بہار: پاٹلی پترا اور سیوان میں سی پی آئی کو حمایت دے کر آر جے ڈی نے بگاڑ دیا بی جے پی کا کھیل

بھلے ہی آر جے ڈی نے بیگو سرائے میں سی پی آئی کے کنہیا کمار کو حمایت نہ دیا ہو، لیکن آرہ میں سی پی آئی-ایم ایل کو اس کی حمایت نے پاٹلی پترا اور سیوان میں بی جے پی کا کھیل خراب کر دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سرور احمد

لالو یادو جب بہار کے وزیر اعلیٰ تھے تو آر جے ڈی اور سی پی آئی (ایم ایل) کے درمیان تلخ رشتے تھے۔ آرہ اور پاٹلی پترا لوک سبھا حلقوں میں دلتوں اور اعلیٰ ذات کے درمیان جدوجہد ہونا عام بات تھی۔ سی پی آئی (ایم ایل) اس کے لیے آر جے ڈی پر الزام لگاتی تھی اور لالو یادو کو اعلیٰ ذات کے زمینداروں کے ہاتھوں میں کھیلنے والا بتاتی تھی، اور بدلے میں لالو یادو سی پی آئی (ایم ایل) پر نکسلیوں سے ملے ہونے کا الزام لگاتے۔

لیکن 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں آر جے ڈی نے اپنے اتحاد سے ایک سیٹ سی پی آئی (ایم ایل) کو دے دی۔ حالانکہ اسی الیکشن میں آر جے ڈی نے سی پی آئی کے کنہیا کمار کے لیے بیگو سرائے سیٹ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ اُدھر سی پی آئی (ایم ایل) نے بھی بدلے میں لالو پرساد یادو کی بیٹی میسا بھارتی کے خلاف اپنا امیدوار نہیں اتارا۔ اب میسا بھارتی کا مقابلہ بی جے پی کے رام کرپال یادو سے ہے۔

امکان ہے کہ اگر سی پی آئی (ایم ایل) اور آر جے ڈی اپنے اپنے ووٹ ایک دوسرے کے حصے میں ٹرانسفر کر پائے تو دونوں ہی سیٹوں پر فتح حاصل ہو سکتی ہے۔ سی پی آئی (ایم ایل) کی تنظیم آئی پی ایف (انڈین پیپلز فرنٹ) ایک بار 1989 میں آرہ لوک سبھا سیٹ جیت چکا ہے۔ اور اب تین دہائی بعد پھر سے اسے جیت کی امید ہے۔ یہاں سے بی جے پی نے سابق آئی پی ایس اور مرکزی وزیر آر کے سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔

اُدھر آر جے ڈی کو اس حساب سے پاٹلی پترا اور سیوان دونوں میں ماحول اپنے حق میں لگ رہا ہے۔ پاٹلی پترا سے میسا بھارتی میدان میں ہیں تو سیوان سے مافیا ڈان شہاب الدین کی بیوی۔ یہ عجیب ہے کہ شہاب الدین پر ہی جے این یو طلبا یونین کے سابق صدر چندر شیکھر کے قتل کا الزام ہے۔ چندر شیکھر سی پی آئی (ایم ایل) کے اسٹوڈنٹ برانچ آئیسا سے جڑے ہوئے تھے۔

شہاب الدین ابھی جیل میں ہیں اور ان کی بیوی حنان شباب آر جے ڈی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ ان کا مقابلہ جنتا دل یو کی کویتا سنگھ سے ہے۔ کویتا سنگھ بھی ایک بدنام زمانہ اجے سنگھ کی بیوی ہیں۔ آر جے ڈی کو امید ہے کہ سی پی آئی (ایم ایل) اس بار حنا شباب کو کامیاب بنانے میں مدد کرے گی۔

پاٹلی پترا میں رہنے والے جے پی تحریک کے سرگرم کارکن کرشن مراری کہتے ہیں کہ ’’رام کرپال کا ووٹ شیئر بھلے ہی کم نہ ہو، لیکن اگر سی پی آئی (ایم ایل) کا ووٹ آر جے ڈی کو ملا تو ان کے لیے مشکل ہوگی۔‘‘

اس سیٹ پر ایک اور بات آر جے ڈی کے حق میں جاتی ہے، وہ یہ کہ آر جے ڈی کے سابق کارگزار صدر رنجن یادو میدان میں نہیں ہیں۔ ایسے میں یہاں یادو ووٹوں کی تقسیم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور اگر آرہ میں آر جے ڈی کی حمایت گل کھلائے گی تو اس کا اثر پاٹلی پترا اور سیوان میں بھی یقینی طور پر پڑے گا۔ اور یہ بہار میں نئے سیاسی اتحاد کی شروعات ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next