باتیں امن کی: آنچل کو پرچم بنا لینے کی مہم

نندتا داس نے کہا کہ وہ ان خواتین کی آواز میں آواز ملانے کے لیے پہنچی ہیں۔ جبکہ شبانہ اعظمی نے فیض احمد فیض کی نظم کو’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘ سنایا۔

By سہیل انجم

مجاز نے اپنی ایک نظم میں ایک نوجوان خاتون سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

آج کی بیدار مغز خواتین نے اپنے آنچل کو پرچم بنالینے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ یہ پرچم اس وقت پورے ملک میں لہرا رہا ہے۔ یہ پرچم بردار خواتین پانچ دشاؤں یا پانچ سمتوں سے دارالحکومت دہلی کی طرف کوچ کر رہی ہیں۔ وہ 13 اکتوبر کو دہلی میں وارد ہوں گی اور اس آفاقی پیغام کو جو کہ وہ ملک کے گوشے گوشے میں پھیلانا چاہتی ہیں اہل دہلی کے سامنے بھی رکھیں گی۔ یہ خواتین پانچ کاروانوں یا پانچ قافلوں میں سفر کر رہی ہیں اور ان کی دھمک دہلی میں بھی سنی جانے لگی ہے۔ اس کا واضح ثبوت وہ رپورٹیں ہیں جو میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔

تصویر سہیل انجم
تصویر سہیل انجم

ان پانچوں کاروانوں کا آغاز 20 ستمبر کو ہوا۔ کشمیر، کیرالہ، تمل ناڈو، آسام اور اترپردیش سے پانچ منی بسوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ ہر بس میں پچیس خواتین ہیں۔ یہ قافلے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں سے بھی گزر رہے ہیں۔ ان کا ہدف 200 مقامات پر 500 پروگرام کرنے کا ہے۔ انھوں نے اپنے سفر کا بیشتر حصہ طے کر لیا ہے اور اب ان کا رخ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا دہلی کی جانب ہے۔ یہی ان کی منزل ہے۔ کیونکہ یہی ملک کا دل ہے۔

یہ خالص خواتین کے قافلے ہیں۔ ان کا اہتمام نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن (NFIW)، انڈیا انکلیوسیو (INDIA INCLUSIVE) اور انسانی حقوق کی معروف تنظیم انہد نے کیا ہے۔ چونکہ اس کے تحت پورے ملک میں امن و آشتی کا پیغام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس لیے انھوں نے اس کا نام ’’باتیں امن کی‘‘ رکھا ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ یہ قافلے جہاں جہاں سے گزر رہے ہیں امن کی باتیں کر رہے ہیں، پیار کی باتیں کر رہے ہیں، محبت کی باتیں کر رہے ہیں۔ نفرت کے خلاف لوگوں کو بیدار کر رہے ہیں اور ملک میں جو گھناؤنا ماحول بنا دیا گیا ہے اس کے خطرناک نتائج سے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہیں۔

تصویر سہیل انجم
تصویر سہیل انجم

اس قابل ستائش پروگرام کا سہرا بلا شبہ انہد کی شبنم ہاشمی، این ایف آئی ڈبلیو کی اینی راجہ اور انڈیا انکلیوسیو کی لینا دبیرو کے سر جاتا ہے جنھوں نے تین ماہ قبل اس کا خاکہ تیار کیا اور اب ملک کے امن پسند عوام اس خاکے میں اپنی امنگوں اور آرزووں کے رنگ بھر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کاررواں جہاں جہاں سے گزرتے ہیں لوگ بڑے تپاک سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ مقامی گروپ اور این جی اوز اس کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور اس میں عملی طور پر شامل ہو جاتے ہیں۔ گویا کاررواں کے منتظمین مجروح سلطانپوری کی زبانی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ:

