راہل گاندھی کے سوالوں کے سامنے لاجواب حکومت کی اتر گئی قلعی... کرشن پرتاپ سنگھ
گزشتہ 2 برسوں میں لوک سبھا کے تقریباً تمام اجلاس گواہ ہیں کہ جب بھی پی ایم مودی راہل گاندھی کے سوالات کے سامنے لاجواب ہوتے ہیں تو اپنے منصب کے وقار کی پروا کیے بغیر سطحی حملے شروع کر دیتے ہیں۔

گزشتہ دنوں راہل گاندھی نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد کی حیثیت سے اپنے 2 سال مکمل کیے، تو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ اگرچہ یہ جدوجہد طویل ہے، لیکن ان کا یہ عزم اٹل ہے کہ وہ ہر روز آئین کے تحفظ، عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد اور ان کی آواز کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ اس پر مبصرین کو موجودہ حکمرانوں کی جانب سے پیدا کی گئی وہ تمام غیر پارلیمانی صورت حال اور حالات یاد آ گئے، جن کی وجہ سے راہل کو اہم سوالات اٹھانے سے روکنے کے لیے لوک سبھا کے اندر بھی اور اس کے باہر بھی ان پر نہایت ناپسندیدہ، ذاتی اور توہین آمیز حملے معمول کی بات بن چکے ہیں۔
یہ اور بات ہے کہ ان میں سے صرف چند بے باک مبصرین ہی اس یاد کو زبان پر لانے کی ہمت کر سکے۔ انہوں نے یہ کہنے کی بھی جرأت کی کہ اپنے معبود بھگوان شیو کی طرح راہل بھی حکمراں پارٹی کے حملوں کا سارا زہر پی جانے کے باوجود اپنی فطری سادگی سے الگ نہیں ہوتے۔ وہ اپنا فرض ادا کرتے ہوئے نہ صرف حکومتی بدانتظامیوں پر معروضی تنقید کرتے ہیں اور معاشرے کے مختلف طبقات کے مفادات کو ان سے پہنچنے والے نقصانات کو سامنے لاتے ہیں بلکہ ان سے نجات کے متبادل راستے بھی تجویز کرتے ہیں۔
ان کے لیے یہ ذمہ داری اس لحاظ سے نہایت مشکل ہے کہ نریندر مودی حکومت اپنی تیسری مدت میں بھی اپوزیشن کو دشمن سمجھنے اور اس کے آئینی فرائض کی انجام دہی کی راہ میں ہر قدم پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اپنی پرانی عادت چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایسے مشکل وقت میں بھی نہیں، جب ملک اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کے باعث وہ ہر طرف سے گھری ہوئی دکھائی دینے لگی ہے اور راہل گاندھی کے بقول اس کی عمر اب محض ایک سال رہ گئی ہے، کیونکہ وہ اندر سے کھوکھلی ہونے لگی ہے۔
یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں اس عادت میں کچھ فرق ضرور آیا ہے، لیکن صرف اتنا کہ گزشتہ دو ادوار میں، جب اپوزیشن کمزور اور قیادت سے محروم تھی، حکومت اس کی مخالفتوں اور اعتراضات کو پوری طرح نظر انداز اور حقارت کا نشانہ بنا کر اسے اپنا کردار ادا کرنے سے محروم رکھتی تھی، جبکہ تیسری مدت میں اپوزیشن نسبتاً مضبوط ہونے کے بعد اس نے کچھ مختلف نوعیت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر لیا ہے۔ اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح ٹکراؤ پر آمادہ رہ کر اپوزیشن کو کام نہ کرنے دینا اس کی فطرت کا حصہ بدستور برقرار ہے۔ یہاں تک کہ وہ راہل گاندھی کے قائد حزب اختلاف کے آئینی منصب، جسے کابینہ کے وزیر کے برابر درجہ حاصل ہے، کا بھی احترام نہیں کرتی۔ جب بھی وہ اس کے سامنے ایسا اہم سوال رکھتے ہیں جس کا منطقی جواب حکومت کے پاس نہیں ہوتا تو انہیں ذلیل و خوار کر کے روکنے کے لیے حکومت اپنی تمام توپوں کا رخ انہی کی طرف موڑ دیتی ہے۔
