مودی-شاہ کے طریقہ کار سے آر ایس ایس ناراض، مرکز پر گرفت کمزور ہونے کا اندیشہ

آر ایس ایس اس بات سے فکر مند ہے کہ حد سے زیادہ نیشنلزم، مذہبی پولرائزیشن اور فرقہ وارانہ تقسیم جیسے فارمولے اپنانے کے باوجود زمینی سطح کی رپورٹ کیوں این ڈی اے حکومت بننے کے اشارے نہیں دے رہی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اوما کانت لکھیڑا

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) میں اس بات کو لے کر بے حد فکر ہے کہ اگر 17ویں لوک سبھا میں بی جے پی ضروری نمبر حاصل کرنے میں ناکام رہی تو اقتدار پر گرفت کے اس کے روڈ میپ پر پانی پھر سکتا ہے۔ ساتھ ہی آر ایس ایس اس بات سے بھی فکرمند ہے کہ حد سے زیادہ نیشنلزم، مذہبی اور ذات پات پر مبنی پولرائزیشن اور فرقہ وارانہ تقسیم جیسے سبھی فارمولے اختیار کرنے کے باوجود زمینی سطح کی رپورٹ کیوں بی جے پی یا این ڈی اے حکومت بننے کے اشارے نہیں دے رہی ہیں۔

عام انتخابات کے چھ مراحل پورے ہو چکے ہیں اور ساتویں و آخری مرحلہ کی تاریخ قریب آتے آتے کافی دھول چھَٹ چکا ہے۔ اب جو تصویر سامنے نظر آ رہی ہے اس سے صاف ہو رہا ہے کہ نہ صرف مرکز بلکہ 2022 میں اتر پردیش میں بھی بی جے پی کی اقتدار میں واپسی مشکل ہے۔

دراصل بی جے پی کے دعووں سے الگ اتر پردیش کو لے کر آر ایس ایس کا اپنا اندازہ بالکل الگ ہے۔ آر ایس ایس نے مان لیا ہے کہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی و بہوجن سماج پارٹی اتحاد اور کئی سیٹوں پر کانگریس کی جانب سے سخت چیلنج ملنے سے بی جے پی اس بار بھنور میں ہے اور اس کے دور رس اثرات 2022 کے اسمبلی انتخابات پر بھی ہوں گے۔

اس کے علاوہ جنوب و شمال مشرق ہندوستان سے مل رہے منفی زمینی اشاروں سے آر ایس ایس کو یہ بھی صاف نظر آنے لگا ہے کہ یو پی میں بی جے پی کو جو زبردست نقصان ہو رہا ہے، اس کا ازالہ باقی ریاستوں سے ہونے کے امکانات ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ یو پی، گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ سمیت جن 8 اہم ریاستوں سے بی جے پی نے 5 سال پہلے زبردست اکثریت حاصل کی تھی، وہاں کانگریس اور علاقائی پارٹیوں نے اس بار بی جے پی کی دولت پر ٹکے تشہیری نظام کو کئی علاقوں میں نہ صرف بے اثر بنا دیا بلکہ اسے بالکل کمزور اور حراساں حالت میں لا کھڑا کر دیا۔

آر ایس ایس کے ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز ذرائع نے اعتراف کیا کہ نیشنلزم کا نعرہ بھلے ہی شہری علاقوں میں بی جے پی کے لیے چلتا ہوا نظر آیا ہو، لیکن مرکز و بی جے پی حکمراں ریاستوں میں ریاستی حکومت کے خلاف اقتدار مخالف رجحان نے دیہی علاقوں، کسانوں اور مزدوروں میں عدم اطمینان کا جذبہ کم نہیں ہو پایا۔ ساتھ ہی ذاتی اور سماجی اتحاد کے حاوی ہونے سے بی جے پی کے کٹر ووٹ بینک میں مایوسی بھی بڑھی۔

