ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کا اتحاد، بی جے پی کے لئے مثل شکست فاش

بی ایس پی اور ایس پی نے کانگریس کے ساتھ دوستی بڑھائی، تو آئندہ عام انتخاب میں ایک عظیم اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔ اس سے اتّرپردیش میں بی جے پی کی سیٹیں، حال کی 71 سیٹوں میں سے 24 سیٹیں ہی رہ جائیں‌گی۔

By آشیش رے

آشیش رے

اگر اگلے پارلیمانی انتخابات میں سماجوادی پارٹی (ایس پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور کانگریس نے ریاست میں سیٹوں پر سمجھوتہ کر لیا تو اتّر پردیش (یو پی) کے انتخابی اکھاڑے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست فاش کا مقابلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر اتّر پردیش کے رائےدہندگان نے سال 2014 کی طرح ہی اپنے ووٹ ڈالے، تو بی جے پی اتحاد کی سیٹوں میں کافی کمی آئے‌گی اور جو فی الحال موجودہ 73 سیٹوں سے گھٹ‌کر 24 سیٹیں ہی جائیں‌گی۔

ایسی حالت میں، ایس پی کو 26 سیٹیں، بی ایس پی کو 25 سیٹیں اور کانگریس کو 5 سیٹیں ملیں‌گی۔

لیکن فی الحال چل رہے سیاسی اٹھا پٹک کی بات کریں تو اس سے آنے والے انتخاب میں، یوپی اور ہندوستان میں اتحاد کے واضح اشارے ملنے کے امکان ہے۔

آئندہ لوک سبھا انتخابات میں، اگر سال 2014 کے ووٹوں کے اعدادوشمار نہیں بدلتے ہیں، تو اصل میں بی جے پی کو اتنی سیٹیں برقرار رکھنا بےحد مشکل ہوگا۔ نریندر مودی بنارس میں اپنی سیٹ برقرار رکھ پائیں‌گے۔ اسی طرح لکھنؤ میں راجناتھ سنگھ، متھرا میں ہیما مالنی، پیلی بھیت میں مینکا گاندھی، کانپور میں مرلی منوہر جوشی اور دیوریا میں کلراج مشرا بھی اپنی سیٹ برقرار رکھ لیں‌گے۔ لیکن جھانسی میں اوما بھارتی، سلطان پور میں سنجے گاندھی کے بیٹے ورون گاندھی سمیت کئی مضبوط امیدوار اپنی سیٹیں کھو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جگدمبیکا پال، جو پچھلے عام انتخابات سے پہلے کانگریس کو چھوڑ‌کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے، ان کو بھی ڈومریاگنج میں شکست کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

لیکن کانگریس کے پی ایل پنیا، جو گورکھپور اور پھول پور ضمنی انتخاب کے لئے ایس پی و بی ایس پی کے اتحاد سے ناخوش ہیں، وہ صحیح طور پر بارہ بنکی میں پارٹی کے لئے فائدےمند ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کو وہاں سے کھڑا کیا جائے۔

سال 2009 کے مقابلے بی جے پی نے سال 2014 میں اتّر پردیش میں غیرمعمولی انتخابی حمایت حاصل کی تھی۔ سال 2009 میں بی جے پی نے محض 17.5 فی صدووٹ حاصل کئے تھے (جو کانگریس کے 18.25 فی صد ووٹ سے بھی کم تھے)۔

سال 2014 میں بی جے پی نے غیرمتوقع 42.63 فی صد رائےدہندگان کو اپنی طرف متوجہ کیا یا یوں کہا جائے تو پہلے سے ڈھائی گنا زیادہ ووٹ حاصل کئے۔

انہوں نے یہ جیت ریاست میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق مدوں کو اٹھاتے ہوئے ہندو ووٹ کو منظم کرکے کیا۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے بی ایس پی اور ایس پی کے ذریعے نظرانداز کئے گئے یا ان سے ناراض فہرست شدہ قبائل اور دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی) کو چالاکی سے اپنی طرف متوجہ کرکے کیا۔ اس کے باوجود، اتّر پردیش کے رائےدہندگان میں ایک عدم استحکام نظر آتا ہے، جو کسی بھی پارٹی کے لئے تشویشناک ہے۔ دوسرے طریقے سے دیکھیں تو سال 2014 اور 2017 میں ریاست کے رائےدہندگان نے بی جے پی کے تئیں جو اعتماد دکھایا تھا اس سے یہ نہیں مانا جا سکتا کہ آگے کی صورتحال بھی یہی رہے‌گی۔

جہاں گورکھ پور اور پھول پور کی سیٹوں پر ایس پی اور بی ایس پی اپنے پرانے حسد و نفرت کو طاق پر رکھ‌کر یکجا ہوکر کھڑے ہیں، وہیں دوسری طرف بی جے پی اپنی لامحدود دولت و قوت، سرکاری مشینری اور ریاست میں کارگزار پارٹی کارکنان کی طاقت پر ان سیٹوں پر اپنی گرفت بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے‌گی۔

