احتجاجی مظاہروں پر خود سپردگی کا دہراتا سلسلہ... جے دیپ ہاردیکر

مہاراشٹر کے قبائلی ہاسٹل میں عمر کی حد، ڈی بی ٹی کی ناکامی اور حمل کی جانچ جیسے ہتک آمیز فرمانوں کے خلاف طلبا کی ناراضگی نے حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

<div class="paragraphs"><p>قبائلی طالبہ نشا پونے میں راہل گاندھی کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div>
i

مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع کے ایک رہائشی اسکول میں 3 قبائلی طالبات کی سانپ کے کاٹنے سے ہوئی موت سے محض 5 دن قبل، دیویندر فڑنویس حکومت نے حکم جاری کیا تھا کہ ہر قبائلی ہاسٹل میں پلنگ، گدے، کمبل اور تکیے ہونے چاہئیں۔ لیکن ان بدقسمت بچیوں کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ 10 اگست کی رات، دھنورا تحصیل کے جپت لائی آشرم اسکول میں فرش پر سو رہی 6 طالبات کو زہریلے سانپ نے کاٹ لیا، جن میں 3 کی موت ہو گئی۔ باقی 3 میں 14 سالہ سمردھی کی حالت اب بھی سنگین ہے۔ اسے ناگپور کے اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔ 15 دنوں کے اندر حکومت نے اسکول کا لائسنس منسوخ کر دیا اور تقریباً 500 سرکاری امداد یافتہ قبائلی رہائشی اسکولوں کے آڈٹ کا حکم دیا۔

ادھر، حال ہی میں دہلی میں ہوئے طلبا تحریک سے ممکنہ طور پر تحریک لے کر مشتعل قبائلی طلبا سڑکوں پر اتر آئے۔ ان کا مطالبہ متوفی طالبات کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے تک محدود نہیں تھا۔ 17 دنوں تک طلبا پونے کے مانجری میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے۔ آہستہ آہستہ ناگپور، ناسک اور مہاراشٹر کے دیگر حصوں کے طلبا بھی اپنے اپنے شہروں میں اس تحریک سے جڑ گئے۔ احتجاج کا حجم بڑھتا گیا اور آوازیں تیز ہوتی گئیں۔ 29 اگست کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے اور تحریری یقین دہانی کرائی کہ وہ 3 ماہ کے اندر وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گے۔


گڑھ چرولی کا سانحہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں ہے۔ حکام نے بعد میں انکشاف کیا کہ مہاراشٹر کے سرکاری یا امداد یافتہ ’آشرم شالاؤں‘ میں 2 سالوں کے دوران 584 طلبا کی موت ہوئی ہے، جن کی وجوہات میں بیماری اور حادثات سے لے کر سانپ کا کاٹنا اور خود کشی تک شامل ہیں۔ طلبا نے اس انتباہ کے ساتھ اپنی ہڑتال فی الحال واپس لے لی ہے کہ اگر حکومت نے وعدہ پورا نہیں کیا تو وہ دوبارہ احتجاج شروع کر دیں گے۔ ہاسٹلوں، کھانے کے انتظام، اسکالرشپ اور ایسے ہی دیگر مسائل کو متاثر کرنے والے تمام سرکاری قوانین اور احکامات کو لے کر گزشتہ کچھ برسوں سے ان کا عدم اطمینان مسلسل بڑھ رہا تھا، جو اجتماعی طور پر قبائلی تعلیم کے تئیں حکومت کے پورے رویے کی قلعی کھولتے ہیں۔