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

تصویر سہیل انجم
تصویر سہیل انجم

جب ہم نے شبنم ہاشمی سے یہ دریافت کیا کہ ان کے دل میں ایسے کارواں نکالنے کا خیال کیونکر آیا تو انھوں نے بتایا کہ موب لنچنگ کی شکل میں، دلتوں پر حملوں کی شکل میں، خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی شکل میں یا پھر دوسرے اقدامات سے جس طرح ملک میں نفرت اور خوف کا ماحول بنا دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری جمہوری اقدار پر جس طرح حملے ہو رہے ہیں وہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ یونیورسٹیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ہمارے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اور اگر کوئی ان کارروائیوں کے خلاف بولتا ہے تو اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔

شبنم ہاشمی کے مطابق ہمارے آئین نے ہمیں یہ حق دیا ہے کہ ہم اپنی طرح جی سکیں۔ اپنے انداز میں بول سکیں۔ ہمیں آئین نے ہر قسم کی آزادی دی ہے۔ آج اس آزادی پر پہرے بٹھائے جا رہے ہیں۔ اگر کوئی مخصوص طبقات کی ہمنوائی نہ کرے تو اس کے خلاف الزامات کا طومار باندھ دیا جاتا ہے۔ اور پھر ذرا یہ دیکھیے کہ سپریم کورٹ کے چار فاضل جج نکل کر باہر آئے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ آپ لوگ جمہوریت کو بچائیے۔ عوام میں ہم بھی شامل ہیں۔ لہٰذا ہمیں محسوس ہوا کہ ہمیں آگے آنا چاہیے۔

تصویر سہیل انجم
تصویر سہیل انجم

خواتین کے خلاف بھی پورے ملک میں ایک ماحول بنا دیا گیا ہے۔ ان کی عصمتیں سلامت نہیں ہیں۔ اس لیے ہم لوگوں نے سوچا کہ جب خواتین نکل کر سڑکوں پر آئیں گی اور خوف کے موجودہ ماحول کے خلاف آواز بلند کریں گی تو ہم نے سوچا کہ عام لوگوں کے اندر ایک جرآت پیدا ہوگی، ایک حوصلہ پیدا ہوگا اور وہ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہم بھی بول سکتے ہیں، ہم بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔

دنیا میں فسطائی قوتیں خوف کی بنیاد پر پنپنی ہیں۔ اس لیے خوف کے اس تانے بانے کو توڑنے کی ضرورت ہے۔ ہمار خیال ہے کہ ’’باتیں امن کی‘‘ کے قافلے خوف کے ماحول کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کہیں بھی اس کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ کسی بھی جانب سے ان کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔ ہاں مقامی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے کارواں کے شرکا سے بہت زیادہ پوچھ گچھ کی جاتی ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے اور یہ کیوں نکالے جا رہے ہیں۔

اس مہم کا ایک کامیاب پروگرام دو اکتوبر کو ممبئی میں ہوا جس میں مقامی باشندوں نے بہت جوش خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ اپنے اپنے میدانوں کی سرکردہ شخصیات بھی اس میں شامل ہوئیں جن میں شبانہ اعظمی اور نندتا داس قابل ذکر ہیں۔ نندتا داس نے کہا کہ وہ ان خواتین کی آواز میں آواز ملانے کے لیے پہنچی ہیں۔ جبکہ شبانہ اعظمی نے فیض احمد فیض کی نظم kw’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘‘ سنایا۔

13 اکتوبر کو دہلی میں اس مہم کا اختتامی پروگرام ہوگا جو دن بھر چلے گا۔ ’’باتیں امن کی‘‘ کے تحت چلنے والی یاتراؤں نے ملک کے انصاف پسند طبقات میں ایک نیا جوش پیدا کیا ہے اور عام لوگوں میں ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا جذبہ بیدار کیا ہے۔ اس وقت ملک میں جس قسم کا ماحول ہے اس میں ایسے پروگراموں کی اشد ضرورت ہے۔ امید ہے کہ اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی اٹھیں گے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف تیغ بے نیام بن کر اپنا فرض نبھائیں گے۔