انتخابی ہلچل اور چند ’خرافاتی‘ سوال... مرنال پانڈے

انتخابات کے وقت میڈیا کی تحقیقات پر لگام کسنےکی نیت سے کئی بار اس کی ساکھ اور بھروسہ پر کیچڑ اچھالا گیا ہے۔ قہر ان پر برپا دِکھتا ہے جو حق اطلاعات یا مفاد عامہعرضی ڈال کر گھوٹالوں کی تفتیش کر رہے ہیں۔

جس ملک کی کرکٹ ٹیمیں پاکستان کے ساتھ بھی ہر ٹورنامنٹ جنگ کی طرح کھیلتی ہیں وہاں بی جے پی اور کانگریس کا ٹکراؤ آخر کیسے ’جنگ عظیم‘ کی شکل نہیں لے گا؟ اب جنگوں کا قاعدہ ہے کہ راجہ آس پاس کے دیگر رجواڑوں سے مدد لیتے ہوئے خود ایک قدم آگے کی صف سے لڑے۔ وہ بھی ہو رہا ہے۔ ہر روز بی جے پی اور کانگریس کے سرکردہ لیڈر اسٹیج سے تلخ تقریریں کرتے ہیں، کرناٹک کی عظیم تاریخی وراثت یاد کرتے ہوئے اسے نئی تکنیک کا مندر بتایا جاتا ہے۔

کوئی مندر، مسجد یا کلیسا نہیں جہاں کے مذہبی پیشواؤں سے آشیرواد نہ لیے جا رہے ہوں، لیکن اس درمیان شمال میں آر ایل ڈی، لوک جن شکتی پارٹی اور جنوب میں جے ڈی ایس کی طرف سے آئے حالیہ بیانات اور بیلاری کے ریڈی برادران کی بی جے پی میں عزت کے ساتھ واپسی کو دیکھ کر میڈیا میں یہ خرافاتی سوال خود بخود پیدا ہو رہے ہیں کہ پارٹی تو چھوڑیے، ایسے جنگ کے اخلاقی، مذہبی (نام نہاد پاکیزہ) پہلوؤں سے ان تمام بھاڑے کی فوج کا اوسطاً کیا کوئی رشتہ بنتا ہے؟ مہابھارت-رامائن دور سے جنگ نہ تو صرف چمچوں سے لڑی جاتی ہیں، نہ دَسیو دَلوں سے۔ کرن، وبھیشن، منتھرا، ششو پال، شکونی، اشوتھاما، ہر جنگ میں ضروری کردار بن کر ابھرتے ہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ ایک بڑی فوج (جیسا شاید نپولین نے کہا تھا) پیروں کے زور پر نہیں، پیٹ کے زور پر مارچ کرتی ہے۔ لہٰذا خالی اور بھرے ہوئے پیٹوں کا بھی جنگ میں خیال رکھنا ہی پڑتا ہے۔ یہاں بات سیدھے آ ٹھہرتی ہے آمدنی پر۔ شاید یہی کچھ چھپے ہوئے خرچے ہیں جن کے سبب آمدنی کھینچنے کا ’شاستر‘ تو ہر سرکار کے پاس خوب ہوتا ہے لیکن سرکاری عمارتوں، فوج اور نوکرشاہی کے معینہ خرچ کے علاوہ ہونے والے دیگر کئی خرچوں کا کوئی صاف ’شاستر‘ چانکیہ یا بھاما شاہ نے بھی کبھی نہیں لکھا۔

ہاں، تصوراتی سطح پر ہوا میں رول ماڈل بجٹ خاکہ بناتے رہنے کے لیے پلاننگ کمیشن، نیتی آیوگ وغیرہ قائم کر دیے جاتے رہے ہیں۔ اس لیے عدم تشدد، سبزی خوری، گیتا اور گاندھی کے باوجود ہندوستان میں خرچیلے انتخابی جنگوں کی شبیہ عام لوگوں کی نظروں میں دلچسپ ناٹک زیادہ اور سنجیدہ اخلاقی ٹکراؤ کم بنتی ہے۔ سوشل میڈیا کی سبقت کے بعد تو اور بھی زیادہ۔