حال ہی میں فڑنویس حکومت کی جانب سے قبائلی ہاسٹلوں کے لیے نافذ کیے گئے نئے قوانین کو ہی لے لیں۔ 5 اگست کو ہاسٹل کی سہولت حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 26 سال مقرر کی گئی، لیکن احتجاج کے بعد اسے پہلے 39 سال کیا گیا اور پھر 25 اگست کو عمر کی حد ہی ختم کر دی گئی۔ طلبا نے سوال اٹھایا کہ 26، 28 یا 39 سال کی عمر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا قبائلی طالب علم آخر ہاسٹل کے لیے کیوں نااہل ہونا چاہیے؟ قبائلی طلبا لازمی طور پر اس طے شدہ کیلنڈر کے مطابق اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے جسے حکومت معمول سمجھتی ہے۔ غربت، اسکول کی دوری، خراب اسکولی تعلیم، خاندانی ذمہ داریاں اور پڑھائی میں آنے والی رکاوٹیں کسی طالب علم کے کالج کے سالوں کو روایتی عمر سے کافی آگے دھکیل دیتی ہیں۔


کسی دور دراز گاؤں کے قبائلی طالب علم کے لیے کالج میں داخلہ مل جانا ہی پابندیوں سے آزاد ہونے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ریاست کو ان طلبا کے لیے کھانے، کتابوں، دواؤں اور رہنے و پڑھنے کی جگہ جیسی بنیادی ضروریات میں مدد دے کر کالج میں ان کا قائم رہنا ممکن بنانا ہوگا۔ کسی دور دراز قبائلی گاؤں کے طالب علم کے لیے ہاسٹل کی سہولت نہ ملنے کا سیدھا مطلب اعلیٰ تعلیم کے خوابوں کا ٹوٹ جانا ہو سکتا ہے۔

عمر کی ان پابندیوں کے علاوہ، فڑنویس حکومت نے ہر قسم کے احتجاجی مظاہروں پر بھی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور ’آدیواسی حقوق بچاؤ کرتی سمیتی‘ کے مطابق حکومت ریاست کے تمام قبائلی ہاسٹلوں کا انتظام بی جے پی/آر ایس ایس کے قریبی لوگوں کے ذریعے چلائے جانے والے ایک پبلک چیریٹیبل ٹرسٹ کو آؤٹ سورس کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

---


مہاراشٹر نے اپریل 2018 میں وزیر اعلیٰ کے طور پر فڑنویس کی پہلی میعاد کے دوران سرکاری قبائلی ہاسٹلوں کو روایتی کینٹین نظام سے ہٹا دیا تھا اور کھانے کے اخراجات کے لیے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کی شروعات کی تھی۔ حکومت یا ٹھیکیداروں کی جانب سے کھانا فراہم کرنے کے بجائے رقم براہ راست طلبا کے کھاتوں میں جانی تھی۔ یہ رقم کبھی وقت پر نہیں پہنچتی تھی (یہ الگ بات ہے کہ اگر رقم آ بھی جائے تو وسائل کی اتنی شدید کمی کے درمیان اس رقم کا استعمال دیگر ضروریات میں ہو جاتا)۔

قبائلی طلبا نے بار بار ڈی بی ٹی ادائیگیوں اور اسکالرشپ میں تاخیر کی شکایت کی۔ کبھی کبھی یہ تاخیر 2 سال تک بھی کھنچ جاتی تھی۔ کچھ طلبا کو قرض لینا پڑا یا ہاسٹل چھوڑنا پڑا کیونکہ وہ کھانے اور روزمرہ کے اخراجات اٹھانے سے قاصر تھے، یا پھر مقامی کھانے کی دکانوں پر منحصر ہو جاتے تھے جو عموماً انہیں 3 ماہ سے زیادہ کا قرض نہیں دیتی تھیں۔ قبائلی طلبا کے لیے مختص فنڈ کو ’لاڈکی بہن یوجنا‘ جیسی دیگر عوام پسند اسکیموں میں منتقل کرنے کی خبریں بھی آئی تھیں۔ طلبا کے شدید غصے کے بعد اب ریاستی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ ڈی بی ٹی نظام ختم کیا جائے گا اور ان ہاسٹلوں میں مقامی کچن دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔


