وکاس دوبے کا مبینہ فرضی مڈبھیڑ میں قتل خطرناک... عبیداللہ ناصر

اگر سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوۓ فوری انصاف کے اس خطرناک رجحان کو سختی سے نہ روکا تو ہمارا پورا عدالتی نظام درہم برہم ہو جائے گا

تصویر، سوشل میڈیا،نیشنل ہیرالڈ 
تصویر، سوشل میڈیا،نیشنل ہیرالڈ
user

عبیداللہ ناصر

سی گریڈ کی مسالہ فلموں جیسی کہانی کی طرح کانپور میں 8 پولیس والوں کو شہید کر دینے والے مافیہ سرغنہ وکاس دوبے واردات کے 6 دنوں بعد اجین کے مہا کال مندر میں ڈرامائی انداز میں نمودار ہوتا ہے، خود ہی چیخ چیخ کر اپنا نام بتاتا ہے، اجین کی پولیس اسے حراست میں لیتی ہے اتر پردیش ایس ٹی ایف کی ٹیم اجین پہنچ کر اسے اپنی تحویل میں لیتی ہے اسے لے کر کانپور آتی ہے لیکن راستے میں پولیس کی گاڑی پلٹ جاتی ہے وکاس دوبے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اور پولیس اسے بھون کے رکھ دیتی ہے۔

یہ پوری کہانی اتنی مضحکہ خیز اور بچکانہ ہے کہ اس پر ہنسی بھی نہیں آتی۔ اس سے قبل وکاس دوبے کے 6 ساتھیوں کو مختلف مقامات پر مڈبھیڑ میں پولیس موت کے گھاٹ اتار کر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ’ٹھونک دو‘ پالیسی کو عملی جامہ پہنا دیتی ہے۔ وکاس کے گھر کو پہلے ہی غیر قانونی طریقہ سے بنا عدالت کی اجازت کے کھدوا دیا گیا تھا اور منہگی قیمتی گاڑیوں کو جو کبھی ریاست کے بڑے بڑے نیتاؤں افسروں کے استعمال میں رہتی تھیں توڑ پھوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں لازمی طور سے ایک سوآل اٹھتا ہے کہ بادی النظر میں وکاس کے خلاف کی گئی ہر کارروائی قانون اور آئین کے خلاف ہے۔

اس کی اور اس کے گرگوں کی گرفتاری اور انھیں قانون کے حوالہ کرنا ضروری تھا تاکہ نہ صرف انھیں قانون کے مطابق سزا ملے بلکہ جس سیاسی ماحول میں وکاس جیسے لوگ پنپتے ہیں پھلتے پھولتے ہیں وہ بھی اجاگر ہو سکے۔ پولیس نے ماوراے عدالت سزا دے کر نہ صرف عدالتی نظام کی توہین کی ہے نہ صرف ایک جرم کو دوسرے جرم میں بدلنے کی غلطی کی ہے بلکہ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بہت سے بڑے چہروں کے نقاب بچا لئے ہیں جس میں صرف سیاست دان وزرا ہی نہیں اعلی افسران بھی شامل ہیں۔

