’خوف و دہشت سے کہاں رکتی ہے فریاد کی آگ‘

جن یونیورسٹی طلبہ کا اخراج ہوا، انہیں مودی کو خط لکھنے کی پاداش میں سزا ملی ہے، مودی حکومت اور مودی بھکتوں کا آزمودہ حربہ ہے کہ عوام کو اس قدر خوفزدہ کردو کہ وہ حکومت کے خلاف بولنے کی ہمت نہ کرسکیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

مہاراشٹر کے شہر وردھا کی شناخت مہاتماگاندھی سے ہے۔ یہیں پر مہاتماگاندھی ہندی یونیورسٹی بھی ہے جس کی شناخت باپو کی تعلیم و ان کے نظریات سے ہے۔ اہنسا، انصاف اور رواداری باپو کے نظریات کی بنیادیں ہیں لیکن بدقسمتی سے مہاتماگاندھی کے نام سے منسوب اس یونیورسٹی میں یہ عنقا نظر آتی ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پردھان سیوک کو اجتماعی خط لکھنے کی پاداش میں دلت طبقے کے 6 طلبہ کا اخراج نہیں کردیا گیا ہوتا۔ ان طلبہ کا ’جرم‘ یہ تھا کہ انہوں نے موب لنچنگ، عصمت دری، قومی اداروں کے پرائیویٹائزیشن اور عوامی بنیادی سہولیات سے چشم پوشی وغیرہ جیسے معاملات پر خود کو پردھان سیوک کہلانے والے مودی کو خط لکھ کر ان کی توجہ مبذول کرانے کی جرأت کی تھی۔ معلوم نہیں موصوف تک ان طلبہ کا خط پہنچا یا نہیں، لیکن یونیورسٹی کے انتظامیہ تک ضرور پہنچ گیا جس نے ریاست میں نافذ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا یونیورسٹی سے اخراج کردیا۔

یونیورسٹی سے خارج کئے گئے یہ تمام طلبہ دلت طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے7 اکتوبر کو مودی کو اجتماعی طور پر خط لکھ کر ان کی توجہ ملک میں وقوع پذیر ہو رہے منفی واقعات کی جانب مبذول کرانے کی کوشش تھی۔ لیکن 9؍اکتوبر کو معلوم یہ ہوا کہ مودی کی توجہ ان امور کی جانب تو مبذول نہیں ہوئی (اور ہوگی بھی نہیں) لیکن یونیورسٹی کی انتظامیہ کی توجہ ان کی جانب دو دن بعد ہی مبذول ہوگئی اور ان کا اخراج عمل میں آگیا۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مودی کوصرف انہیں 6؍ طلبہ نے خط نہیں لکھا تھا، بلکہ یونیورسٹی کے بیشتر حساس طلبہ نے لکھا تھا، جن میں تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ شامل تھے، لیکن چونکہ یہ خط دلت لیڈر کانشی رام کی یومِ پیدائش کے موقع پر یونیورسٹی میں ہی منعقدہ ایک تقریب کے دوران لکھا گیا تھا، اس لئے انتظامیہ کا نزلہ ان 6 دلت طلبہ پر گرا۔ اب ظاہر ہے کہ طلبہ کا یہ اخراج ایک غیر قانونی وغیراخلاقی عمل تھا، اس لئے اس پر احتجاج کی آواز بلند ہونی شروع ہوگئی۔ چونکہ طلبہ کے اس اخراج کو انتخابی ضابطہ اخلاقی کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا، اس لئے اس معاملے میں مہاراشٹر کانگریس کے ایک وفد نے مہاراشٹر کے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کر کے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر ڈالا ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ ہفتہ بھر قبل مودی کو خط لکھنے والے 49 دانشوروں، مفکروں اور فلمی دنیا کی کچھ سرکردہ شخصیات کے خلاف بہار کے مظفرپور کی ایک عدالت نے ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرنے اوراس کی تفتیش کرنے کا پولس کو حکم دیا تھا۔ مقدمہ درج بھی ہوا اور پولس نے تفتیش بھی کی۔ لیکن تفتیش کے بعد جو نتیجہ سامنے آیا، اس نے اس پورے غبارے کی ہوا نکال دی، جس کی بنیاد پر یہ پورا بکھیڑا کھڑا کیا گیا تھا۔ مذکورہ 49 دانشوران کے خلاف ملک سے غداری کے مقدمے کی جو تفتیش سامنے آئی وہ یہ تھی عدالت میں اس معاملے کی اپیل دائر کرنے والے ایڈووکیٹ سدھیر کمار اوجھا کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ملک میں وقوع پذیر مشہور معاملات پر پی آئی ایل داخل کرتے رہتے ہیں۔ مظفر پور کے سینئر ایس پی منوج کشواہا کے مطابق اوجھا 745 باراس طرح کی پی آئی ایل داخل کرچکے ہیں۔ مودی کو خط لکھنے والوں کے خلاف اوجھا کی پی آئی ایل کی بنیاد پر جو مقدمہ درج ہوا، اس معاملے میں وہ پولس کو ضروری ثبوت تک نہیں دے سکے۔ جس کی بنیاد پر پولس نے مقدمہ کو خارج کرتے ہوئے اب اوجھا کے ہی خلاف عدالت سے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بالکل ایسا ہی کچھ معاملہ وردھا کی مہاتماگاندھی یونیورسٹی کا بھی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ریاستی ومرکزی حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال تو دیا، لیکن اب ان کے چاپلوسی کا یہ عمل خود ان پر ہی بھاری پڑتا نظر آنے لگا ہے۔ جن طلبہ کا اخراج عمل میں آیا ہے، ظاہر ہے کہ وہ اس معاملے میں قانونی امکانات تلاش کریں گے۔ ایسی صورت میں کیا یہ ممکن ہوسکے گا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت کرسکے؟ ایسی صورت میں جبکہ ان طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو پہلے ہی اس کے متعلق مطلع کردیا تھا؟۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا معاملہ اس صورت میں نافذالعمل ہوتا ہے جب کوئی تقریب یا اجتماع کا انعقاد بلا اجازت ہو۔

اگر کانشی رام کی یومِ پیدائش کا انعقاد انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے تو پھر ناگپور میں ہونے والے آر ایس ایس کے دسہرہ کے اجتماع کو اس سے علیحدہ کیوں رکھا جاسکتا ہے اور ریاست بھر میں ہونے والی دیگر تقریبات کو آخر کس زمرے میں رکھا جائے گا؟۔ حقیقت یہ ہے کہ کانشی رام کی تقریب کا انعقاد ایک بہانہ ہے۔ جن طلبہ کا اخراج کیا گیا ہے انہیں مودی کو خط لکھنے کی پاداش میں سزا دی گئی ہے جو مودی حکومت اور مودی بھکتوں کا نہایت آزمودہ حربہ ہے کہ عوام کو اس قدر خوفزدہ کردیا جائے کہ وہ حکومت کے خلاف آواز تک بلند کرنے کی ہمت نہ کرسکیں۔ کیونکہ اگر خط لکھا جائے گا تو اس پر عمل کی توقع ہوگی اور جب عمل نہیں ہوگا تو شکایت پیدا ہوگی اور شکایت مخالفت کا پہلا مرحلہ ہے ہی۔ لیکن ان اوجھاوں اور کو کون سمجھائے کہ خوف ودہشت کے ماحول سے جب آزادی کی چنگاری اٹھے گی تو کوئی اخراج اور کوئی مقدمہ اسے نہیں روک سکے گا۔

(اعظم شہاب)

Published: 13 Oct 2019, 10:10 PM