شاہین باغ کی تحریک اور بی جے پی کے ناکام ہتھکنڈے... اعظم شہاب

یکے بعد دیگرے ہتھکنڈوں کو ناکام ہوتا دیکھ بی جے پی نے اپنے متنازع ترجمان سمبت پاترا کو میدان میں اتارا۔ انہوں نے سرخیاں بٹورنے کے لیے سی اے اے مخالف احتجاج کو ’دشاہین باغ اور توہین باغ‘ قرار دے دیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

بی جے پی کے ذریعہ شرجیل امام کے ویڈیو کی تشہیر نے سلمان نظامی کی یاد تازہ کردی۔ گجرات کے صوبائی انتخاب میں جب بی جے پی کی حالت پتلی ہوگئی تو اس کے ہاتھ کانگریس کے ایک نامعلوم رہنما سلمان نظامی کا بیان آگیا۔ اس بیان میں سلمان نظامی نے پوچھا تھا کہ راہل کے والد اور دادی نے ملک کے لیے جان قربان کردی اور نانا نے ملک کو آزادی دلائی لیکن مودی کے والد ؟ اور نانا؟؟اس کا مطلب تو یہ ہے وہ مودی کے باپ دادا کی ملک کے خاطر کیے جانے والی خدمات کے بارے میں پوچھ رہے ہیں لیکن اس کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک نیا موڑ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا 'صوفیانہ' باتیں کرنے والی کانگریس کی قیادت ان کے 'باپ' کے بارے میں پوچھنے والے اس رہنما کے خلاف بھی کارروائی کی ہمت کرے گی۔ اسی کے ساتھ راہل کا یار غدار کے نام سے ٹوئٹر پر کانگریس کے خلاف مہم چھیڑ دی گئی جبکہ کانگریس سلمان نظامی سے تعلق کا انکار کرتی رہی۔ اسی طرح شرجیل امام کو شاہین باغ کا منتظم بتایا جارہا ہے جبکہ وہاں کے مزاحمت کار اس کا انکار کر رہے ہیں۔

بی جے پی ہر انتخاب میں اپنے پرانے گھسے پٹے حربے استعمال کرتی ہے۔ سابق وزیر اعظم رجیو گاندھی کو بدعنوان کہنے والے مودی نے اپنے بارے میں کہا کہ ایسی زبان کا استعمال تو ہم اپنے دشمن کے لئے بھی نہیں کرتے۔ ایسا کہنے والا سلمان راہل کے لئے ووٹ مانگتا ہے، کیا انہیں معاف کیا جا سکتا ہے؟ کیا ملک کی فوج زانی ہے۔ یہ اس ملک کے فوج کی توہین ہے یا نہیں۔ کیا گجرات میں بھی گھر گھر سے افضلوں کو پیدا کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کو سزا ملنی چاہیے اور ان کی پارٹی کو گجرات سے صاف کیا جانا چاہیے۔ مودی کی ساری اٹھا پٹخ کے باوجود گجرات کے ریاستی انتخاب میں کانگریس پہلے سے مضبوط بن کر ابھری اور بی جے پی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ گوکہ وہ کسی طرح اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہوگئی لیکن دہلی میں تو ایسا لگتا ہے کہ اس کا سپڑا صاف ہوجائے گا۔

