تین طلاق کے بہانے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش... نواب اختر

حکومت نے طلاق جیسے حساس مسئلے کو مسلمانوں تک محدود کر کے اکثریتی طبقے کے درمیان پائی جانے والی اس لعنت سے چشم پوشی کی ہے، جس سے ہزاروں خواتین، مردوں یا خاندانوں کی بد سلوکی سے ماری ماری پھر رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

ہر عام انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے صدر جمہوریہ کا خطاب ویسے تو ایک رسم بن گیا ہے لیکن ملک کے باشندوں کے لئے اس کی اہمیت اس لئے ہے کہ صدر جمہوریہ اپنے خطاب کے ذریعہ حکومت کی ترجیحات بیان کرتے ہیں۔ صدر جمہوریہ ملک کے اوّلین شہری کی حیثیت رکھتے ہیں چنانچہ وہ جو کچھ اپنے خطاب میں بتاتے ہیں وہ حکومت کی ذمے داریوں سے متعلق ہوتا ہے۔

جمعرات 20 جون 2019 کو 17 ویں لوک سبھا کے آغاز پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے قومی سلامتی، معیشت، بدعنوانی، کالادھن، خشک سالی اور پانی کے بحران سے متعلق امور پر حکومت کی اب تک کی کوششوں اور مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی متنازعہ طلاق ثلاثہ اور حلالہ جیسے رواج کے خاتمے اور خواتین کے تحفظ کے تئیں حکومت کے عزائم پر بھی روشنی ڈالی، مگر صدرجمہوریہ ہند ملک کے ان بچوں کو یاد نہیں کرسکے جوسرکاری بدنظمی کے سبب آئے دن موت کا نوالہ بن رہے ہیں۔

ملک میں چہارسو بنیادی مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں مگرمودی حکومت نے مسلم خواتین کونام نہاد انصاف اور تین طلاق کی رسم سے نجات دلانے کو ہی مخصوص ایجنڈا بنا رکھا ہے۔ حکومت اوراس کے حواریوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام سے زیادہ عورت کو کسی نے حق نہیں دیا ہے۔ تقریباً1500 سال پہلے سب سے پہلے عورت کو برابری کا حق اسلام نے ہی دیا تھا۔ اسلام میں طلاق اگرچہ جائز ہے لیکن سب سے ناپسندیدہ عمل ہے کیونکہ طلاق کا اثر عورتوں اور کئی خاندانوں پر بہت برا ہوتا ہے۔ کئی خاندان اس سے تباہ و برباد ہوجاتے ہیں اوربہت سی عورتیں اس سے خانماں برباد ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں نے حلالہ کا غلط طریقہ رائج کر کے اس مسئلے کو اور بھی بھیانک بنا دیا۔ ان وجوہات سے غیروں کو اور خاص طور پر اسلام کے دشمنوں کو اسلامی قانون پرانگشت نمائی کرنے اور خرابی تلاش کرنے کا موقع مل گیا۔

مودی حکومت۔1 نے مسلمان عورتوں سے ہمدردی کے نام پر تین طلاق پر قانون بنانے کی کوشش کی حالانکہ اس کا مقصد اکثریتی ووٹ کومتحد کرنا تھا۔ فرقہ پرستوں کی ٹولی نے نام نہاد اعتدال پسند عورتوں کی طرف سے پہلے سپریم کورٹ میں تین طلاق کو غیر قانونی قرار دینے کا مقدمہ دائر کیا۔ سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا۔ بعض ججوں نے اس پر قانون بنانے کی ضرورت بتائی۔ اس طرح بھگوا بریگیڈ کو اور بھی موقع مل گیا کہ وہ تین طلاق کا مذاق اڑائے اور دنیا کو بتائے کہ مسلم خواتین کے ساتھ انصاف کرنے جا رہے ہیں اور ان کو برابر کا حق دلانے جا رہے ہیں۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ یہ مسلمانوں کی دشمنی پر مبنی ہے۔

مودی حکومت نے اپنی دوسری اننگز کی شروعات ہی تین طلاق کے خاتمے کے اعلان سے کی ہے۔ پارلیمنٹ کے پہلے سیشن کے پہلے ہی دن جبکہ صدر جمہوریہ کی تقریر پر ممبرانِ پارلیمنٹ کا جوابی اظہار خیال کرنا تھا، مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے تین طلاق کا بل دوبارہ لوک سبھا میں پیش کرنا چاہا تو اپوزیشن کی طرف سے کافی مخالفت ہوئی لیکن وزیر قانون نے زور زبردستی بل پیش کردیا جس کی کئی ممبران پارلیمنٹ نے مخالفت کی۔ تین طلاق کے مسودہ قانون میں ایک سول معاملہ کو کریمنل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو بنیادی قانون کی دفعہ 15 اور 16 کے خلاف ہے۔

سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا ہے تو ایسی صورت میں شوہر کو جیل کی سزا دلانا انتہائی غیر مناسب ہے۔ حکومت نے طلاق جیسے حساس مسئلے کو مسلمانوں تک محدود کرکے اکثریتی طبقے کے درمیان پائی جانے والی اس لعنت سے چشم پوشی کی کوشش کی ہے جس سے بہت سی عورتوں کو گھر سے بے گھر کر دیا جاتا ہے، وہ در در کی ٹھوکریں کھاتی ہیں، ان کو کوئی پناہ دینے والا نہیں ہوتا۔ ایسی ہزاروں عورتیں ہیں جو مردوں یا خاندانوں کی بدسلوکی سے ماری ماری پھرتی ہیں۔ کیا بغیر کسی امتیاز مذہب و ملت کے ایسی تمام عورتوں کی حفاظت کے لئے قانون نہیں بنایا جاسکتا ہے جس سے ہر فرقہ کے اندر جو خواتین پریشان حال ہیں ان کو قانون کے ذریعہ راحت ملے۔ صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا کہاں کا انصاف ہے؟ کیا یہ امتیازی سلوک نہیں ہے؟۔

اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے جو دلائل پیش کیے گئے حکمراں پارٹی کے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا۔ دراصل حکومت کو معلوم ہے کہ ان کی تعداد اچھی خاصی ہے کہ کوئی کچھ بولے وہ اپنی تعداد کے بل بوتے غلط سے غلط مسودہ بل کو پاس کرالے گی۔

دو تین روز پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی باتیں رکھنے میں تعداد کی کمی کی وجہ سے پس و پیش نہ کریں، لیکن یہ مودی کا اس طرح کی نصیحت اور وعظ ہی ہوتا ہے، جس کا عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں تک عورتوں کے ساتھ انصاف کرنے کی بات ہے تو اس میں سنگھ پریوار کا تضاد بالکل واضح ہے۔ ایک طرف عورتوں کے حقوق کی لڑائی کی بات کی جاتی ہے، دوسری طرف سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود عورتوں کو سبریمالا مندر میں داخل ہونے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ نہ تو سپریم کورٹ کے فیصلے کا لحاظ کیا جاتا ہے اور نہ ہی عورتوں کے حق کی پاسداری کی جاتی ہے۔ یہ حکومت اپنی دوسری اننگ میں ایسی بے معنی چیز سے شروعات کر رہی ہے کہ ابھی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ پانچ سال تک یہ حکومت کیا کچھ کرے گی۔

Published: 23 Jun 2019, 7:10 PM