طنز و مزاح: ہمارے بھروسے مت رہنا... تقدیس نقوی

ہمارے پڑوسی میر صاحب حکمراں جماعت کی عنایت سے حکومت کی معاشی امور سے متعلق مشاورتی کونسل کے فاضل ممبر بنائے گئے ہیں ان کی شخصیت کے بہت سے ان دیکھے پہلو اجاگر ہوگئے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تقدیس نقوی

جب سے ہمارے پڑوسی میر صاحب حکمراں جماعت کی عنایت سے حکومت کی معاشی امور سے متعلق مشاورتی کونسل کے فاضل ممبر بنائے گئے ہیں ان کی شخصیت کے بہت سے ان دیکھے پہلو اجاگر ہوگئے ہیں، یہ عظیم ذمہ داری ملتے ہی سب سے پہلےان کے اندرخود اعتمادی اپنے درجہ کمال پر نظر آنے لگی ہے۔

خود اعتمادی اک ایسی صفت ہے جس کے ذریعہ بڑے بڑے معرکہ سر کیے جاسکتے ہیں۔ ہم نے کئی بار کچھ خود اعتماد لوگوں کو شہر کی باراتوں میں بن بلائے باعزت طریقہ سے شریک ہوتے ہوئے دیکھا ہے جہاں انہیں ان کی خود اعتمادی کے سبب وی آئی پی ٹریٹمنٹ ملتا ہے اور لوگ دولہا سے زیادہ ان کی خاطر و مدارات میں لگ جاتے ہیں۔ کیونکہ دولہا والے انہیں دلہن کا اور دلہن والے انہیں دولھا کا قریب ترین عزیز یا دوست تصور کرتے ہیں۔ یہ کنفیوزن خود اعتمادی کے ذریعہ بآسانی پیدا کیا جاسکتا ہے۔ ایک تقریب میں تو ایک بہت بڑے خود اعتماد صاحب کو ان کی خود اعتمادی کے بہترین مظاہرے کے طفیل فیسیلٹی مینجمنٹ والوں نے مہمان خصوصی کی کرسی پرلے جاکر بٹھا دیا تھا۔ وہ تو خیر ہوئی کہ ہار پہنانے والے صاحب نے پہچان لیا۔ میر صاحب کا حال بھی ان سے کچھ مختلف نہیں ہے۔

خود اعتمادی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کو جھوٹ بھی سچ لگنے لگتا ہے۔ یہ اک ایسا برش ہے جس سے سیاہ کو بآسانی سفید پینٹ کیا جاسکتا ہے اور سامنے والے کو خبر بھی نہیں ہوتی۔

میر صاحب سے جب ہم نے ملک کی روز بروز ابتر ہوتی ہوئی معیشیت کے بارے میں سوال کیا کہ آپ معاشی امور کے مشاورتی کونسل کے فاضل ممبر ہونے کی حیثیت سے ملک کی اس وقت گزشتہ برسوں میں سب سے کم ترGDP کی ترقی کی در کے بارے میں کیا فرمائیں گے تو وہ کہنے لگے:

" ملک کی معیشیت کے بارے میں انٹرنیشنل ایجنسییز جب یہ سرٹیفکیٹ پہلے ہی دے چکی ہیں کہ ہماری معیشیت دنیا میں سب سے زیادہ تیز ترقی کرنے والی معیشیت ہے تو اب اس کے بعد بھلا GDP کی در گرنے کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے۔"

یہ خود اعتمادی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب آپ کے اردگرد تین سو چار سو لوگ آپ کی کسی بے بنیاد بات کی تائید میں تالیاں بجاکر آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ خود اعتمادی کی اس سے بڑی روشن مثال اور کیا ہوگی جب ایک قابل ممبر پارلیامنٹ انتہائی خود اعتمادی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ ہمارے ملک میںGDP کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی رامائن یا مہابھارت نہیں ہے۔ یہاں ان کی خود اعتمادی نے ملک کے کسی بڑے سے بڑے ماہر اقتصادیات کو بھی ان کی جانب انگلی اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ان کے بیان پر پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھتا ہے۔ اتنا پرزور بیان سن کر ہارورڈ یونیورسٹی میں اکنامکس کا کوئی بھی پروفیسر اپنے علم اور تحقیق کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر حق بجانب ہوگا اور فاضل ممبر پارلیامنٹ کی قسمت پر رشک کر رہا ہوگا کہ وہ ایک ایسے ملک میں اکنامکس کی تعلیم حاصل کرچکے ہیں جہاں GDP جیسی فضول اصطلاحات استعمال کرکے غریب عوام کو اب تک دھوکا دیا جاتا رہا ہے۔