وکاس دوبے کو اتر پردیش پولیس نے مدھیہ پردیش پولیس سے اپنی تحویل میں لیا تھا جس کے بعد قانونی طور سے اس کی حفاظت کرنا اتر پردیش پولیس کی ذمہ داری تھی, گاڑی پلٹ جانا وکاس کے بھاگنے کی کوشش کرنا اور اسے گولیوں سے بھوں دینا سب پہلے سے منصوبہ بند لگتا ہے یہ پولیس کی تحویل میں قتل کا کھلا معاملہ ہے، قانون نیز قانونی عمل کو یقینی بنائے رکھنے کے لئے سپریم کورٹ کو از خود اس کا نوٹس لیتے ہوئے ضروری کارروائی کرنی چاہیے، قومی حقوق انسانی کمیشن کو بھی اپنا فرض منصبی ادا کرنا چاہیے۔ دھیان رکھنا چاہیے کی جرم چاہے جتنا سنگین ہو اور مجرم چاہے جتنا خونخوار اور شاطر ہو، قانونی کارروائی اور عدالتی عمل کے بغیر اسے سزا دینا آئین قانون اور مہذب سماج کے اصولوں کے خلاف ہے، یاد کیجیے پاکستانی دہشت گرد قصاب کو بھی پوری قانونی کارروائی کے بعد ہی سپریم کورٹ کے حکم سے پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا تھا۔ وکاس دوبے اور اس کے گرگوں نے جو بہیمانہ حرکت کی تھی اس کی پاداش میں ان کو پھانسی کی سزا ملنی ہی چاہیے تھی پھر یہ فوری انصاف کامبینہ طور پر غیر قانونی غیر آئینی طریقہ کیوں اختیار کیا گیا۔

دنیا کے کسی قانون کے تحت باپ کے جرم کی سزا بیٹے یا اس کے کسی بھی عزیز رشتہ دار وغیرہ کو نہیں دی جا سکتی، لیکن وکاس دوبے کے کمسن بیٹے اور اس کی اہلیہ کو پولیس نے جس انداز میں گرفتار کیا اور ہاتھ اٹھائے ہوئے ان دونوں کا جو فوٹو وائرل ہوا ہے وہ اس فوٹو کی یاد دلاتا ہے جس میں تمل ٹائیگر کے سربراہ پربھاکرن کے بیٹے کو بے لباس بسکٹ کھاتے ہوئے دکھایا گیا تھا، اس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اس بچے کو سری لنکا کے فوجیوں نے گولی مار دی تھی۔

تشدد، لاقانونیت، بدلہ اور نفرت کا جو ماحول سنگھ پریوار نے حکومت کی سرپرستی اور میڈیا کی حمایت سے بنا دیا ہے اس میں ہمارا سماج انسانی قدروں، حقوق انسانی اور قانوں کی بالادستی کے بجائے ایک مخصوص طرز فکر کی بالادستی کا حامی بن گیا ہے، اس کے نزدیک تشدد، لاقانونیت، نفرت، بدلہ سب کچھ مقصد کے حصول کم لئے جائز ہے، اس طرز فکر اور رجحان کے خلاف سینہ سپر ہونے کی ضرورت ہے، ورنہ ہندوستان میں کچھ بھی نہیں بچے گا سواۓ نراج کے۔ نکسلیوں کے انداز میں، لیکن چھتیس گڑھ کے جنگلوں میں نہیں بلکہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ سے محض ڈیڑھ سو کلو میٹر دور کانپور ضلع کے چوبے پور تھانہ کے تحت آنے والے ایک گاؤں پر بدنام ہسٹری شٹر وکاس دوبے اور اس کے گرگوں نے گھات لگا کر کیے جانے والے حملہ میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، ایک تھانہ انچارج، ایک چوکی انچارج اور پانچ کانسٹبلوں کو شہید کر دیا اور سات کو زخمی کر دیا۔ دوسرے دن پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس کا مکان اور منہگی گاڑیاں بلڈوزر سے توڑ دیں۔ وکاس دوبے شاطر بدمعاش مافیا اور ہسٹری شیٹر تھا اس نے جو کچھ کیا وہ تو غیر قانونی غیر انسانی تو تھا ہی لیکن پولیس نے بھی جو جوابی کارروائی کی اسے بھی کسی طرح حق بجانب نہیں قرار دیا جا سکتا، ملزم کا مکان توڑ دینا، اس کی گاڑیاں چکنا چور کر دینا، یہ سب تو ماوراۓ قانون کام ہیں، یہاں تک کہ عدالتیں بھی اگر مکان قانونی طور سے ناجائز زمین پر بنا ہو تو جرم چاہے جتنا سنگین ہو، اسے توڑنے کا حکم نہیں دیتیں۔

