مودی حکومت میں منصف بھی برداشت نہیں!... نواب علی اختر

مودی شاہ حکومت کی انتقامی، گھٹیا سوچ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ ان لوگوں کو بچانے کی ہر ممکن کوششیں کریں گے جنھوں نے نفرت کے بیچ بوئے اور تشدد پھیلانے کا کام کیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

ایک مضبوط اور آزاد عدلیہ ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ میں عدلیہ نے اہم مواقع پر اس ملک کے شہریوں اور اس کے آئین کی حفاظت کی ہے مگرایسا پہلی بار ہو رہا ہے جب کوئی حکومت اقتدار کے نشے میں اتنی چور ہے کہ وہ ملک کے آئین، اداروں اور شہریوں کے اعتماد کو کمزور کرتی جا رہی ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جج صاحبان رات کی تاریکی میں اپنی رہائش گاہ کو’عدالت‘ بنا کر کچھ مخصوص معاملات پر ہی سماعت کرتے اور فیصلے دیتے رہے ہیں لیکن ایسا شاید پہلی بار ہے جب عوام سے منسلک کسی معاملے کو سننے کے لیے ہائی کورٹ کے کسی کارگزار جج نے دیررات اپنی رہائش گاہ کوعدالت بنایا ہے۔ اتنا ہی نہیں موصوف جج نے عام شہریوں کی حفاظت کے لیے رات کو ہی سخت احکامات بھی جاری کیے۔

ہم بات کر رہے ہیں دہلی ہائی کورٹ کے کارگزارچیف جسٹس مرلی دھر کی جنہوں نے دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان عام لوگوں کی چیخ پکار پر اپنی رات کی نیند قربان کردی اور حقیقی منصف کا کردار ادا کرتے ہوئے ’تانا شاہ‘ حکومت کے رد عمل کی بھی پرواہ نہیں کی اور نصف شب میں اپنی رہائش گاہ پر قومی راجدھانی میں بھڑکے تشدد کی سماعت کی۔ شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کو لے کر ہائی کورٹ نے منگل کی رات سے سرگرمی بڑھائی جب انسانی حقوق کے معاملات کے وکیل نے مصطفی آباد میں مریضوں کی مشکلیں بڑھتی دیکھ کر فون کیا۔ اس کے بعد منگل دیر رات 12.30 بجے ہائی کورٹ کے جسٹس ایس مرلی دھر کے گھر میں سماعت ہوئی۔ جج نے پولس کو حکم دیا کہ وہ مریضوں کے علاج کے لئے انہیں دوسرے اسپتال لے جانے کے لئے مناسب سیکورٹی مہیا کرائے۔

اس کے بعد بدھ کو دوپہر ہائی کورٹ میں جسٹس مرلی دھر اور جسٹس تلونت سنگھ کی بنچ نے دہلی میں فساد بھڑکانے میں بی جے پی رہنماؤں کے کردار کے خلاف داخل عرضی پرسماعت کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت تبصرہ کیا اور پولس کو قانون کے تحت فوری کارروائی کر نے کا حکم دیا۔ بنچ نے اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھا کر، بی جے پی کے لوک سبھارکن پرویش ورما اور بی جے پی لیڈر کپل مشرا کے خلاف ایکشن نہ لینے پر پولس کو جم کر پھٹکار لگائی۔ تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ کتنی اور اموات کا انتظار رہے گا؟ اس دوران تشدد کے ملزم بی جے پی لیڈروں کو ’بچانے میں مصروف‘ پولس اور سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کوکڑی پھٹکار بھی لگائی گئی۔ اس کے چند گھنٹوں بعد ہی جسٹس مرلی دھرکا تبادلہ ہریانہ اور پنجاب ہائی کورٹ کردیا گیا جس پر ایک طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔

مرلی دھر دو بار سپریم کورٹ کی لیگل سروس کمیٹی کے سرگرم رکن رہ چکے ہیں۔ وہ بغیر فیس لئے کیس لڑنے کے لئے بھی مشہور رہے ہیں۔ انہوں نے بھوپال گیس سانحہ اور نرمدا ڈیم متاثرین کے کیس بغیر فیس کے لڑے تھے۔ جسٹس مرلی دھر کے تبادلے کو لے کر گزشتہ ہفتے بھی سوال اٹھے تھے۔ اس کی مخالفت میں وکلاء نے 20 فروری کو دھرنا اور مظاہرہ کیا تھا اور عدالت کا بائیکاٹ کیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک تجویز پاس کر کے ان کے تبادلے کی مخالفت کی اور سپریم کورٹ کے کالجیم کے تبادلے کے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ مودی حکومت کے اس ’تانا شاہی‘ فیصلے پر پورا ملک حیران ہے لیکن مودی شاہ حکومت کی انتقامی سیاست، گھٹیا سوچ اور کنٹرول کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ ان لوگوں کو بچانے کی ہر ممکن کوششیں کریں گے جنھوں نے نفرت انگیز تقریریں کیں، نفرت کے بیچ بوئے اور تشدد پھیلانے کا کام کیا۔

بی جے پی حکومت کی نظام انصاف پر غیر مناسب دباؤ ڈالنے اور انتقام لینے کا یہ پہلی مثال نہیں ہے۔ یاد رہے کہ گجرات فسادات میں موجودہ وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف وکیل رہے سپریم کورٹ کے مشہور سینئر ایڈوکیٹ گوپال سبرامنیم کی تقرری کومودی حکومت نے زبردستی روک دیا اور سپریم کورٹ کالجیم کے احکامات کی پرواہ نہیں کی۔ اسی طرح سے اتراکھنڈ میں کانگریس حکومت کو ناجائز طور پر برخاست کر کے صدرراج نافذ کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرنے والے جج جسٹس کے ایم جوزف کی تقرری مودی حکومت کے ذریعہ روک کر رکھی گئی۔ سپریم کورٹ کالجیم کے ذریعہ بار بارجسٹس جوزف کی سپریم کورٹ کے جج کے طور پرتقرری کے فیصلے کو دہرانے کے کئی ماہ بعد ہی مودی حکومت نے تقرری کو کلیئر کیا۔

اس کے علاوہ مودی حکومت نے جسٹس عقیل قریشی کی تقرری کو بھی روک کر رکھا جنہوں نے امت شاہ کو 2010 میں جیل بھیجا تھا۔ یہ اس کے باوجود ہوا کہ سپریم کورٹ کے کالجیم نے حکومت کو یہ سفارش بھیجی تھی۔ شیل کمپنیوں کے بارے میں حکومت کے خلاف سخت فیصلہ دینے والے جسٹس گیتا متل کا بھی اسی طرح سے تبادلہ کردیا گیا۔ بات صاف ہے کہ اگر جج آئین کے مطابق کام کرتے ہیں تو مودی حکومت انتقامی جذبے سے کام کرتی ہے۔ بی جے پی حکومت اور اس کے قائدین 2019 میں اپنی انتخابی کامیابی کے نشے میں چور ہیں۔ انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کے شہریوں نے انہیں ملک کی خدمت کرنے اور حکومت چلانے کے لیے منتخب کیا ہے، ڈرانے، دھمکانے اور لوگوں کو غلام بنانے کے لئے نہیں، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ عدلیہ صرف ایک اصول کی پیروی کرتی ہے اور وہ اصول’ستیہ میوجیتے‘ ہے اور آخرمیں ہمیشہ حق کی ہی جیت ہوتی ہے۔

کسی بھی ملک کے حکمرانوں اوران کے حواریوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی چیز کو جب زوال آتا ہے تو اس کے تمام حربے بے کار ہو جاتے ہیں۔ اس وقت خواہ کتنی بھی فرضی خبریں چلوائی جائیں یا جھوٹی افواہیں پھیلائی جائیں، چاہے جتنے بھی جھوٹ کی تردید کی جائے، سچ سامنے آکر ہی رہتا ہے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومتیں خواہ کچھ بھی کرلیں،عدلیہ آئین کا سرجھکنے نہیں دے گا جیسا کہ جسٹس مرلی دھرنے کیا ہے۔ ہمارے محترم جج صاحبان آئندہ جب بھی کسی حساس معاملے کی سماعت کریں گے تو اسی جرأت، عزم اور آزادی کے ساتھ انصاف کے عمل کو آگے بڑھائیں گے جس طرح جسٹس مرلی دھرنے اس مغرور، انتقام پسند اور نا اہل حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ خوف اور نفرت کا ماحول پیدا کرنے والے کسی بھی انسان نما حیوان کو چھوڑا نہیں جانا چاہیے۔ ہم ان خاندانوں کے مقروض ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں، گھروں اور روزگار سے محروم ہوئے۔

next