شری شری کا بیان ، مسلم طبقہ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش

اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور شری شری روی شنکر

ان لوگوں کے بیان اس طرف اشارہ کررہےہیں کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی بابری مسجد سے دست بردار ہونے میں ہی بھلائی ہے ورنہ آرایس ایس آرمی تیار ہے جو روہنگیا جیسے حالات بنانے کے لئے کافی ہے۔

پہلے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا یہ کہنا کہ وہ صرف تین دن میں آر ایس ایس آرمی تیار کرسکتے ہیں اور اب آرٹ آف لیونگ کے سربراہ شری شری روی شنکر کا یہ کہنا کہ اگر بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے مدعہ کو کورٹ کے باہر حل نہیں کیا گیا تو ہندوستان میں ملک شام جیسی خانہ جنگی ہوسکتی ہے ۔واضح رہے کہ شام عرب خطہ کا مسلم اکثریتی ملک ہے ۔

شری شری کے بعد یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ کہنا کہ میں فخر سے کہتا ہوں کہ ’میں ہندو ہوں اور عید نہیں مناتا ہوں‘ ساتھ ہی ان کا یہ کہنا کہ اس بار مسلم طبقہ نے ہولی کے موقع پر نماز کے وقت میں تبدیلی کرکے سمجھداری کا کام کیا ہے یہ سارے بیان ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی بابری مسجد سے دست بردار ہونے میں ہی بھلائی ہے ورنہ آرایس ایس آرمی تیار ہے جو روہنگیا جیسے حالات بنانے کے لئے کافی ہے۔ شری شری روی شنکر جس دن سے بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ کو حل کرنے کے لئے میدان میں آئے ہیں اس دن سے ان کا صرف مسلم طبقہ پر ہی یہ دباؤ ہے کہ مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہوجائیں۔ جس کو لے کر مسلم طبقہ میں لگاتار یہ سوچ بنی ہوئی ہے کہ شری شری روی شنکر آر آرایس کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔

ان کے اس بیان نے مسلم طبقہ کی اس سوچ پر مہر بھی لگادی ہے۔ مولانا شبیر احمدمظاہری نے روی شنکر کے اس متازع بیان پر اپنے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روی شنکر اپنے اس بیان سے مسلم طبقہ کو یہ بآور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک شام جہاں مسلم حکمراں ہیں جب وہاں مسلمانوں کو تحفظ ممکن نہیں ہو پارہا ہے تو یہاں تم پہلے ہی بے یارو مددگار اقلیت ہو یہاں کون ہے جو تمہارے اوپر ہونے والے مظالم کی خبر لے گا ۔ انھو ں نے کہا کہ شری شری روی شنکر مسلم طبقہ کے دلوں میں خوف بھر کر ان کو اس بات پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بابری مسجد کا خیال بھی اپنے دلوں سے نکال دیں مگر وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان اتنا کمزور نہیں ہے کہ وہ کسی کی بھپکیوں میں آکر خوفزدہ ہوجائے، انھو ں نے شری شری کے خلاف ملک مخالف دفعات کے تحت مقدمہ چلائے جانے کی بات کہی۔

ایک اور سماجی کارکن حاجی مشکور نے کہا کہ شری شری روی شنکر کا یہ بیان نہایت بچکانہ ہے انھوں نے کہا کہ ہندوستان کا مسلمان کسی کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہے ۔ حاجی مشکور نے مزید کہا کہ ہندوستانی مسلمان کو بیرونی ممالک بیٹھے مسلم لیڈروں کی ضرورت نہیں ہے یہاں کا مسلمان خود اس لائق ہے کہ اپنی حفاظت خود کرسکے۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد ، رام جنم بھومی حق ملکیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ غور ہے اور مسلمان ہمیشہ یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ ہمیں منظور ہوگا تو پھر شری شری روی شنکر کس بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اعلیٰ عدالت کا فیصلہ آتا ہے تو ہندوستان میں ملک شام کی طرح خانہ جنگی ہوگی۔ ان کے اس بیان سے کیا یہ سمجھا جائے کہ آرایس ایس اور وہ خود یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر ملکیت کے حق میں فیصلہ ہوا تو کیا فیصلہ ہوگا اور وہ لوگ جو ملک کے قانون کو نہیں مانتے ہیں وہ فساد برپا کریں گے ۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی شری شری روی شنکر سے ہی کرنی چاہئے تاکہ ملک میں امن و امان قائم رہے ۔ انھو ں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شری شری روی شنکر سے مسلم طبقہ کے معززین اپنا تعلق منقطع کریں اور انھیں یہ احساس کرائیں کہ ہندوستان کا مسلمان کرائے کے گھر میں نہیں رہتا بلکہ اس کا بھی اس ملک پر اتنا ہی حق ہے جتنا دوسروں کا۔

سب سے زیادہ مقبول