آر ایس ایس میں ایک طبقہ اس بات سے لگاتار ناراضگی ظاہر کرتا رہا ہے کہ نیشنلزم کے نعرے سے ہندوتوا اور رام مندر کا ایشو جس قدر الگ تھلگ ہوا، اس سے بی جے پی کو نہ صرف اس الیکشن میں بلکہ آنے والے دنوں میں کافی نقصان ہوگا۔ آر ایس ایس کا ماننا ہے کہ رام مندر تعمیر کی رخنات کو دور کرنے کی جگہ مودی حکومت پانچ سال تک صرف زبانی جمع خرچ کرتی رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ان اہم لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے رام مندر کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں تاخیر کو لے کر 2018 میں کئی بار مودی حکومت کے تئیں اپنی ناخوشی برسرعام ظاہر کی تھی۔

اتر پردیش اور شمالی ہندوستان کے دوسرے حصوں میں بی جے پی کے گھٹتے مینڈیٹ کے لیے آر ایس ایس کا ایک طبقہ واضح طور پر مانتا ہے کہ پرانے اور مضبوط کارکن، خاص طور پر آر ایس ایس سے نکلے لوگوں کو ترجیح دینے کی جگہ مودی-امت شاہ نے پوری بی جے پی کا کردار ہی بدل دیا۔ اعلیٰ لیڈروں کو بے عزت کیا جانا ایک الگ ایشو ہر ریاست میں ہے۔ غصہ اس پر بھی ہے کہ ایسے لوگوں کو ریاستوں میں کمان سونپی گئی جو نہ صرف سینئر لیڈروں کی بے عزتی کرتے ہیں بلکہ ان کی شبیہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔

ہماچل پردیش میں طویل مدت سے آر ایس ایس میں سرگرم ایک اہم آر ایس ایس کارکن کی بات مانیں تو بی جے پی میں پرانی تہذیب میں پلے بڑھے کارکنان کو پارٹی کے اصل دھارے سے دودھ میں مکھی کی طرح بالکل الگ کر دیا گیا۔ یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ نئے لوگ اور ایسے کارکن سے بی جے پی تنظیم کے تئیں جواب دہ نہیں، انھیں ہی ٹکٹ دیے جائیں اور توجہ دی جائے۔ آر ایس ایس کے پرانے لوگ بی جے پی میں اس تبدیلی کو مودی-شاہ کے ذریعہ پیدا کی گئی نئی سیاسی ثقافت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

یو پی بی جے پی اور آر ایس ایس کے قریبی ایک دیگر لیڈر نے مانا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ پچھلے دو سال میں ریاستی انتظامیہ کو جس ڈھرّے پر لے جایا گیا اور سیاسی مخالفین کے تئیں اول جلول تبصرے کیے گئے، اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک دوسرے کو پھوٹی آنکھ نہ سہانے والے ملائم-مایا-چودھری اجیت سنگھ ایک ساتھ آ کر مضبوط اتحاد بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

بی جے پی میں یہ ماننے والوں کی بھی کمی نہیں کہ ہندوتوا کے نام پر بی جے پی کی جانب متوجہ ہونے کی جگہ پسماندہ، انتہائی پسماندہ اور دلت بی جے پی سے دور چلے گئے۔ اس کے علاوہ یو پی میں کانگریس کے ’ایکلا چلو‘ کی سیاست سے بھی آر ایس ایس کی فکر کے کئی واجب اسباب ہیں۔

یو پی میں آر ایس ایس و بی جے پی سے جڑے ایک کارکن نے مانا ’’بھلے ہی ہم نے کانگریس کو طاقت کو شروع میں کم سمجھنے کی کوشش کی، لیکن پرینکا گاندھی کی انتخابی تشہیر کی کمان سنبھالنے کے بعد کانگریس نے اعلیٰ ذاتوں اور اقلیتی طبقہ میں اپنا کھویا ہوا مینڈیٹ واپس لانے کی شروعات کر دی ہے جو بی جے پی کے لیے مستقبل کے خطرے کا اشارہ ہے۔

Published: 15 May 2019, 10:10 AM