بی ایس پی-ایس پی اتحاد سے سیکولر طبقہ خوش

یوپی میں برسوں مذہبی بنیاد ، ذات پات اور برادری کی بنیاد پر حکومتیں گرتی اور بنتی رہی ہیں خود بی جے پی اس وقت مذہب کی بنیا د پر یوپی کے اقتدار پر قابض ہے۔

By ناظمہ فہیم

گورکھپو اور پھول پور کے پارلیمانی حلقوں میں ضمنی انتخابات کا بگُل بج چکا ہے ۔بی جے پی جہاں ان دونوں سیٹوں پراپنا قبضہ جمائے رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دینا چاہتی ہے کہ آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی عام انتخابات میں بھی یوپی پر انھیں کا راج رہے گا وہیں بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کو اپنی سیاسی زمین بچانے کی فکر ہے ۔ کانگریس جو کہ کئی دہائیوں سے یوپی میں اپنا وجود بنانے کی کوشش میں ہے وہ بھی ہر ممکن ان دونوں سیٹوں پر کچھ اچھا کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برسوں سے ایک دوسرے کے خلاف یوپی کی زمین پر سیاست کرنے والی بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی میں ان دونوں سیٹوں کو لے کر اتحاد قائم ہوا ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کی اس سیاسی مفاہمت سے اس طبقہ میں زبردست خوشی ہے جو بی جے پی کی سیاست کو ہمیشہ سے نکارتا رہا ہے اور اس کی کوشش یہی رہی ہے کہ کسی نہ کسی سیکولر جماعت کو ہی یوپی یا مرکز میں اقتدار کی باگ ڈور ملنی چاہئے ۔

بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کے بیچ ہوئے اس اتحاد کو لے کر بی جے پی لیڈران کے سخت بیان آرہے ہیں اور وہ یہ دکھانے کی کوشش میں ہیں کہ اس اتحاد سے وہ بالکل فکر مند نہیں ۔ حالانکہ جس طرح سے بیان بازی ہورہی ہے اس سے یہ صاف کہا جاسکتا ہے کہ یوپی میں ممکنہ عظیم اتحاد سے بی جے پی خوفزہ ہونے کے ساتھ ساتھ فکر مند بھی ہے کیونکہ یوپی میں ذات پات ، مذہب اور برادری کی سیاست ہوتی ہے جس کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یوپی میں برسوں مذہب کی بنیاد پر اور ذات پات اور برادری کی بنیاد پر حکومتیں گرتی اور بنتی رہی ہیں خود بی جے پی اس وقت مذہب کی بنیا د پر یوپی کے اقتدار پر قابض ہے۔

یوپی میں تقریباً اکیس فی صد مسلم آبادی ہے جبکہ پسماندہ طبقات کی بھی بڑی تعدا د موجود ہے۔ تقریباً انیس فیصد دلت بھی یوپی میں رہتے ہیں ۔ ایسے میں ان کو نذر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ مسلم اور یاد ؤں پر سماجوادی پارٹی کا قبضہ رہا ہے جب کہ بہوجن سماج پارٹی دلتوں کی پارٹی کہلاتی ہے۔ بی ایس پی سربراہ بہن مایا وتی اور سماجوادی پارٹی کے قومی لیڈر اکھلیش یادو کا ایک جٹ ہونا بی جے پی کے لئے فکر کی بات ضرورہے کیونکہ ان دونوں پارٹیوں نے بی جے پی کو ایک لمبے عرصے تک یوپی میں تیسرے اور چوتھے نمبر کی پارٹی بناکر رکھا ہے۔ 1995 کا لکھنؤ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس واقعہ پیش آیا نہیں ہوتا تو شاید بی جے پی ہندوتو ا کے مدے کے باوجود یوپی میں حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوتی کیونکہ اس دور میں بھی بی جے پی پوری طاقت سے رام مندر کے مدے کو اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے تھی۔

ان دونوں پارٹیوں کا اتحاد اگر عام پارلیمانی انتخابات میں بھی ہوتا ہے تو بی جے پی کے لئے مشکل ضرور ہوگی۔ کانگریس جو کہ کئی دہائیوں سے یوپی میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے اسے بھی گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں جس طرح سے عام ووٹر وں اور خاص طور سے مسلم ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے اس سے ایک بات تو صاف ہے کہ آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کا وجود یوپی میں بنے گا۔ جس کو لے کر بی جے پی سے زیادہ سماجوادی پارٹی فکر مند ہے کیونکہ مسلم ووٹر جو سماجوادی پارٹی سے جڑا ہے اس میں کہیں نہ کہیں سیندھ لگے گی۔ عام ووٹر پارلیمانی انتخابات کو لے کر یہ رائے بنائے ہوئے ہے کہ مرکزمیں اقتدار کے لئے کانگریس ہی بی جے پی کا متبادل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جس عظیم اتحاد کی بات یوپی کے سیاسی گلیاروں میں چل رہی ہے اس میں کانگریس ، بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی ایک جٹ ہوتے ہیں یا نہیں کیونکہ یوپی کی سیاسی بساط کچھ ایسی ہے کہ بی جے پی کو زیر کرنے کے لئے ان سب کو متحد ہونا پڑے گا۔