شاہین باغ بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ پہلے تو ڈرا دھمکا کر اسے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد ایک جعلی ویڈیو بناکر اسے روپیوں کے بل پر چلنے والی تحریک کہہ کر بدنام کرنے کی مذموم سعی کی گئی۔ اس سے شاہین باغ تو بدنام نہیں ہوا ، الٹا بی جے پی آئی ٹی سیل کے امت مالویہ کے اوپر ہتک عزت کا ایک کروڑ کا مقدمہ جڑ گیا۔ یہ معاملہ انتخاب کے قریب آتے ہی اور بھی سنگین ہوگیا۔ ایسے میں دہلی کے بی جے پی رہنما کپل مشرا نے اسے چھوٹا پاکستان قرار دے دیا۔ یہ چال بھی الٹی پڑی کیونکہ الیکشن کمیشن نے اس پر پھٹکار سناتے ہوئے ان پر 18 گھنٹے کی پابندی لگاکر دہلی میں بی جے پی کے چہرے پرکالک پوت دی۔ اس کے بعد رام دیو بابا نے شاہین باغ جانے کا ارادہ کیا تو وہاں کے لوگوں کی طرف سے اسے دھتکار دیا۔ یکے بعد دیگرے اپنے ہتھکنڈوں کو ناکام ہوتا ہوا دیکھ کر بی جے پی نے اپنے متنازع ترجمان سمبت پاترا کو میدان میں اتارا۔ انہوں نے سرخیاں بٹورنے کے لیے سی اے اے مخالف احتجاج کو دشاہین (بے سمت) باغ اور توہین باغ قرار دے دیا۔ سمبت پاترا کو پتہ ہونا چاہیے کہ دنیا ردیف قافیہ سے نہیں چلتی۔ اب لوگ اس طرح کی جملہ بازی میں نہیں آتے۔

سمبت پاترا نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو نے والے ویڈیو کے مطابق ہندوستان کی آزادی کو ختم کرنے کے لئے شاہین باغ میں سازش رچی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں ایک مقرر لوگوں سے آسام کا ملک کے باقی حصوں سے رابطہ توڑنے کی اپیل کر رہا ہے۔ دراصل شرجیل امام نامی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالب علم کا یہ ویڈیو شاہین باغ کا نہیں بلکہ علی گڑھ کا ہے اور اس تقریر یا شرجیل کا شاہین باغ سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ آسام کے وزیر ہیمنت بسو شرما کے خلاف جنہوں نے اپنے صوبے میں سی اے اے کے خلاف بی جے پی کے لوگوں کو گھر میں گھس کر مارنے کی بات کہی، اس کے خلاف ان مہاشے جی کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا۔ جو آر ایس ایس کے دفتر کو جلنے سے نہیں بچا سکے، اب شرجیل کے خلاف میدان میں آگئے اور مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دی ہے۔ بسوا کو پتہ ہونا چاہیے کہ آسام میں الفا نامی ایک علیحدگی پسند پرتشدد تحریک 1979ء سے چل رہی ہے اور اس نے اب تک 20 ہزار سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔ ان میں اگر ہمت ہے تو الفا کے خلاف مقدمہ درج کرائیں، دال آٹے کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔ ویسے جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔ یوگی جی تو آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو بھی غداری کے مقدمہ کی دھمکی دیتے ہیں، اس لیے اب تو اس طرح کے مقدمات کا ڈر بھی عوام کے دل سے نکل چکا ہے۔

شاہین باغ کا ڈنکا فی الحال ساری دنیا میں بج چکا ہے اور اس کو بدنام کرنے کی کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مودی سرکار کی تعریف کرنے والی معروف صحافیہ نے یوم جمہوریہ کے دن نہ صرف مرکزی حکومت کی ناکامیوں کو گنوایا بلکہ شاہین باغ کی خواتین کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے اندر ایمنسٹی انٹر نیشنل کے سربراہ آکار پٹیل نے بھی ایک طویل مضمون لکھ کر نہ صرف شاہین باغ کے احتجاج کو بلکہ اس کے طریقہ کار کو بھی حق بہ جانب ٹھہرایا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے اچھے مقاصد کی خاطر چلائی جانے والی تحریکیں راہ بھٹک کر غلط ذرائع اختیار کرلیتی ہیں اور یہ بھی ہوتا ہے کہ نہایت مہذب انداز میں چلنے والی تحریکات کے پیچھے گھناؤنے مقاصد کارفرما ہوتے ہیں، لیکن آکار پٹیل گواہی دے رہے ہیں شاہین باغ ان دونوں عیوب سے پاک ہے۔ اب ہندوستانی عوام کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ تولین سنگھ اور آکار پٹیل جیسے لوگوں کی مانیں یا سمبت پاترا جیسے جھوٹوں کی کذب گوئی پر یقین کریں۔

پسندیدہ ترین
next