میر صاحب کی شخصیت کی دوسری عظیم خصوصیت یہ دیکھی جارہی ہے کہ وہ پیچیدہ سے پیچیدہ معاملہ میں بھی بہت زیادہ مثبت نقطہ نگاہ رکھنے لگے ہیں اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ان ہی کی طرح ہرمسئلہ میں مثبت رویہ اختیارکریں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہماری جنگ مسائل کے ساتھ نہیں ہے بلکہ قنوطیت(Pessimism)کے خلاف ہے۔ اگرہمارے ملک کا ہر باشندہ اپنی سوچ میں قنوطیت کی جگہہ positive رویہ اپنائے تو سارے مسائل چشم زدن میں حل ہوسکتے ہیں۔ خصوصا" معاشی مسائل جن کا سیدھا تعلق پیٹ کے بجائے انسان کی سوچ سے ہوتا ہے۔ جس کو مثبت بنانے کے لئے یوگا سب سے بہتر اور مفید طریقہ ہے۔ اسی لئے ہماری حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے یوگا سنٹرس کھولنے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہی ہے۔

ملک میں روز بروز بڑھتی لاقانونیت کے سبب تیزی سے بڑھتے ریپ کے واقعات پراپنی مثبت سوچ کے مطابق میرصاحب کا کہنا تھا: "آپ لوگ ملک میں ہر روز ہو رہے ریپ کے واقعات کے اعداد بتاتے ہوئے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ کتنی خواتین ہر منٹ ریپ سے محفوظ رہتی ہیں۔ ملک میں ریپ کی تیزی سے پھیلتی وبا کی نندا ہماری حکومت ہمیشہ کرتی رہے گی مگر ہمیں یہ بھی بہت اطمینان ہے کہ ہمارے ملک میں ریپ سے بچنے والی خواتین کی تعداد ریپ سے متاثرہ خواتین کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔"

ہمیں میر صاحب کی یہ صحت مندفکر اور مثبت رویہ دیکھ کر ان پر رشک آنے لگا اور ہم دعا کرنے لگے کاش ملک کا ہر باشندہ اسی مثبت طریقہ سے سوچنے لگے۔ تاکہ کوئی بھوکا روٹی نہ ملنے کی صورت میں اپنے حکمرانوں کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لئے کسی آشرم کا رخ کرے۔

مثبت سوچ کی اعلی صلاحیتوں کو حاصل کرنے کے بعد کوئی بے روزگار نوجوان سڑکوں پر مارا مارا نہیں پھرے گا۔ کیونکہ جب وہ اخبار میں یہ خوش خبری پڑھے گا کہ ہمارے پڑوسی ممالک میں بے روزگاری کی شرح ہمارے ملک سے کہیں زیادہ ہے تو وہ اپنی بے روزگاری پرخود بخود مطمئن ہو جائے گا۔

آج کل پیاز کی قلت اور اس کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے میر صاحب فرمانے لگے: "پیاز کی اوپر نیچے ہوتی ہوئی قیمتوں کی بنیاد پر پوری معیشیت کا اندازہ لگانا کہاں کی عقلمندی ہے۔ بھئی اگر پیاز اونچی قیمتوں پر بک رہی ہے تو اس میں تو کا شتکار ہی فائدہ ہے۔ پیاز کے بڑھتے دام کو کنٹرول کرکے ہم اپنے کسان بھائیوں کے پیٹ پر لات نہیں مارنا چاہتے۔ یہ ہماری کسان دوست پالیسیوں کی بہترین مثال ہے۔"

ہم نے ان سے دست بستہ عرض کیا "مگرجناب آپ عام غریب جنتا کا کچھ نہیں سوچ رہے ہیں، پیاز جس کی بنیادی غذا کا حصہ ہے"