یاد کجیے ابھی چند ماہ قبل ہی حیدرآباد میں ریپ اور قتل کے کچھ ملزموں کو پولیس نے کس طرح پکڑ کر جائے واردات کا معانہ کرنے کے بہانے لے جا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا یا بھوپال جیل سے مشکوک انداز میں فرار ہونے والے ملزموں کو جن کی گولی نہ چلانے کی پکار کے فوٹو وائرل بھی ہوئے تھے، بھوپال پولیس نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس واقعہ کی عدالتی جانچ میں بھی پولیس کی کارروائی کو درست قرار دیا تھا، جب تمام آئینی اداروں نے خود سپردگی کر رکھی ہو، انصاف کا قتل لازمی ہے۔ اتر پردیش میں یوگی جی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے مڈبھیروں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا تھا، وزیر اعلی نے ٹھونک دو یعنی مار گراؤ کی کھلی چھوٹ پولیس کو دے دی تھی، جس کا شکار زیادہ تر سماج کے کمزرو طبقہ اور اقلیت کے لوگ ہوئے تھے، کئی معاملوں میں قومی حقوق انسانی کمیشن نے حکومت سے جواب بھی طلب کیا تھا اور مقتول کے کنبہ کو معاوضہ دینے کا حکم بھی دیا تھا۔

جرائم کی دنیا میں وکاس دوبے کا یہ عروج اتر پردیش ہی نہیں بلکہ پوری ہندی بیلٹ میں مجرموں، سیاستدانوں اور پولیس کے ناپاک گٹھ جوڑ کی کہانی ہے۔ پہلے جرائم پیشہ عناصر بوتھوں پر قبضہ کرنے، ووٹروں کو ڈرا دھمکاکے اپنے امیدواروں کو ووٹ دلانے کا ٹھیکہ لیتے تھے، بدلے میں انھیں موٹی رقم کے ساتھ ہی نیتاؤں اور پولیس کی سرپرستی مل جاتی تھی۔ بعد میں انھیں احساس ہوا کہ جب وہ دوسروں کو جتوا کر ایم پی، ایم ایل اے بنوا سکتے ہیں، تو خود ہی کیوں نہ بنیں، اس کے ساتھ انہوں نے جرائم کی دنیا کے ساتھ ہی ساتھ سیاست کی دنیا میں بھی قدم رکھا، ایسا نہیں کہ کانگریس کے عروج کے زمانہ میں بھی یہ عناصر سیاست میں سرگرم نہیں ہوئے تھے۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ لاکھ دعوے کریں، لفاظی اور بڑ بولا پن کے ساتھ ہی ساتھ اعداد و شمار کی بازیگری میں بی جے پی نیتاؤں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، یوگی جی اور بی جے پی نواز میڈیا لاکھ لمبے چوڑے دعوے کرے، حقیقت یہی ہے کہ اتر پردیش میں جرائم کی باڑھ آئی ہوئی ہے، قتل، اقدام قتل، ریپ، زمینوں پر ناجائز قبضے کی وارداتیں روز کا معمول بن گئی ہیں، جس دن وکاس دوبے نے یہ سنگین واردات انجام دی تھی اسی دن پریاگ راج ضلع میں ایک ہی خاندان کے چار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ غازی آباد ضلع میں بھی ایک ہی خاندان کے دو لوگوں کو قتل کر دیا گیا، دوسرے دن کوشمبی ضلع میں دوڑا دوڑا کے ایک شخص کا قتل کیا گیا اور لوگ اس کی ویڈیو بناتے رہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق قتل اور ریپ کے معاملہ میں اتر پردیش اور مدھیہ پردیش ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے کوشاں ہیں۔

اگر سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوۓ فوری انصاف کے اس خطرناک رجحان کو سختی سے نہ روکا تو ہمارا پورا عدالتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ کو عدالتی نظام کی ساکھ اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کے لئے حساس ہونا پڑے گا۔

Published: 11 Jul 2020, 8:11 AM
next