شجاعت بخاری کے بیٹے نے لکھا جذباتی مضمون، کہا ’پاپا اصولوں والے انسان تھے‘

تہمید بخاری

10ویں درجہ میں زیر تعلیم شجاعت بخاری کے بیٹے تہمید بخاری نے ‘رائزنگ کشمیر’ میں اپنے والد کے قتل اور اس وقت کے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مضمون لکھا ہے۔

جموں و کشمیر کی راجدھانی سری نگر میں 14 جون کو 'رائزنگ کشمیر' کے چیف ایڈیٹر شجاعت بخاری کا قتل ان کے ہی دفتر میں گولی مار کر کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کا ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور اب 'رائزنگ کشمیر' میں ہی ان کے معصوم بیٹے تہمید بخاری نے ایک مضمون لکھا ہے جو کہ انتہائی جذباتی ہے۔ 10ویں درجہ میں زیر تعلیم تہمید بخاری نے یہ مضمون 'پاپا اصولوں والے انسان تھے' کے عنوان سے لکھا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے جو کچھ لکھا ہے اسے پڑھ کر نہ صرف آنکھیں نم ہو جاتی ہیں بلکہ معصوم بیٹے پر شجاعت بخاری کے قتل کا کیا اثر پڑا، اس کا بھی اندازہ ہوا ہے۔ تمہید بخاری نے اپنے مضمون میں کیا کچھ لکھا، آپ بھی پڑھیں...

14 جون میرے اور میری فیملی کے لیے ایک بھیانک دن تھا۔ اس دن میں نے اپنے والد کے قبل از وقت موت کی غم اندوہ خبر سنی۔ پی سی آر میں بیٹھ کر جب میں سری نگر اسپتال پہنچا تب میں نے کسی کو کہتے ہوئے سنا کہ "اب وہ نہیں رہے"۔ جس وقت میں نے یہ سنا میرے پیر کانپنے لگے، لیکن میں اب بھی سب کچھ صحیح ہونے کی امید کر رہا تھا۔

میرے ذہن میں ایک ساتھ ہزاروں خیال چل رہے تھے۔ کیا پتہ وہ اب بھی آپریشن تھیٹر میں ہوں؟ کیا پتہ وہ بھاگتے ہوئے میرے پاس آئیں گے اور مجھے گلے لگا لیں گے۔ حالانکہ ان کی قسمت کا فیصلہ ہو چکا تھا، ان کی روح نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ مجھے اب تک بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھاکہ میرے والد جیسے سچے آدمی کے ساتھ کسی نے ایسا کیوں کیا۔ اس وقت ہزاروں لوگوں نے پی سی آر کے اندر اکٹھا ہونا شروع کر دیا۔ دوستوں، خیر خواہوں اور کنبہ والوں کے چہرے پر مایوسی چھائی ہوئی تھی۔ میں تب بھی مایوسی میں تھا اور اپنا درد چھپانے کی کوشش کر رہا تھا جب ہم اپنے آبائی گاؤں سے اپنے والد کی لاش کے ساتھ نکلا۔

جس وقت میں ایمبولنس کے اندر رو رہا تھا میں اس وقت بھی امید کر رہا تھا کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور مجھے گلے لگا لیں گے۔ پاپا اصولوں والے انسان تھے۔ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ میرے والد ہزاروں نفرت کرنے والے لوگوں سے گھرے رہتے تھے، لیکن انھوں نے کبھی دشمنی کا ایک لفظ ان کے خلاف نہیں کہا۔

وہ ایک نظریہ ساز تھے، لیکن ان میں انا کا ایک بھی عنصر نہیں تھا۔ وہ علم، خوش خلقی اور ہزاروں خوبیوں کی علامت تھے۔

پاپا اپنے دفتر کے لوگوں سے ملازمین کی طرح نہیں بلکہ اپنی فیملی کی طرح سلوک کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے ملازمین کو بہتر بننے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔

وہ ہمدرد و مددگار تھے۔ 2014 میں جب کشمیر میں سیلاب آیا تب انھوں نے گھر پر وقت گزارنے کی جگہ سیلاب میں پھنسے ہزاروں بے سہارا لوگوں کی مدد کی۔ پاپا نے ہمیں کبھی نہیں بتایا کہ انھوں نے کئی فیملی کی مدد کی۔ وہ ایک ایسے بیٹے تھے جنھوں نے اپنے والدین کے ساتھ اچھا عمل کیا اور سچ کے راستے پر عزم کے ساتھ رہ کر فخر محسوس کرایا۔

انھوں نے اپنی پوری زندگی امن کے لیے کام کیا اور اسی کے لیے اپنی جان بھی دے دی۔ انھیں امید تھی کہ ایک دن کشمیر میں معصوم لوگوں کو اپنی جان نہیں گنوانی پڑے گی۔ وہ کشمیری زبان کے بارے میں جذباتی تھے۔ انھیں اپنی مادری زبان سے محبت تھی۔ کشمیر کے اسکولوں میں 10ویں تک بچوں کو کشمیری پڑھائی جائے ان کا یہ دیرینہ خواب جون 2017 میں مکمل ہوا تھا۔

وہ مدد کرنے والے تھے اور مادی چیزوں کی ان میں کوئی خواہش نہیں تھی۔ کشمیر میں امن پھیلانے کے لیے انھوں نے کئی تنظیموں کے ساتھ دنیا کے ہر جزیرے میں ہزاروں تقاریب میں حصہ لیا۔

1990 میں فوج اور دہشت گردوں کی کراس فائرنگ میں ان کے دو چچیرے بھائیوں کی موت ہو گئی تھی اور اب کشمیر کی اتھل پتھل میں ہماری فیملی کا تیسرا رکن مارا گیا ہے۔

ان کی لاتعداد وراثتیں ہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ میں کیسے ان کی امیدوں پر کھرا اتر پاؤں گا۔ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ میں ان کے والد سید رفیع الدین بخاری کی طرح بنوں، پاک اور ایماندار۔

کشمیر کی انگریزی صحافت نے کئی عظیم رپورٹر، مدیر اور کچھ ہیرو دیے، لیکن شہید کبھی نہیں۔ میرے والد نے اس کمی کو پورا کر دیا ہے۔ وہ ہمیشہ غیر جانبدار رہے، یہاں تک کہ انھوں نے اپنے بھائی کا بھی معاملہ دیکھا جو سیاست میں ہیں۔

ہر چیز سے ان کا ایک جذباتی رشتہ تھا، شاید یہی وجہ ہے کہ لوگ انھیں اتنا پیار کرتے تھے۔ یہ سرپرائز کرنے والی بات نہیں ہونی چاہیے کہ محض 10 سالوں میں ہی 'رائزنگ کشمیر' جموں و کشمیر کا سب سے مشہور اور پسند کیا جانے والا اخبار بن گیا۔

اگراللہ چاہتا تو ان کا انتقال دو سال پہلے ہو جاتا، جب انھیں ایک اٹیک آیا تھا، لیکن اس نے ان کی وداعی کے لیے عید جیسا مبارک دن منتخب کیا۔

اس ظالم دنیا میں وہ فٹ نہیں تھے۔ ان کے جیسے پاکباز انسان کو اللہ اپنے ساتھ چاہتا ہے۔ اللہ انھیں جنت میں اعلیٰ مقام دے۔ اللہ کی رحمت ان پر نازل ہو۔

سب سے زیادہ مقبول