میر صاحب اپنی خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمانے لگے: "جناب پیاز کو بنیادی غذا کا حصہ بنانے والے ہی دراصل پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمت کے ذمہ دار ہیں۔ اگر پیاز زندگی کے لئے اتنی ضروری ہوتی تو ہمارے سب جین بھائی پیاز کھائے بغیر کس طرح زندہ رہ پاتے۔ ان سے سبق لیجئے۔ دیکھیے پیاز کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود بھی وہ کتنے چین اور سکھ سے ہیں۔" شاید یہ محاورہ ایسے ہی مواقع کے لئے بنایا گیا ہوگا "چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی"

میر صاحب کیونکہ آج بہت زیادہ ہی پر اعتماد نظر آرہے تھے اس لئے ہم نے بھی یہ ذاتی سوال کر ہی ڈالا: " میر صاحب یہ جانتے ہوئے کہ آپ کے پاس نہ کوئی اکونومکس کی ڈگری ہے اور نہ تجربہ آپ کو تو اکنامک کونسل میں پہنچنے پر بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ وہاں تو بڑے بڑے ماہر اکنامکس موجود ہوتے ہیں"

میر صاحب اک خفیف تبسم کرتے ہوئے فرمانے لگے: "ہاں بھئی مشکل تو ہوئی مگر ہم ٹہرے سیاستداں۔ ہم نے صاف صاف کہہ دیا کہ ہم سے اکونومکس کے معاملات کےعلاوہ وہ جو چاہیں مدد لے سکتے ہیں۔ اکنامک پالیسی بنانے کے لئے وہ ہمارے بھروسے نہ رہیں۔ ہمیں تو بس یہ بتائیں کہ کون سی پالیسی پاس کرانی ہے۔ بھئی ہم لیڈر ہیں کوئی نوکر تھوڑی ہیں کہ وہاں پڑھنے پڑھانے بیٹھ جائیں۔ جن کا یہ کام ہے ہم ان کو اس کی تنخواہ دیتے ہیں۔"

ہم نے کہا میر صاحب آپ کا احوال سن کر تو ہمیں گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ہوا اک واقعہ یاد آگیا۔ ڈیپارٹمنٹ میں اک سینئر انجینئر کی پوسٹ کے لئے انٹرویو چل رہا تھا۔ بڑے بڑے قابل اور تجربہ کار لوگ انٹرویو دینے کے لئے آرہے تھے۔ اس وقت انٹرویو روم میں ایک سوٹڈ بوٹڈ کنڈی ڈیٹ داخل ہوا۔ اس کےاچھے لباس' ظاہری رکھ رکھاؤ اور ہاتھ میں اٹھائے اک پورٹ فولیو سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ بہت تیاری کے ساتھ آیا ہے۔ ممبران نے اس سے پہلا سوال کیا:

"آپ نے انجینرنگ کی ڈگری کس یونیورسٹی یا انسٹی ٹیوٹ سے حاصل کی ہے؟"

"نہیں جناب میرے پاس کوئی انجینرنگ کی ڈگری نہیں ہے" اس نے پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا۔

"تو کیا کوئی ڈپلوما کرکے انجینرنگ فیلڈ میں طویل تجربہ حاصل کیا ہے؟ " اک ممبر نے سوال کیا۔

"نہیں جناب میرے پاس کوئی تجربہ بھی نہیں ہے" اس نے بڑے ٹہراؤ کے ساتھ جواب دیا۔

"تو یقیناً ”آپ کسی منسٹر یا لیبر یونین کے صدر کے رشتہ دار ہون گے جو یہاں آنے کی زحمت فرمائی"چیرمین نے جھنجھلاکر کنڈیڈیٹ سے پوچھا۔

"نہیں جناب ایسا کچھ نہیں ہے" اس نے بڑی متانت سے جواب دیا۔

"تو پھر آپ اس پوسٹ کے لئے انٹرویو دینے کی لئے یہاں کیوں آئے ہیں" دوسرے ممبر نے بھی اپنے غصہ پر قابو رکھتے ہوئے پوچھا۔

"بس جناب آپ کو یہ اطلاع دینے آیا تھا کہ اس پوسٹ کے لئے میرے بھروسے مت رہنا" اس نے اپنی بے مثال خود اعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔

میر صاحب ہمارے مزاح کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہم سے پوچھنے لگے: "تو کیا یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب رام بھروسے ہو رہا ہے؟"