یہ شبیہ اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ہر بار شروع میں اہم فوجی سپر ہیرو کی طرح اور آخری مرحلہ میں پگڑی اور مکٹ سے مزین ہو کر سیدھے دور وسطیٰ کے راج-راجیشور بن کر ابھرتے ہیں۔ طویل اخلاقی تقریریں ہوتی ہیں، پھر مخالفین کے گھر کے رنگارنگ لتّے چوراہے پر دھوئے جاتے ہیں اور آخر تک شفاف کیچڑ کی ہولی کھیلی جانے لگتی ہے۔

اسی لیے ہندوستان کے اصل دھارے کی میڈیا پر اس وقت ذمہ داری ہے کہ وہ ان دو ٹوک سچائیوں کو کسی طرح چھُپنے نہ دیں۔ انتخابی مباحثہ میں پارٹیوں کے جھگڑے، گھوٹالے اور مشتبہ طرح کے تعلقات، سبھی کو بے رحمی کے ساتھ اُجاگر کریں تاکہ گلابی غلط فہمیوں سے ملک کو ہانکا جانا بند نہ ہو تو کم سے کم بے مطلب تو بن ہی جائے۔

یہاں کچھ باتیں کہنی ضروری ہیں۔ انتخابات کے وقت میڈیا کی تحقیقات پر لگام لگانے کی نیت سے کئی بار اس کی ساکھ اور بھروسہ مندی پر لگاتار کیچڑ اچھالا گیا ہے، جسمانی حملے ہی نہیں کیے گئے اس کے اعتماد پر بھی سوال اٹھائےگئے ہیں ۔ یہ اکثر اس میڈیا کے ساتھ نہیں ہوتا جو اِس یا اُس پارٹی کی بابت ’فیک‘ (جھوٹی) خبریں تکنیکی ہنر سے پھیلاتی ہے۔ قہر ان پر برپا نظر آتا ہے جو حق اطلاعات یا مفاد عامہ عرضی ڈال کر گھوٹالوں کی تفتیش کر رہے ہیں اور اصل دھارے سے جڑے ہیں۔

گزشتہ ماہ رائٹر کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ میڈیا کے تحفظ کے لحاظ سے گزشتہ ایک سال میں ہندوستان 138ویں نمبر پر آ کر دو سیڑھی نیچے گر گیا۔ یہ سنگین بات ہے۔ 2018 کے پہلے چوتھائی پر میڈیا فاؤنڈیشن کے پورٹل ’دی ہوٹ‘ کی تازہ رپورٹ بھی دکھا رہی ہے کہ اس دوران میڈیا ملازمین پر 13 حملے ہوئے جن میں 3 جانیں گئیں (سبھی مہلوکین ہندی کے تھے اور لوکل مافیا کےگھوٹالوں کی تفتیش کر رہے تھے)۔ میگھالیہ کے کانکنی مافیہ پر لکھتی رہیں شیلانگ کی ایک خاتون مدیر کے گھر پر پٹرول بم پھینکا گیا اور راجدھانی دہلی کی پولس نے امتحان کی تاریخ بدلنے پر مظاہرہ کر رہے طلبا کے ساتھ کھڑی خاتون صحافی سے سڑک پر بدسلوکی کی اور بعد میں یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ اسے طالب علم سمجھے تھے۔

میڈیا ملازمین اور پورٹلوں پر سنسرشپ کی50 کوششیں درج ہوئیں اور 20 معاملوں میں انٹرنیٹ خدمات روکی گئی۔ اپریل میں ہی ’فیک نیوز‘ دینے کا ملزم مانے گئے (صرف پی آئی بی کے منظور شدہ صحافیوں) کی منظوری رَد کرنے کی کوشش پر کام رکا نہیں ہے۔ ’راج تنتر‘ کے اس داستانِ جنگ میں بالآخر عوام کی مداخلت ہی ثابت کرے گی کہ صحیح کون تھا؟

سب سے زیادہ مقبول