سیلفی فرسٹ، باقی سب لاسٹ... سہیل انجم

اڈوانی کا یہ جملہ مودی پر فٹ بیٹھتا ہے، لیکن اب ان کے بولنے سے کیا ہوتا ہے، پہلے بولتے تو شاید کوئی اثر پڑتا۔ لیکن پہلے بولنے کی ہمت وہ کر نہیں پائے کہ کہیں مودی ان سےپارلیمنٹ کی سیٹ بھی چھین نہ لیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

سہیل انجم

چلیے خدا خدا کرکے ایل کے اڈوانی کے ہونٹوں پر لگا خاموشی کا قفل کھل گیا۔ انھوں نے ایک بلاگ لکھ ڈالا۔ ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے پہلی بار بلاگ لکھا ہے۔ وہ پرانے بلاگر ہیں۔ لیکن نریندر مودی کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد انھوں نے بلاگ لکھنا بند کر دیا تھا۔ لیکن اب جبکہ ان سے گاندھی نگر کی سیٹ چھین کر کنگال کر دیا گیا تو انھوں نے قلم اٹھا لیا۔

انھوں نے اس پورے پانچ سال کے دوران اک بھی بلاگ نہیں لکھا۔ کوئی بیان بھی نہیں دیا۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ پتہ نہیں لکھتے لکھتے یا بولتے بولتے کون سے زخم کا منہ کھل جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اپنی ٹیس کسے بتائیں گے۔ کیونکہ اب تو عالم یہ ہے کہ کوئی ہمدم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا۔ ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا۔ چلیے بلاگ نہیں لکھا تو کوئی بات نہیں کم از کم پارلیمنٹ میں تو لب کشائی کرتے۔ لیکن ان سے یہ بھی نہیں ہو سکا۔

قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ گزشتہ پانچ برسوں میں اڈوانی بالکل چپ رہے۔ پارلیمنٹ میں ان کے گفتار میں 99 فیصد کی گراوٹ آئی۔ یہاں تک کہ پانچ برسوں کے دوران پارلیمنٹ میں وہ جو کچھ بولے وہ صرف 365 الفاظ تھے۔ جبکہ ان کی حاضری 92 فیصد رہی۔ یہ تو ویسا ہی ہوا کہ کوئی طالب علم پورے سال کلاس میں حاضر رہے اور جب امتحان کا نتیجہ آئے تو صفر بٹا صفر نکلے۔

حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ اڈوانی بولنا نہیں جانتے۔ خوب بولنا جانتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ جب بولنے پر آتے تھے تو ان کو چپ کرانا مشکل ہو جاتا تھا۔ لیکن واہ رے حالات۔ ہونٹوں پر کیسا قفل لگ گیا۔ کیسی چپی لگ گئی۔ بس ہمیشہ صرف ہاتھ ملتے رہتے ہیں۔ جب وہ نریند رمودی کے سامنے ہوتے ہیں تو کف افسوس ملنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ کیوں نہ ہو کہ ان کو یاد آجاتا ہوگا کہ اگر انھوں نے اس شخص کی پشت پناہی نہ کی ہوتی تو آج ہاتھ نہیں ملنے پڑتے۔

خیر جو ہو گیا سو ہو گیا۔ انھیں گاندھی نگر سے ون واس پر بھیج دیا گیا۔ حالانکہ 1991 سے لے کر اب تک وہ اس سیٹ سے چھ مرتبہ کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن اب وہ سیٹ ان کے شاگرد کے دائیں بازو امت شاہ کو دے دی گئی۔ گویا انھیں ایک اور زخم لگا دیا گیا۔ لہٰذا اب چپ رہنے سے کوئی فائدہ نہیں اور بولنے سے کوئی نقصان نہیں۔ اب اور کیا نقصان ہوگا۔ پہلے ہی مارگ درشک منڈل میں ڈال دیئے گئے تھے۔ لے دے کے پارلیمنٹ کی ایک نشست تھی سو وہ بھی چھن لی گئی۔

لہٰذا انھوں نے بی جے پی کے یوم تاسیس (6 اپریل) سے دو روز قبل ہمت کرکے بلاگ لکھ ڈالا۔ اس میں انھوں نے کئی باتیں کہی ہیں۔ جن میں دو باتیں بہت اہم ہیں۔ ایک یہ کہ سیاست میں نظریاتی اختلاف رکھنے والا ملک دشمن اور غدار نہیں ہوتا اور دوسرے یہ کہ نیشن فرسٹ، پارٹی نیکسٹ اور سیلف لاسٹ۔ یعنی پہلے ملک پھر پارٹی اور پھر خود اپنا آپ۔

