مظاہروں کو نگلتی فرقہ واریت، ’شاہین باغ‘ روشنی کی مشعل ... سید خرم رضا

شاہین باغ نے ختم ہوتے مظاہرہ کے کلچر کو زندہ کیا اور جمہوریت میں امید پیدا کی۔ لیکن ہندوتوا طاقتوں کی تو منشا ہی کچھ اور تھی۔ انھوں نے مظاہرہ کرنے والوں کو اینٹی نیشنل یعنی غدار ٹھہرانا شروع کر دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

دہلی کے شاہین باغ میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران لگایا گیا ہندوستان کا بڑا سا نقشہ مظاہرہ میں آنے والوں کے لیے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جو بھی شاہین باغ پہنچتا ہے، اس نقشہ یعنی میپ کے پاس کھڑے ہو کر سیلفی ضرور لیتا ہے۔ عارضی ٹینٹ میں چل رہے شاہین باغ کے مظاہرہ نے مخالفت کی ایک نئی شکل کو سامنے رکھا۔ بس اسٹینڈ پر بنی لائبریری، سڑک کنارے بیٹھے پینٹنگ سیکھتے یا کورس کی کتابیں پڑھتے بچے، دیواروں پر بنی گریفٹی، لہراتا ترنگا... جو بھی اس مظاہرہ میں آتا ہے، مسحور ہو جاتا ہے۔ ہر کسی کو اپنی بات رکھنے کی آزادی ہے اور سبھی اسپیکر احتجاجی مظاہرہ کر رہے لوگوں کے تئیں اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ مضبوط ارادے سے جمی خواتین سخت سردی، برسات اور وقتاً فوقتاً تشدد جیسے پیدا ماحول کے درمیان ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار نظر آتی ہیں۔ ارادہ صرف ایک ہی تھا اور ہے کہ آئین کے بنیادی اقدار کی حفاظت کی جائے۔

گزشتہ تقریباً ڈھائی مہینے سے شاہین باغ کی یہی تصویر دنیا کے سامنے آئی ہے اور ناامیدی کے درمیان امید کی شمع لیے احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کو امید تھی کہ کم از کم حکومت کا کوئی سفیر تو آئے گا جو آ کر ان کی بات سنے گا، ان کے مسائل کو حکومت کے سامنے رکھے گا۔ لیکن نہ حکومت کا کوئی نمائندہ آیا اور نہ ہی حکومت کا کوئی بیان،مگر ’شاہین باغ‘ کی امید اور ہمت اب تک نہیں ٹوٹی ہے۔ اب بھی خواتین دھرنے پر بیٹھی ہیں، اب بھی اسپیکر آتے ہیں اور اپنی بات رکھتے ہیں، اب بھی لوگ آزادی کا علم بلند کرتے ہیں، ہندوستان کا نقشہ بھی پوری شان سے چمک رہا ہے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ دہلی کے موجودہ ماحول کی وجہ سے آنے والے لوگوں کی تعداد میں کچھ کمی ضرور آئی ہے۔

دراصل مخالفت کسی بھی جمہوریت کی لائف لائن ہے یعنی اس کی زندگی۔ ایک وقت تھا جب احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں حکومت کا تختہ ہلا دیتے تھے۔ اسی دہلی میں ہی بی جے پی کی تکڑی یعنی مدن لال کھورانہ، وجے کمار ملہوترا اور کیدارناتھ ساہنی اپوزیشن کے وہ چہرہ تھے جو احتجاجی مظاہروں کے لیے مشہور تھے۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا جب انھوں نے ہر پیر کو یا تو دہلی بند کا یا پھر بھارت بند کا اعلان کیا۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب بایاں محاذ ملک بھر سے مزدوروں کو جمع کرتے اور حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے اور اس وقت کی مرکزی حکومتیں بھی نہ صرف ان احتجاجی مظاہروں کو سنجیدگی سے لیتی تھیں بلکہ اٹھائے گئے ایشوز کو حل کرنے کی بھی کوشش کرتی تھیں۔

