پلک جھپکتے ہی وہ گنبد پر تھے اور جے شری رام کے نعروں کے ساتھ ہتھوڑے چلا رہے تھے۔ پورے ماحول میں زبردست سنسنی تھی، مسجد توڑی جا رہی تھی اور میرے جیسے لوگ سکتہ کے عالم میں تھے اور سناٹے میں کھڑے اس منظر کو بس دیکھ رہے تھے۔

نعروں کا شور ماحول میں گونج رہا تھا اور پلیٹ فارم سے سادھوی رتمبھرا اور اوما بھارتی کارسیوکوں کو اکسا رہی تھیں۔ ’’ ایک دھکا اور دو...‘‘ دونوں سادھویاں پلیٹ فارم سے نعرہ لگاتیں اور کارسیوک ’’ بابری مسجد توڑ دو...‘‘ چلا کر نعرے کو پورا کرتے ۔ پوری بھیڑ گویا مسحور ہو کر مشین کی طرح صرف اور صرف ایک ہی ہدف کو پانے کو بے قرار دکھائی دے رہی تھی۔ پلیٹ فارم پر موجود کسی بھی رہنما نے ایک بار بھی کوشش نہیں کی کہ اس پاگلپن کو روکا جائے۔ ایسا کوئی حکم یا ہدایت پلیٹ فارم سے نہیں دی گئیں کہ بابری مسجد کو نہ توڑا جائے ۔

کبھی نہ ختم ہونے والے 5 گھنٹوں تک یہ پاگلپن جاری رہا یہ حیوانگی تب تک جاری جب تک بابری مسجد کی آخری اینٹ بھی نہیں نکال دی گئی۔ مسجد کے منہدم ہونے کے بعد کارسیوکوں نے وہاں سے کوچ کر دیا۔ ہر کار سیوک نشانی کے طور پر ایک ایک اینٹ لے کر جا رہا تھا گویا کسی جنگ کے بعد فتح کا تمغہ ساتھ لے کرجا رہے ہوں۔

میں انتظار کرتی رہی کہ پولس کچھ ایکشن لے گی لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ مجھے لگا یہاں سے کچھ ہی فاصلہ پر تعینات آر اے ایف یعنی ریپڈ ایکشن فورس سامنے آئے گی اور سب کو روکے گی لیکن وہ بھی نہیں ہو ا یعنی کسی نے کسی کو نہیں روکا۔

میں نے فوج کا انتظار کیا کہ شاید وہی آ کر دخل دے لیکن اس پورے علاقے میں باہر سے پرندہ بھی پر نہیں مار سکا اور وہاں جو کچھ بھی ہو رہا تھا کسی نے اس پر انگلی تک نہیں اٹھائی۔

میں بھیڑ کے بیچ کھڑی جلدی جلدی اپنی نوٹ بک میں درج کر رہی تھی۔ تبھی جے شری رام کا پٹکا گلے میں ڈالے بھگوا کپڑے پہنے ایک آدمی میری جانب لپکا،اس کے ہاتھ میں کھلا چاقو تھا، اس نے میرے پیٹ پر چاقو لگا کر کہا ’’بھاگو نہیں تو مار دوں گا...‘‘ میں سکتہ میں آ گئی۔ میں نوجوانی میں جان نہیں دینا چاہتی تھی...میں وہاں سے ہٹ گئی اور کچھ دور موجود سینئر پولس افسروں کے پاس جاکر کھڑی ہو گئی۔ وہاں جو کچھ ہو رہا تھا یہ تمام افسران بے حسی کے ساتھ سب دیکھ رہے تھے۔

ظاہر ہے انہیں لکھنؤ سے شاید ہدایت ملی تھیں کہ کچھ نہیں کرنا ہے۔ لکھنؤ میں وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ بیٹھے تھے جنہوں نے شاید اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے ساتھ مل کر اس پورے واقعہ کا خاکہ بنایا تھا۔

صحافیوں کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں ، کیمرامین اور فوٹو گرافروں سے کیمرے چھین کر توڑے جا رہے تھے۔ کار سیوک نہیں چاہتے تھے کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کوئی بھی ثبوت بچے۔ ایودھیا کے باہر کی دنیا کواس سارے پاگلپن کی خبر دینے والے بی بی سی کے مارک ٹُلی کوکار سیوکوں نے گھیر کران سے دھکا مکی کی اور ان کی پٹائی بھی کی تھی۔ ان کا کیمرہ توڑ دیا گیا تھا۔ بعد میں ہم صحافیوں نے مل کر کسی طرح انہیں وہاں سے باہر نکالا۔

آج بھی اس پورے واقعہ پر حیرت ہو تی ہے۔ لیکن جس طرح وسیع بابری مسجد کو ٹھیک 5 گھنٹے میں زمیں دوز کر دیا گیا اس پر صرف وہاں موجود رہنے والے ہی یقین کر سکتے ہیں۔ شام کے 5 بجے تک پورے علاقے کو صاف کر دیا گیا اور کپڑے کے بڑے شامیانہ سے وہاں ایک عارضی کیمپ لگا کر’ رام للاّ‘ کے مجسمہ کو وہاں رکھ دیا گیا ۔

لیکن 25 سال بعد بھی تنازعہ وہیں کا وہیں ہے۔ زمین پر مالکانہ حق کا معاملہ ابھی حل نہیں ہو سکا ہے۔ اس پورے احاطہ کا کیا ہوگا اور ’ رام للا ّ‘وہیں رہیں گے یا نہیں ، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہیں۔ ان 25 برسوں میں نہ کچھ طے کیا گیا ہے اور نہ کچھ حل ہو سکا ہے۔

جن لوگوں نے اس بد قسمت دن میں وہاں جو کچھ بھی کیا تھا انہیں بھی آج تک کسی طرح کی سزا نہیں ملی ہے۔

مجھے سی بی آئی نے اس واقعہ کے گواہ کے طور پر طلب کیا۔ میں کئی ہفتوں تک رائے بریلی میں سی بی آئی کورٹ جاتی رہی لیکن وہاں بھی کچھ نہیں ہوا۔

تمام معاملات کو اب منسلک کر کے ان کو لکھنؤ کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اوما بھارتی مودی کابینہ کی وزیر ہیں۔ کلیان سنگھ گورنر بن چکے ہیں۔ لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور دوسرے ان جیسے رہنماؤں کو بری کر دیا گیا ہے ۔

بابری مسجد کو منہدم کیا جانا محض ایک عمارت کوگرا دینا نہیں تھا بلکہ اس نے پورے مسلم معاشرے کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔ سیاسی طور پر اس کا سب سبے زیادہ خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑا، جس پر دوبارہ یقین کرنے میں مسلمانوں کو تقریباً دو دہائیوں کا وقت لگا۔ کچھ بھی کہا جائے لیکن کانگریس کے ہی پی وی نرسمہا راؤ اس وقت وزیر اعظم تھے۔ اس لئے کہا یہی جاتا ہے کہ بابری مسجد کے انہدام میں ان کا پورا تعاون تھا۔ ان کے لئے تو یہی کہا جا سکتا ہے ’’ جب روم جل رہا تھاتو نیرو بنسی بجا رہا تھا..‘‘ راؤ اس انہدام کی پل پل کی تصاویر اس وقت تک ٹی وی پر دیکھتے رہے جب تک ایودھیا سے بابری مسجد کا نام و نشان مٹ نہیں گیا لیکن انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا...

اپنی خبریں ارسال کرنے کے لیے ہمارے ای میل پتہ contact@qaumiawaz.com کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے نیکمشوروں سے بھی نوازیں۔

سب سے زیادہ مقبول