مہاراشٹر میں تقریباً 500 سرکاری قبائلی ہاسٹل ہیں، جن میں دور دراز گاؤں کے 60-58 ہزار غریب طلبا رہتے ہیں۔ لیکن ان ہاسٹلوں میں اسٹڈی روم، لائبریری، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت کا فقدان ہے اور اکثر پینے کا صاف پانی اور قابل استعمال بیت الخلا جیسی بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔ طلبا چاہتے ہیں کہ ہاسٹلوں کو تعلیمی اداروں، لائبریریوں اور اسپتالوں کے قریب اور عوامی نقل و حمل کی رسائی والے علاقوں میں منتقل کیا جائے۔

---

22 اگست کو پونے میں کانگریس پارٹی کے ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں نشا سابلے نام کی ایک قبائلی طالبہ کے بیان نے طوفان کھڑا کر دیا۔ نشا نے بتایا کہ مہاراشٹر کے قبائلی ہاسٹلوں میں چھٹیوں سے واپس آنے والی طالبات کا زبردستی حمل کا ٹیسٹ کرایا جا رہا تھا۔ یہ معاملہ پہلی بار گزشتہ سال کے آخر میں سامنے آیا تھا اور ریاست کے قبائلی فلاحی محکمہ کی جانب سے اس کی جانچ کے احکامات دیے گئے تھے۔ اس معاملے میں دستاویزی ریکارڈ انتہائی کم ہیں۔ ہاسٹل کی طالبات کی صحت کے معائنے سے متعلق سرکاری قوانین میں ایسے کسی حمل کے ٹیسٹ کا انتظام نہیں ہے۔ مقامی قبائلی ترقیاتی افسران نے بتایا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔ لیکن 23 ستمبر 2025 کو مہاراشٹر ریاستی خواتین کمیشن کی جانب سے پونے کے واکڑ واقع قبائلی طالبات کے ہاسٹل کے اچانک معائنے کے اگلے ہی دن پونے کے سول سرجن نے میڈیا کو بتایا کہ چھٹیوں سے واپس آنے والی لڑکیوں کے حمل کے ٹیسٹ کے لیے طبی عملے کو زبانی ہدایات دی گئی تھیں۔


اب بھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ جانچ کس کے کہنے پر کرائی جا رہی تھی اور اگر اس مقصد کا کوئی تحریری حکم نہیں تھا تو زبانی ہدایات کس نے دی تھیں؟ تاہم، یہ بات پوری طرح ناقابل یقین لگتی ہے کہ کسی اعلیٰ سطحی ہدایت کے بغیر ریاست کے کئی قبائلی ہاسٹلوں میں ایسے ٹیسٹ کیے گئے ہوں۔

---

احتجاج کرنے والے قبائلی طلبا نے درج فہرست قبائل (ایس ٹی) امیدواروں کے لیے محفوظ ہزاروں خالی عہدوں کو بھرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ریاست میں ایسے تقریباً 12,500 عہدے خالی پڑے ہیں۔ انہوں نے جعلی ذات کے سرٹیفکیٹس اور پیسا (درج فہرست علاقوں میں رہنے والی قبائلی برادریوں کے خود حکمرانی کو فروغ دینے والا قومی قانون) کے تحت ایس ٹی ریزرویشن اور بھرتیوں کے تحفظ کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ اصلی ایس ٹی امیدواروں کو اکثر اپنے درجے کو ثابت کروانے کے لیے سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے، جبکہ جعلی سرٹیفکیٹ ایس ٹی کے لیے محفوظ عہدوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔


مہاراشٹر میں قبائلی طلبا کے لیے اسکیموں کی کمی نہیں ہے۔ سرکاری محکمے ہیں، پورٹل ہیں، فلاحی اسکیمیں ہیں اور اس کے لیے ذمہ دار افسران بھی ہیں۔ اصل مسئلہ سیاسی عزم اور ان اسکیموں کو زمین پر نافذ کرنے کی نیت کے فقدان کا ہے۔ لیکن احتجاج کے اس دور میں ایسا لگتا ہے کہ ریاست کے قبائلی طلبا نے بھی مان لیا ہے کہ اب پانی سر سے اوپر نکل چکا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