ہاں، یہ بات بھی درست ہے کہ مظاہرہ کا کلچر یعنی مخالفت کی روایت دھیرے دھیرے دم توڑنے لگی تھی۔ لیکن 2013 میں انّا ہزارے، کیجریوال اور رام دیو نے ایک ساتھ مل کر’ انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کے بینر تلے اسی دہلی میں حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس وقت کی حکومت نے جمہوری روایت پر عمل کرتے ہوئے مظاہرین سے بات بھی کی اور ان کے ایشوز غور سے سنے بھی۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی حکومت کے سب سے سینئر وزیر پرنب مکھرجی کو مظاہرین سے بات کرنے کے لیے بھیجا۔

پھر 2014 آ گیا، اور سب کچھ بدل گیا۔ نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے نے مرکز میں واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنا لی۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب لوک سبھا میں کانگریس کی نمائندگی 50 اراکین سے بھی کم رہی۔ نمبر وں کے کھیل نے حکومت اور سیاست کا پورا توازن ہی بدل کر رکھ دیا۔ مودی نے پہلے دن سے ہی خود کو ’سپریم لیڈر‘ کے طور پر سامنے رکھنا شروع کر دیا۔ اندرونی اور باہری مخالفت کے باوجود مودی حکومت نیشنلزم یعنی قوم پرستی کے نام پراپنی منمانی پر اتر آئی۔

مودی حکومت نے کچھ ایسے فیصلے لیے جن کا خمیازہ کئی دہائیوں تک ملک کو بھگتنا پڑے گا۔ ایسا ہی ایک فیصلہ تھا 16 نومبر 2016 کو ہوئی نوٹ بندی سے متعلق۔ نیشنلزم کے نام پر ملک کا عام آدمی بینکوں کی قطاروں میں لگ گیا، کیونکہ مودی نے نیشنلزم کی گھٹّی ملا کر اعلان کیا تھاکہ نوٹ بندی دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کی دوا ہے۔ لوگوں کو سمجھا دیا گیا کہ یہ قربانی ملک کے نام ہے، کیش لیس معیشت سے دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

لیکن دہشت گردی ختم ہونا تو دور، اس نے پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے اپنا پھن اٹھایا اور پلوامہ میں ہمارے تقریباً 50 فوجیوں کو شہید کر دیا۔ وقت 2019 کے عین لوک سبھا الیکشن سے پہلے کا تھا اور نریندر مودی نے نیشنلزم کی گھٹّی ایک بار پھر ملک کو پلائی اور پاکستان کومنہ توڑ جواب دیتے ہوئے بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک کیں اور 2014 سے بھی زیادہ سیٹیں حاصل کر پھر سے اقتدار حاصل کر لیا۔

جہاں پہلے پانچ سال کے دوران نیشنلزم کو ذہنوں میں پیوست کرنے کا کام کیا گیا، تو 2019 میں گدّی پر بیٹھتے ہی اس کی فصل کاٹنے کی منمانی شروع کر دی گئی۔ اس بار ایک بات اور ہوئی کہ 2014 میں مودی کی جیت میں چانکیہ کا کردار نبھانے والے امت شاہ کے ہاتھوں میں ملک کی داخلی سیکورٹی دے دی گئی، انھیں وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔ پیغام صاف تھا، امت شاہ کے کندھے پر بندوق رکھ کر مودی اپنا ایجنڈا ملک پر تھوپیں گے۔ اور ہوا بھی یہی۔ امت شاہ نے بغیر وقت ضائع کیے طلاق ثلاثہ بل پاس کرایا، جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کی اور ملک کی سانس حلق میں اٹکانے والا شہریت ترمیمی قانون پاس کرا دیا۔ اور یہ سب کچھ نیشنلزم اور ’بھارت ماتا‘ کے نام پر کیا گیا۔