گزشتہ 2 برسوں کے دوران لوک سبھا کے تقریباً تمام اجلاس اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھی وزیر اعظم نریندر مودی راہل گاندھی کے سوالات کے سامنے لاجواب ہوتے ہیں تو اپنے منصب کے وقار کی پروا کیے بغیر ان پر سطحی حملے شروع کر دیتے ہیں، جبکہ وزیر اعظم کے گرد موجود افراد ذاتی حملے کرتے ہوئے نہ صرف راہل بلکہ ان کے آباؤ اجداد اور اہلِ خانہ کے خلاف بھی زہر اگلنے لگتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو انہیں ہندوستان کی سلامتی کے لیے سب سے خطرناک شخص تک قرار دے چکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کے تعلقات ہندوستان مخالف طاقتوں سے ہیں۔ یہی نہیں، وزرا کی سطح سے ان پر پاکستان کی زبان بولنے اور غدار وطن ہونے جیسے الزامات بھی مسلسل لگائے جاتے رہے ہیں۔
یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جبکہ ہمارے جیسے پارلیمانی جمہوری نظام میں اہمیت کے اعتبار سے ’مہامہیم کی اپوزیشن‘ کا مقام ’مہامہیم کی حکومت‘ کے فوراً بعد تسلیم کیا جاتا ہے اور دونوں سے ایک دوسرے کے ساتھ متوازن اور جمہوری رویہ اختیار کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ لیکن اس توقع کا حال یہ کر دیا گیا ہے کہ دو سال پہلے، 2 جولائی 2024 کو، لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر تحریکِ تشکر کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کو ’’بچگانہ عقل کا نوحہ‘‘ تک قرار دینے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے راہل کا موازنہ ایسے بچے سے کیا جو 543 میں سے 99 نمبر لا کر خوش ہو رہا ہو۔ ان کا اشارہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو ملنے والی 99 نشستوں کی طرف تھا۔
قائد حزب اختلاف کے ساتھ اس قدر غیر محترمانہ اور متکبرانہ رویے کے ہوتے ہوئے کون یہ کہہ سکتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی حکومت راہل گاندھی کو قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنا آئینی کردار مناسب طریقے سے ادا کرنے دینے میں رکاوٹ نہ بننے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اپنی تیسری مدتِ حکومت میں بھی نہ تو وہ اپوزیشن کے حوالے سے فطری رویہ اختیار کر سکی ہے اور نہ ہی اس نے اپوزیشن کے ساتھ جمہوری انداز میں پیش آنا سیکھا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ قائدِ حزبِ اختلاف کے اٹھائے گئے سوالات کا مناسب جواب دیتی، نہ کہ ان سوالات کو اٹھائے جانے پر برا مان کر ان پر حملہ آور ہو جاتی۔
اتفاق کی بات ہے کہ راہل گاندھی کو حزب اختلاف کا قائد بنے 2 سال گزر چکے ہیں، لیکن اس دوران حکومت ان کے اٹھائے گئے کسی بھی سوال کا مناسب جواب پیش کرنے کی ایک بھی مثال قائم نہیں کر سکی۔ اس کی تازہ ترین مثال نیٹ-یو جی، سی بی ایس ای اور سی یو ای ٹی جیسی اہم امتحانات میں بار بار ہونے والے پرچہ لیک، آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) اور جانچ کے نظام میں ناانصافی پر مبنی بے ضابطگیوں، بدعنوانی، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے خامیوں سے بھرپور طریقۂ کار اور ان سے مایوس ہو کر طلبہ کی خودکشیوں سے متعلق ان کے اٹھائے گئے سوالات ہیں۔ حکومت جہاں ان سوالات سے نظریں چراتی پھر رہی ہے، وہیں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے استعفے کے تمام مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔
خارجہ پالیسی سے متعلق راہل گاندھی کا یہ سوال بھی اب تک جواب کا منتظر ہے کہ ایران پر امریکی-اسرائیلی حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی خاموش کیوں رہے اور انہوں نے ایسا تاثر کیوں پیدا ہونے دیا کہ ہندوستان کسی ملک کے سربراہ کے قتل کی حمایت کرتا ہے؟ اقتصادی پالیسیوں سے متعلق ان کے اس سے پہلے اور بعد میں اٹھائے گئے سوالات بھی جواب طلب ہیں، جبکہ مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کو ناجائز فائدہ پہنچانے سے متعلق سوالات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ مزدوروں کی بدحالی اور نوجوانوں میں بے روزگاری سے متعلق ان کے سوالات پر بھی حکومت اپنا دفاع کرنے کے بجائے ہمیشہ راہِ فرار اختیار کرتی رہی ہے۔ آئین کو پامال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور گورنروں جیسی آئینی اداروں کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق سوالات کا بھی یہی حال ہے۔ چین کی جانب سے ہندوستانی سرزمین میں دراندازی کے مسئلے پر تو راہل جب بھی بات کرتے ہیں، حکومت کی عدمِ تحفظ کی نفسیات پوری طرح بے نقاب ہو جاتی ہے اور وہ بوکھلا کر رہ جاتی ہے۔
صرف یہی نہیں، راہل گاندھی جب بھی لوک سبھا میں اظہار خیال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، انہیں حکومت کی جانب سے تحقیر آمیز ٹوک ٹاک اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوک سبھا کے گزشتہ بجٹ اجلاس میں تو حد ہی ہو گئی، جب انہیں صدر کے خطاب پر تحریک تشکر پر بولنے ہی نہیں دیا گیا۔ ایک کتاب کے اقتباس کا حوالہ دینے کو بہانہ بنا کر وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور پارلیمانی امور کے وزیر تک نے ان کی تقریر میں رکاوٹیں ڈالیں اور اسپیکر بھی اپنے منصب کے وقار کے برعکس حکومت کا ساتھ دیتے ہوئے نظر آئے۔
قابل ذکر ہے کہ حکومت کی ایسی ہی کارروائیوں کے باعث گزشتہ سال اگست میں راہل گاندھی کو دہلی میں ایک پروگرام کے دوران کہنا پڑا تھا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے وہ آگ سے کھیل رہے ہیں اور ایک دن بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی اسی آگ میں جل جائیں گے، لیکن جو سچ ہے وہ اسے کہتے رہیں گے۔ انہیں ایسا کہنے کی نوبت نہ آتی اگر حکومت یہ سمجھتی کہ اپوزیشن کی تنقید کا منطقی جواب دینا اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنا اس کی ذمہ داری ہے، اور وہ جبر کا راستہ اختیار کر کے، اپوزیشن کی آواز دباکر اور تنقید کے حق کو حق ہی نہ مان کر اس ذمہ داری سے منہ نہیں موڑ سکتی۔
حکومت کہتی ہے کہ اپوزیشن کو اس کے حکمرانی کے حق پر سوالیہ نشان لگانے کا اختیار نہیں، لیکن وہ یہ سمجھنے سے انکار کر دیتی ہے کہ اس دلیل کی آڑ میں وہ اپوزیشن کو اپنی تنقید سے بھی نہیں روک سکتی۔ البتہ وہ باہمی خیرسگالی اور تعاون کا مطالبہ ضرور کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے پہلے خود اس کا خیرخواہ ہونا ضروری ہے، اور وہ ایسا ہونا نہیں چاہتی۔ اگر ایسا ہوتا تو خارجہ پالیسی سمیت متعدد محاذوں پر ملک کو شرمندہ کرنے کے بجائے اپوزیشن کو ساتھ لے کر اتفاقِ رائے کی راہ اختیار کرتی۔ لیکن اس وقت بھی وہ اپوزیشن اور اس کے قائد کے بارے میں اپنی ذہنی گرہوں سے باہر نہیں نکل سکی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
