امریکہ اور ایران میں سے کوئی تو جھوٹ بول رہا ہے

امریکہ نے ایرانی جنرل کو ایک حملہ میں ہلاک کیا جس کی تصدیق بھی ہوگئی، جواب میں ایران نے میزائل حملے کیے اور دعوی کیا کہ ان حملوں میں 80 فوجی ہلاک ہوئے ہیں لیکن امریکہ نے کسی جانی نقصان کی تردید کی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

امریکہ نے ایک ڈرون حملہ میں ایران کے سب سے اعلی ترین فوجی جنرل کو ہلاک کیا۔ اس ہلاکت کی ہر جگہ سے تصدیق بھی ہو گئی اور جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت بھی کی۔ ایران اس حملہ سے بوکھلا گیا اور اس نے امریکہ پر واضح کر دیا کہ وہ اس حملہ کا بدلہ لے گا۔ ایران نے دو دن کے اندر عراق میں اتحادی فوجیوں کے اڈوں پر میزائل سے حملہ کیا اور بعد میں دعویٰ کیا کہ اس حملہ میں 80 فوجی ہلاک ہو ئے ہیں لیکن امریکی صدر نے اس ایرانی حملہ کے فورا بعد ٹوئٹ کیا ’آل از ویل‘( سب ٹھیک ہے) جس سے امریکہ نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ایرانی حملہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کل دیر شام (امریکی وقت کے مطابق صبح) کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹی وی پر آکر بیان دیا کیا کہ ایرانی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ان دو متضاد بیانات کے بعد ایک بات تو واضح ہے کہ ایرانی حملوں کے تعلق سے ایران اور امریکہ میں سے کوئی ایک تو جھوٹ بول رہا ہے۔ ابھی تک کی صورتحال سے ایک بات تو واضح ہے کہ امریکہ کا کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے کیونکہ امریکہ میں جانی نقصان کو چھپانا بہت مشکل ہے اور دوسرا یہ کہ انتخابی سال میں ڈونالڈ ٹرمپ اتنے برے نقصان کو برداشت نہیں کر پاتے اور وہ بوکھلا جاتے۔ اس لئے اس کے امکان بہت زیادہ ہو گئے ہیں کہ ایران نے فوجی حکمت عملی کے تحت یہ جھوٹ بولا ہو۔ ایران کے اس جھوٹ کی وجہ سے امریکی صدر کو عوام کے سامنے آکر اس کا جواب دینا پڑا۔ امریکی صدر کی وضاحت سے ایران کے حملہ کی تصدیق ہو گئی۔ ایران کو یہ فائدہ ہوا کہ اس نے اپنے عوام اورعالمی مسلمانوں کےغصہ کو کافی حد تک ٹھنڈا کر دیا ہے۔

خبروں کے مطابق دیر رات ایران نے 22 میزائل داغے جن میں سے 17 میزائل الاسد ائیر بیس کے جانب جبکہ پانچ میزائل اربیل کی جانب داغے گئے اور ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بی بی سی کے مطابق کئی گھنٹے پہلے امریکہ کو ان میزائل حملوں کی بھنک لگ گئی تھی اور یہ اطلاع سٹیلائٹ کے ذریعہ امریکہ کو ملی تھی اور یہ وہی سٹیلائٹ ہے جس کے ذریعہ شمالی کوریا کے نیوکلیئر ٹیسٹ پر نظر رکھی جاتی ہے۔ خبر ملنے کے بعد فوجی بنکر میں گھس گئے۔ یہی ٹرمپ نے بھی کہا کہ حملہ سے پہلے الارم سسٹم بج گئے تھے جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اس سارے معاملہ سے ایک بات تو واضح ہے کہ ایران خطے میں جنگ نہیں چاہتا بلکہ وہ خطے میں موجود طاقتوں کو اپنی طاقت کے تعلق سے احساس دلانا چاہتا تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گیا ہے۔ ایران کے جوابی حملہ سے ایک پیغام تو تمام ممالک کو پہنچ گئی کہ اس کا میزائل نظام اتنا جدید ہے کہ دشمن پوری طرح ایلرٹ ہونے کے بعد بھی اس کے میزائل کو نہیں روک سکتا۔ جانی نقصان ہوا یا نہیں لیکن امریکہ اور اتحادی فوجیں ایرانی میزائلوں کو راستے میں حدف سے پہلے نہیں روک پائیں۔ ایران کا شائد یہی مقصد تھا کہ وہ اپنے دشمنوں کو پیغام دینا چاہتا تھا کہ اس کی فوجی مہارت کہاں تک ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایران کو جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی شکل میں ایک ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کے خطے میں اپنے فوجی عزائم کو فروغ دینے میں ضرور رکاوٹ ہوگی لیکن اس نے ایک بار پھر مغرب کو اپنی طاقت کا احساس دلا دیا ہے۔ جو کچھ پچھلے دنوں سے خلیج میں ہو رہا ہے اس کا فائدہ انتخابی سال ہونے کی وجہ سے ڈونالڈ ٹرمپ کو ہو سکتا ہے۔ جو بھی ہے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کی نیند اڑ گئی ہے اور وہ ایران کی بڑھتی فوجی طاقت سے پریشان ہیں۔