اس دوران نیشنلزم کے ایجنڈے پر غرور میں چور بی جے پی حکومت چلانے کے بنیادی اصولوں کو روندتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ مخالفت کی آوازوں کو خاموش کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ نوٹ بندی کے زہر سے بیہوش ہوئی معیشت اوندھے منھ پڑی تھی، بے روزگاری اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ ایسے میں جب شہریت ترمیمی قانون اور اس کی کرونولوجی میں این آر سی کی تجویز سامنے آئی تو پہلے سے آہ و بقا کرتے شہریوں کا صبر جواب دے گیا۔ لوگوں نے حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا اور سڑک پر اتر آئے۔ حکومت کی منمانی کی سطحیں کھولنے کا کام کیا نوجوانوں، طلبا اور خواتین نے۔ لیکن فاشسٹ ذہنیت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو نشانہ بنا لیا۔ طلبا کو بے رحمی سے پیٹا گیا، جس کے رد عمل میں ’شاہین باغ‘ کا جنم ہوا۔

دیکھتے دیکھتے شاہین باغ احتجاجی مظاہرہ مخالفت کی آوازوں کی علامت بن گیا۔ ملک کی کئی ریاستوں اور شہروں کے ساتھ ہی بیرون ممالک میں بھی شاہین باغ کی طرز پر مودی حکومت کے شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت شروع ہو گئی۔ عالمی برادری نے بھی اسے نوٹس کیا۔ کئی ممالک نے اس قانون کی تنقید کی۔ بین الاقوامی میڈیا نے اسے فاشسٹ قانون قرار دیا۔

بہر حال، شاہین باغ میں خواتین تھیں، حب الوطنی پر مبنی نغمے تھے، بھارت ماتا کی جے کے نعرے تھے، آئین کی باتیں تھیں اور لہراتے ترنگے کی چھاؤں میں مضبوط ارادے تھے کہ حکومت ہلے گی، ہلے گی نہیں تو کم از کم سنے گی تو ضرور۔ لیکن غرور میں مدہوش اور نیشنلزم کا جھنڈا لہراتی حکومت کو نہ تو مخالفت کی آواز سنائی دی اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر ملک کی ہوتی بدنامی نظر آئی۔

شاہین باغ نے ختم ہوتے مظاہرہ کے کلچر کو زندہ کرنے کا کام کیا۔ شاہین باغ نے امید پیدا کی کہ جمہوریت اب بھی مضبوط ہے لیکن ہندوتوا طاقتوں کی تو منشا ہی کچھ اور تھی۔ انھوں نے احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کو اینٹی نیشنل یعنی ملک مخالف ٹھہرانا شروع کر دیا۔ ان کی منشا صاف تھی کہ مظاہرہ کرنے والوں کو تھکا دیا جائے، ڈرا دیا جائے۔ انھوں نے ہر ہتھکنڈا اپنایا، اور جب ہر ہتھکنڈا مظاہرین کے حوصلے پست کرنے کی کوشش میں خود ہی پست ہو گیا تو پھر ان طاقتوں نے اپنا سب سے خطرناک اور زہریلا اسلحہ استعمال کیا جس کا نام ہے فرقہ واریت اور اس سے پیدا ہوا تشدد و نفرت کا ننگا ناچ۔

احتجاجی مظاہرہ کو فرقہ واریت کا جامہ پہنا نے کی تیاری 22 فروری کی رات راجدھانی کے شمال مشرقی علاقے سے شروع ہوئی اور پھر دیکھتے دیکھتے نفرت کی اس آگ نے پورے شمال مشرق کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دہلی جلنے لگی، لوگ مارے جانے لگےک مکانوں کو اور دکانوں کو نذرِ آتش کیا جانے لگا۔ اور مرکز کی مودی حکومت اور تحریک سے جنمی دہلی کی کیجریوال حکومت خاموش تماشائی بنی دہلی کے سماجی تانے بانے کو تباہ ہوتے دیکھتی رہی۔

اپنے محبین کو آخری وداعی دے کر اب شمال مشرقی دہلی کے لوگ فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں بچی کھوچی زندگی اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔ سول سوسائٹی اور سماجی ادارے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ زندگی کے پٹری پر لوٹنے میں وقت لگے گا، لیکن جو زخم مغرور حکومت نے عدم مذاکرہ سے پیدا کیا ہے، وہ بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ یہ جمہوریت کی دھیمی لیکن لازمی موت ہے۔

شاہین باغ نے جو امید پیدا کی ہے، اسے نیشنلزم کی چاشنی میں ڈوبی فرقہ واریت نے نگلنے کی کوشش کی ہے، لیکن امید تو باقی ہے۔