اگر ہم تجزیہ کریں تو پائیں گے کہ یہ دونوں باتیں در اصل نریندر مودی پر چسپاں ہوتی ہیں۔ مودی اینڈ کمپنی نے اپنے نظریاتی مخالفین کو دیش دروہی قرار دینے کی ایک روایت ڈال دی ہے۔ جس نے بھی حکومت اور بی جے پی کے نظریے سے اختلاف کیا اسے غدار قرار دے دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکومت اور بی جے پی نے غدار ہونے کا سرٹیفکٹ بانٹنے کی ایک فیکٹری کھول لی ہے۔

پلوامہ حملہ اور آپریشن بالاکوٹ کے بعد تو ایسا سرٹیفکٹ بانٹنے کی رفتار انتہائی تیز ہو گئی۔ مودی، امت شاہ اور حکومت کے وزرا ہر اس شخص کو غدار قرار دینے لگے جس نے پوچھ لیا ہاں بھائی بالاکوٹ میں کتنے مرے۔ کیا کوئی ثبوت بھی ہے یا یوں ہی ہانک رہے ہو۔ بس پھر کیا تھا۔ ہو گئے غدار۔ صاحب ہر بھاجپائی غیر بھاجپائی کو غدار قرار دینے لگا۔ لہٰذا اڈوانی کا یہ کہنا کہ نظریاتی اختلاف رکھنے والا مخالف ہے غدار نہیں، در اصل حکومت پر شدید قسم کا وار ہے جس کی زد مودی اور شاہ پر بھی پڑتی ہے۔

انھوں نے جو دوسری بات کہی کہ ملک پہلے، پارٹی اس کے بعد اور خود اپنا آپ اس کے بھی بعد، تو اس کی زد بھی مودی پر ہی پڑ رہی ہے۔ کیونکہ مودی نے ملک کو سب سے پیچھے ڈال دیا ہے۔ ایک بار تو امت شاہ نے بولتے بولتے یہ بول دیا تھا کہ واجپئی جی پارٹی کو پہلے رکھتے تھے اور دیش کو بعد میں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ مودی خود کو پہلے رکھتے ہیں، پارٹی کو اس کے بعد اور ملک کو اس کے بھی بعد۔

انھوں نے ان پانچ برسوں میں ملک میں جو ماحول بنا دیا ہے اور جس سیاسی کلچر کو جنم دیا ہے اس میں سیلف تو سیلف سیلفی بھی آگے آگے ہے۔ مودی نے 2014 کی انتخابی مہم کے دوران سیلفی کا جو رواج ڈالا تھا وہ اب اپنے شباب پر ہے۔ انھیں جب سیلف سے یعنی خود سے اتنا پیار ہے تو سیلفی سے کیوں نہیں ہوگا۔ اسٹینڈ اپ کامیڈین میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ مودی کو صرف ایک شخص پسند ہے اور وہ خود مودی ہیں۔ باقی انھیں کوئی بھی پسند نہیں۔ لہٰذا انھوں نے پارٹی تو پارٹی ملک کو بھی خود سے پیچھے کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے تو ایک انٹرویو میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس الیکشن میں مقابلہ ملک بنام اپوزیشن ہوگا۔ یعنی انھوں نے خود کو ملک بتایا۔ یہ تو ان کی خاکساری ہے کہ انھوں نے خود کو ملک بتایا ورنہ وہ تو خود کو ملک سے بھی بڑا سمجھتے ہیں۔

لہٰذا اڈوانی کا یہ جملہ مودی پر فٹ بیٹھتا ہے۔ لیکن اب ان کے بولنے سے کیا ہوتا ہے۔ ہاں پہلے بولتے تو شاید کوئی اثر بھی پڑتا۔ لیکن پہلے بولنے کی ہمت وہ اس لیے نہیں کر پائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مودی ان سے پارلیمنٹ کی سیٹ بھی چھین لیں۔ اس لیے اپنی سیٹ کو بچائے رکھنے کے لیے انھوں نے خاموشی کی چادر اوڑھ لی تھی۔ سب کچھ چپ چاپ دیکھتے رہے۔ لیکن اب ان کا کیا بولنا اور کیا نہ بولنا۔

اب بہار آئی تو کیا، ابرِ بہار آیا تو کیا

اب تو زندگی کی ہے شام، آخری آخری۔