یہ وقار اور نفسیاتی نظریے سے یہ ایک اہم لڑائی ہے۔ تشہیر و تبلیغ کے علاوہ، بی جے پی یہ بہتر طور سے جانتی ہے کہ ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنا پیر پھیلانے کے بعد بھی بی جے پی کو اس علاقے میں 25 سیٹوں میں سے زیادہ سے زیادہ 10 سیٹوں پر ہی جیت حاصل کر سکتی ہے۔

ہندی بولنے والا علاقہ، خاص طورپر یوپی میں بی جے پی کے زبردست مظاہرے کی وجہ سے، سال 2014 میں مرکز میں حکومت بنا پائی۔ یہ غیرمتوقع تھا اور جس کو دوہرانا اب تقریباً ناممکن سا لگتا ہے۔ حال میں ہوئے مدھیہ پردیش اور راجستھان کے ضمنی انتخابات سے یہ دکھائی دیتا ہے کہ رائےدہندگان بی جے پی سے کنارہ کش ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایس پی و بی ایس پی اور کانگریس کا اتحاد اگر بن پاتا ہے، تو بی جے پی کے لئے یہ کتنا نقصاندہ ثابت ہوگا؟

وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی بھی انتخاب ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔ آئندہ انتخاب میں ووٹ تقسیم کے اعداد و شمار واضح طور پر سال 2014 کے انتخاب کے مانند نہیں ہوں‌گے۔

ووٹ کا نفع اور نقصان کئی وجہوں پر منحصر کریں‌گے۔ ایسی کئی کشمکش اور غیر متوقع واقعات ہوتے ہیں جو چھوٹی-بڑی سطحوں پر پیدا ہوتی ہیں۔ ایسی باتوں کا اندازہ تب تک نہیں لگایا جا سکتا ہے جب تک ایسا واقعہ واقع نہیں ہو جاتا۔

اس لئے، وزیر اعظم نریندر مودی اور یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس مدے کو لےکر ایسا کیا جادو کرنے والے ہیں؟ بی جے پی کے سب سے بڑے گڑھ گجرات کے سال 2017 کے اسمبلی انتخاب اور سال 2018 کے مقامی بلدیاتی انتخابات نے یہ دکھا دیا ہے کہ جہاں شہری رائےدہندگان کو بی جے پی پر ابھی بھی بھروسا ہے، وہیں دیہی رائےدہندگان اپنے ووٹ کو لےکر ان سے غمزدہ نظر آئے۔

یہ تعجب کی بات نہیں ہوگی کہ بی جے پی اپنے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کر پانے کی حالت میں سخت ہندوتوا کا سہارا لے‌گی۔ اس تناظر میں ایودھیا مسئلہ دوبارہ اٹھ سکتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ پارٹی ان طبقوں کو ڈرانے کے لئے فرقہ وارانہ جانبداری کا سہارا لے، جو عام طور پر ان کو ووٹ نہیں دیتے ہیں۔

ملائم سنگھ یادو کی طرف ہاتھ بڑھا کر بی جے پی ایس پی اور او بی سی کے ووٹ کو منقسم کرنے کی کوشش کرے‌گی، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

سال 2014 میں، ایس پی نے پانچ، کانگریس نے دو اور بی ایس پی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی۔ اگر سماجوادی، بی جے پی کی لالچ اور داؤ-پینچ کے خلاف یکجہتی بناتی ہے، اور بی ایس پی اس بات کو سمجھ پاتی ہے کہ آئندہ انتخاب میں اس کی شکست فاش سے اس کا سیاسی خاتمہ یقینی ہے، تو ایسی حالت میں اتحاد ہی صرف منطقی اور سمجھداری بھرا قدم ہوگا۔

کرناٹک، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتّیس گڑھ میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے نتیجے، اتّر پردیش کے آئندہ عام انتخاب کے نتیجوں کو یقیناً متاثر کریں‌گے۔

حال کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی نے جس مخالف لہر کا مقابلہ کیا یہ اس کے لئے اچّھی خبر نہیں ہے۔ یہ لہر، یوپی کے رائےدہندگان کا رخ اس اتحاد کی طرف موڑ سکتی ہے جو ان کی نظر میں انتخاب میں جیت حاصل کر سکتی ہیں نہ کہ مودی اور یوگی کی جوڑی کی طرف۔

ریاضی اعداد و شمار یقینی طور پر ایس پی و بی ایس پی اور کانگریس مہاگٹھ بندھن (عظیم اتحاد) کے ساتھ ہیں، جنہوں نے سال 2014 کے انتخابات میں مشترکہ طور پر 49.83 فی صد ووٹ حاصل کئے تھے۔