ہریانہ: پہلے اسمبلی اجلاس میں ہی ’مضبوط اپوزیشن‘ کے سامنے پسینے پسینے ہوئی بی جے پی

ہریانہ میں بھلے ہی بی جے پی نے جوڑ توڑ کی حکومت بنا لی، لیکن اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس سے صاف ہو گیا کہ مضبوط اپوزیشن اس بار اسے چین سے نہیں بیٹھنے دے گا۔ اجلاس کے دوران کانگریس کا رخ کافی جارحانہ تھا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

دھیریندر اوستھی

نوتشکیل ہریانہ اسمبلی کا نظارہ پہلے ہی اجلاس میں گزشتہ کھٹر حکومت سے کافی بدلا ہوا نظر آیا۔ اس بار کمزور حکومت کا سامنا مضبوط اپوزیشن سے ہے۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر اور حزب مخالف لیڈر منتخب کیے گئے سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا کی کرسی اسمبلی میں اس بار آمنے سامنے ہے۔ بی جے پی کے 39 اراکین کے سامنے تقریباً برابر کی طاقت کے ساتھ کانگریس کے 31 اراکین اسمبلی ٹھیک سامنے ہیں۔ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اپوزیشن کا حکومت پر حملہ آنے والے دنوں میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے لیے چیلنجز کی جھانکی پیش کر گیا۔

4 سے 6 نومبر تک چلے اسمبلی کے پہلے اجلاس میں بی جے پی حکومت کی مشکلوں کی شروعات ہوتی نظر آئی۔ بھلے ہی اسپیکر کا انتخاب تو ہو گیا، لیکن اپوزیشن نے اشارہ دے دیا کہ وہ حکومت کو کھلی چھوٹ نہیں دینے والا ہے۔ اسپیکر چنے جانے کے بعد بولنے کے لیے کھڑے ہوئے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی اپوزیشن سے بہتر کردار کی امید پر حزب مخالف لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا کا جواب سب کچھ بیان کر گیا۔

ہڈا نے کہا کہ ’’ہم مخالفت کے لیے مخالفت نہیں کریں گے، لیکن کسی ایشو کے اوپر ہم مدلل مخالفت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ انھوں نے نومنتخب اسپیکر کو بھی تاکید کر دی کہ ’’پہلے تو آپ بی جے پی کی جانب سے خوب بولتے تھے، اب سب کو ایک آنکھ سے دیکھنا ہوگا۔‘‘ انڈین نیشنل لوک دل کے رکن اسمبلی ابھے چوٹالہ نے بھی اسپیکر سے کہا کہ ’’اب آپ کو اپنا کردار بدلنا ہوگا۔‘‘

اجلاس کے دوسرے دن کی شروعات گورنر کی تقریر سے ہوئی۔ عزت مآب کی تقریر حکومت کا ویژن مانا جاتا ہے۔ اس میں بھی پرانی باتوں کا دوہراؤ زیادہ نظر آیا۔ سابق اسپیکر اور دوسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے کنور پال گجر کے ذریعہ گورنر کی تقریر پر بحث کی شروعات کرتے ہی اپوزیشن کے حملے نے اس بار کمزور حکومت کی تصدیق کر دی۔

کنور پال نے جیسے ہی یہ کہنا شروع کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا کے بعد یہ دوسری حکومت ہے جو ہریانہ میں دہرائی گئی ہے۔ اپوزیشن بنچ سے شکنتلا خٹک، گیتا بھکل اور جگبیر ملک سمیت کئی اراکین اسمبلی نے اسے جوڑ توڑ کی حکومت بتاتے ہوئے ان کے دعوے پر سوال اٹھائے۔

اتنا ہی نہیں بی جے پی کی حکومت میں شراکت دار جن نایک جنتا پارٹی (جے جے پی) کے رکن اسمبلی ایشور سنگھ تک نے حکومت کے بڑبولے پن پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے 70 اور 80 کی دہائی میں ایوان میں جو بولا جاتا تھا، وہ وعدہ ہوتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔‘‘

گورنر کی تقریر پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب مخالف لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا نے بی جے پی اور جے جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتخاب سے پہلے کوئی کہتا تھا 75 پار اور کوئی کہتا تھا جمنا پار۔ لیکن اب دونوں بن گئے ہیں یار۔‘‘ ہڈا نے کہا کہ بی جے پی نے پہلے 154 وعدے کیے تھے، اب 260 وعدے کر دیئے۔ حالت یہ ہے کہ کسان 9 پیسے کلو آلو فروخت کر رہا ہے۔ ریاست میں بے روزگاری 28 فیصد ہے۔ آلودگی کے نام پر کسان کو قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے، جب کہ حل نکالنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔

آلودگی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے ہڈا نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ پرالی کے لیے بہتر انتظام کرنے کے مقصد سے ڈی کمپوزر پر 50 فیصد سبسڈی دینے کی بات کر رہی ہے، جب کہ ڈی کمپوزر کی بوتل صرف 20 روپے کی آتی ہے۔ حکومت 10 روپے کی چھوٹ دے کر واہ واہی لوٹ رہی ہے۔ وہیں آئی این ایل ڈی کے ابھے چوٹالہ نے سوال پوچھا کہ ’’اب جے جے پی کے 11 ہزار بے روزگاری بھتہ دینے کا وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘

Published: 7 Nov 2019, 5:15 PM